مذہبی ہم آہنگی

تحریر:فرحت حسین

عربی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ’’ اس کی بنیاد معلوم نہ ہو سکی جس سے
تنازع  شروع ہوا تھا‘‘ فرقہ وارانہ فساد کی بنیاد بھی کچھ اسی  نوعیت کی
ہیں  بلکہ اکثر ایسا  ہی ہوتا کہ فرقہ واریت کا جس سے آغاز ہوتا ہے اس
کا لوگوںکو علم نہیں ہوتا۔ میری مراد  مسالک کا اختلاف نہیں فساد کی
بنیاد ہے ۔فساد سے  ہر کوئی نفرت کرتا ہے چاہےجس مذہب و مسلک یافرقے سے
بھی اس کا  تعلق ہو ۔یہ انسانی فطرت ہے کہ الفت و محبت کے ماحول میں رہنا
پسند کرتا ہے لڑائی جھگڑے اور فساد سے نفرت سے کرتاہے ۔جس کے بارے میں وہ
علم نہیں رکھتا اس سے خوف کھاتا ہے ۔اگرانسان کو آگاہی و آشنائی
ہوجائے تو اس کے سامنے حقائق کھلنے لگیں تو ان چیزوں سے وہ محبت کرتا ہے
اور اگر اس سے حقائق پوشیدہ ہوں  تو اس سے وہ اکثر  محبت نہیں کرپاتا۔
مذاہب کا معاملہ بھی کچھ اس طرح کا ہے کہ لوگوں کو مذہبی معاملات میں
آگاہی کم ہوتی ہے تو اس سے سو ءِ استفادہ کیا جاتا ہے ۔اور ان کو غلط
بریفنگ کرکے ان سے مختلف کام لیے جاتے ہیں جس سے سادہ لوح لوگ خود کش
حملے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں ۔ اگر آگاہی آجائے تواس سے اس قسم کی
مجرمانہ کاروائیایوں سے محفوظ رہتے ہیں،  نہ صرف امن و آشتی  رہتی ہے
بلکہ  لوگوں میں ترقی کا رجحان ہوتا ہے۔اس کی مثالیں بہت ساری ملتیں ہیں۔
جدید دور کے ترقی یافتہ ممالک جس میں امریکہ شامل ہے  اسمیں بہت
سارےادارے موجود ہیں ان میں سے صرف ایک  مثال پیش کرتا ہوں   ۔امریکہ کے
ایک چرچ میں ادارہ  محفوظ جنت(Safe haven)ہے ۔جس کو غریب عوام کی مدد کے
لیے بنایا گیا اسمیں مفت کھانا غریبوں میں تقسیم کیاجاتاہے اور اس میں
تمام مذاہب و مسالک  کےوہ غریب لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کے پاس کھانے کے
لیے کچھ نہیں ہوتا اس کے قریب ایک مسجد ہے جس میں بھی اسی طرز کا فلاحی
کام ہوتا تھا ان کے  درمیان جمع یوں ہوئی کہ مسجد میں تمام لوگ ناشتہ
کرتےہیں اور دوپہرکا کھانا چرچ میں کھاتے  ہیں۔جس سے بہت بڑی تعداد
غیرمسلم مسجد میں ناشتہ کرتی ہے اور  مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد دوپہر کا
کھانا چرچ میں کھاتی ہے۔اسلامی ممالک میں بہت زیادہ مثالیں موجود ہیں ان
میں سے ملک ایران جو ایک اسلامی ملک ہے اس میں تمام مسلمان ایک ہی مسجد
میں نماز ادا کرتے ہیں  ایران میں اہل سنت، اہل تشیع اور اہل حدیث  تمام
ایک ہی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں ۔اسی طرح غیرمسلموں کے ساتھ ایران میں
کافی حد تک ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔اسلامی ممالک میں زیادہ مختلف مذاہب
والے لوگ بستے ہیں جن کا برتاؤ ایک دوسرے کےساتھ اچھا ہے جیسا کہ پاکستان
کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک بستی نیران پورا جس کی آبادی تقریبا 300
خاندانوں پر مشتمل ہے ۔پاکستان میں غیر مسلموں کی سب سے بڑی آبادی شمار
ہوتی ہے  1924 سے آباد ہے جس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ
رہتے ہیں جن میں تین بڑے مذاہب پیش پیش ہیں ہندو،مسیحی اور سکھ شامل ہیں
ان میں ہندو کی سب  سےزیادہ تعداد ہے اس کےبعد مسیحی اور تیسرے نمبر پر
سکھ برادری شامل ہے ۔ان  تمام مذاہب  کے سکول کالجز اور بچوں کے کھیل کود
کے  میدان ایک ساتھ ہے ان کی عبادت گاہوں میں دوسرے مذہب والےچلے جائیں
تو کچھ نہیں ہوتا  اور انکی  عبادت گاہیں محفوظ بھی ہیں  زندگی کے اچھے
