مذہب کی اصل ذھب ہے جس کا معنی راستہ ہے کسی بھی شخص کی حیات  میں  زندگی
گزارنے کے طریقہ کار کو بھی مذہب سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔البتہ اگر زندگی
گزارنے کے راستے جدا جدا ہو ں تو کوئی عیب نہیں جب ان تمام راستوں کی
منزل ایک ہو۔لہذا منزل مقصود کا اتحاد راستوں کی جدائی  سے فرق نہیں ڈال
سکتا ۔تمام مذاہب کی تعلمیات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے نتیجہ میں
ایک واضح سے بات سامنے آتی ہے کہ تمام مذاہب کے سنہری اصول ملتے جلتے
ہیں ان کے نام محتلف  ہوسکتیں ہیں  مگر ان کا  مقصد اور ھدف ایک ہو مثلا
تمام مذاہب میں عبادت کا تصور ،سچائی کا تصور ،نیکی کا تصور ،جھوٹ کی
مذمت،کسی کے خلاف بجا بولنے کی مذمت وغیرہ اسی طرح معملات   میں برابر
تولنے ،چیز کی اصل اور نقل  کی تفصیلات کو ذکرکرنے ،سود کی حرمت ،اسی طرح
اخلاقیات ہیں بڑوں کا احترام ،استاد کا احترام ،والدین کی عزت ،بڑوں کا
کہنا ماننا ،کسی کی چغل خوری سے پرہز ،وغیرہ ۔۔۔۔۔

یہ ہی وجہ ہے آج اس جدید دور میں تمام مذاہب و مسالک کے لوگ ایک جگہ
اکٹھا ہونے کو ترجیح دے رہیں ہے ۔اس کی اسلامی ممالک میں بہت بڑی بڑی
مثالیں ملتیں۔اسلامی ممالک میں ایران کودیکھ  لیں تو اس میں بین الاقوامی
ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں دنیا بھر سے مختلف مذاہب اور مختلف
مسالک کے لوگوں نے شرکت کی

اسی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ایک ایسا فتوی جاری کیا جس میں تمام
مسالک کے لوگ متفق تھے ان جہاد صرف ریاست کاحق ہے ۔تکفیر صرف ریاست کرے
گئی اور تمام مذاہب کے مقدسات کی توہین حرام ہے ۔مصر میں جامعۃ الازہر نے
ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جامعہ الازہر جو کہ مصر میں اہل
سنت کا سب سے بڑا مرکز شمار ہوتا ہےجس میں 28 فرووری سے یکم مارچ2017 تک
انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے
والے مذہبی قائدین تشریف لائیں اسی طرح مسلمانوں کے تمام مسالک بھی
آئےعلامہ احمد علی طیب جو کہ سربراہ جامعہ الازہر نےخطاب میں تمام مذاہب
کے قائدین کو خوش آمدید کہا ۔

اسلامی فلسفے کو دیکھا جائے تواسلام امن کا دین ہے لیکن اس کے ساتھ سزا
کا تصور بھی دیتا ہے ۔تاکہ معاشرے میں توزن و اعتدال برقرار رہے اگر
معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو اس میں موجود بدامنی کے ناسور کو
ختم کرنا ہوگا جب تک اس کو اسلامی پیراے میں سزا نہ دی جائے تب تک یہ
بدامنی کا ناسور باقی رہے گا اور معاشرے کی اچھاہوں کو دیمک کی کھاتا رہے
گا اور لوگوں کو بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا ہے تو اس میں عدل وانصاف
کانظام لانا ہوگا اسی لیے مشہور قول موجود ہے ک حکومت کفر سے تو باقی رہ
سکتی ہے مگر ظلم وبدامنی سے باقی نہیں رہ سکتی ۔

میں نے خبر پڑھی کہ اقوم متحدہ نے 2018میں فروری کا پہلا ہفتہ مذہبی ہم
آہنگی کے طورپر منانے کا اعلان کیا۔اس قسم کے اعلانات اور پروگرامز
منعقد کرنا بہت احن قدم ہے بلکہ معاشرے کے لیے  سب سے مفید اقدام ہے یہ
ہفتہ تک محدود نہ رہے بلکہ ہر دن اور ہر لمحہ یہ سوچ پید ا ہو جائے تو
بہت اچھا ہے ۔اس معاشرے میں  امن آسکتاہے اور معاشرے کے وہ افراد جن کو
جہالت کی بنیاد پر مذہب کے نام پر غلط استعمال کیا جاتا ان کو آگاہی
آجائے گی اور اس بے راہ روی سے بچ جائے گئے ہیں ۔البتہ بدقسمتی سے کہا
جاسکتاہے کہ  اس کے عوام یا خواص تک کسی قسم کے آثار نظر نہیں آئے۔لہذا
ٹوٹل پورا کرنا مقصود نہ بلکہ عملی طور پر اس میں تمام لوگوں کو شریک
کیاجائے تو بہتر نتائج حاصل  کیے جاسکتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here