لمحات بسر کررہیں ہیں ان میں سے ایک برادری کی دوسرےمذہب کے ماننے والے
کے ساتھ رشتہ داری بھی  ہے اس کے لیے ان کےخوشی غمی رسومات میں ایک دوسرے
کےساتھ شریک ہوتے ہیں ۔  ان کے اندر ایک امید کی کرن موجود ہے جس کی ایک
دوسرے مذاہب والوں کے ساتھ دوستیاں موجود ہیں ۔ آپ نے کبھی اس آباد ی
کےبارے کوئی بڑا فساد نہیں سنا ہوگا ۔اوراسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب
میں لاہور کے قریب جگہ موجود ہے جہاں مسلمانوں کے تمام مسالک کے لوگ ایک
چھت کے نیچے نماز جمعہ ،نماز جماعت اورنماز عیدین ادا  کرتے ہیں یہ لاہور
سے تقریبا 35 کلومیٹرکے فاصلہ پر ایک قصبہ مریدکے ہے جس کا گاؤں’’ قلعہ
ٹھلیاں والا‘‘ واقعہ ہے جس میں اہل سنت اور اہل تشیع حضرات کی بہت بڑی
آبادی موجود ہے جس میں آدھے سے زیادہ اہل سنت اور باقی شیعہ حضرات
موجود ہیں وہ تمام کے تمام لوگ آپس میں رشتہ دار ہیں ان کے آپس میں
رشتوں کا لینا دینا ہوتا ہے دل چسپ بات یہ ہے کہ جب نکاح خان نکاح پڑھتا
ہے تو جس مسلک سے دلہا ہوتا ہے اس مسلک کا عالم دین نکاح پڑھتا ہے مگر
دوسرے مسلک کے عالم دین کو ھدیہ یا تحفہ دیا جاتاہے بلکہ دینا ضروری
سمجھا جاتا ہے  ’’ جملہ معترضہ آگیا ہے  یہ خداکی عجب مخلوق ہے کسی جگہ
مولوی حضرات نے یہ مشہور کیا ہو اہے کہ شیعہ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھنے
سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے جبکہ یہاں دوسرے مسلک کے مولانا حضرات کو تحفہ نہ
دیا جایا تو نکاح گویا مضبوط نہیں ہوتا ‘‘ اور اس طرح جب محرم الحرام کا
مہینہ جس میں عزداری   ومجلس عزا ہو تو شیعہ حضرات  پروگرام منعقد کرتیں
اور ان کے ساتھ اہل سنت کے لوگ ان کے لیے حفاظت کرتےہیں اسی طرح اگر
اہلسنت کا پرگرام ہوتا شیعہ حضرات ان کے واعظ و پروگرام کی حفاظت کرتے
ہیں ۔اسی طرح محرم کے 40 روز تک یعنی چہلم امام حسین علیہ السلام تک
شیعیہ حضرات  کے گھر میں کھانا نہیں پکاتے  اہلسنت کے گھروں سے کھانا
آتا ہے ، مذہبی ہم آہنگی کی مثالوں سے یہ سبق ملتا ہے جس طرح ایک مسلک
و مذہب کا،  فرد  دوسرے کو تحفہ دے تو ان کےدرمیان پیا ر و محبت میں
اضافے کا باعث ہے اس طرح ہم معاشرے میں موجود   مشترکہ دشمن(معاشرے کا
دشمن ) کو زیر کر سکتے ہیں ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو اس طرح تبدیل کر یں جس سے
معاشرہ جنت کا نمونہ پیش کرنے لگے کیونکہ جنت تو تمام مسالک اور اسلام کے
علاوہ تمام مذاہب والے  لوگ خواں ہیں ۔ یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم اپنے
نصاب تعلیم میں بہت بڑی تبدیلی کریں کچھ اس طرح سے کہ  جب بچہ میٹرک کر
رہا وہو تو اس کے دل میں مسلمانوں کے تمام مسالک اور غیرمسلم  افراد کے
حق میں محبت پیدا ہو۔محبت پیدا کرنے کےلیے  مشترکہ معیارات موجود ہیں جن
کو ہم فالو(پیروی) کرسکتے ہیں مثلا ہمدردی کا اشترک انسان ہونے کے ناطے
ایک معاشرے کے افراد دکھی انسانیت کی خدمت کے ایک نکتہ پر جمع ہو سکتے
ہیں ۔دکھی انسانیت کی خدمت ہر مذہب سکھاتا ہے ۔معاشرے میں رہنے والے
لوگوں کا  اپنے خداکے بارے میں نظریہ تو مختلف ہوسکتا ہےایک فرد کا خدا
ایک شی ہو اور دوسرے فرد کا خدا کوئی دوسرا ہوا  مگر  جب روڈ پر جاتے
ہوئے ایکسیڈنٹ کو دیکھیں تو اس  وقت مریض کی عیادت اور اس کو اٹھا کر
مرہم پٹی کرنے کی  ہمدردی تو ساروں میں موجود ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here