قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین دنیائے اسلام کے سلگتے مسائل ہیں، جنہیں حل کئے بغیر دنیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں، بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، شہ رگ کسی کے قبضے میں ہو تو قوم کیونکر اطمینان و سکون سے رہ سکتی ہے، 
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر سے آئے ہوئے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر و فلسطین ایسے سلگتے مسئلے ہیں جنہیں حل کیا جانا ضروری ہے، 1947ء سے آج تک ان دونوں اہم مسئلوں کے حل کیلئے ایسا لگتاہے کہ کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی، اگر کہیں کوئی سلسلہ چلا بھی تو اسے مصلحت کہیے یا مفادات، پائیدار حل کی جانب آگے نہ بڑھ سکا، انہوں نے کہاکہ سرزمین فلسطین ہمارے لئے اس لئے بھی مقدس ہے کہ قبلہ اول کی سرزمین کو صیہونیت کے ناپاک تسلط سے آزاد کرانا ہماری ذمہ داری اوردینی فریضہ ہے جبکہ مسئلہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ انہوں نے بابائے قوم حضرت قائد اعظم ؒ کے فرمودات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ جناب محمد علی جناح ؒ نے دنیا پر دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے جس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا، ہندوستان کا کشمیر پر قبضہ ناجائز اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے لیکن افسوس حقوق بشیریت کیلئے صدائے احتجاج بلند کرنیوالوں اور آسمان سرپر اٹھانے والوں کی زبانیں معلوم نہیں کیوں اسرائیل و بھارت کیخلاف گنگ ہیں ۔
علامہ ساجد نقوی کہاکہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ اور شہ رگ ہے کوئی قوم بھی اپنی شہ رگ کسی کے قبضے میں رہتے ہوئے کیونکر اطمینان و سکون سے رہ سکتی ہے، انہوں نے کہاکہ یہ دونو ں اہم معاملے اقوام متحدہ میں موجود ہیں لیکن افسوس معمولی سے معمولی بات پر واویلا کرنیوالی عالمی برادری کو اسرائیلی و ہندوستانی جارحیت و زیادتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہاکہ دنیا اگر پائیدار امن کی خواہاں ہے اور چاہتی ہے کہ دنیا امن کا گہوارہ بن جائے تو مسئلہ کشمیر و فلسطین کو حل کرنا ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ مظلوم فلسطینی و کشمیری بھائیوں کی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے اور اس زیادتی کیخلاف عوامی سطح پر صدائے احتجاج بھی بلند کرتے رہیں گے ۔ 
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو کشمیر پر قبضہ ختم کر دینا چاہیے اور کشمیری عوام کو آزادانہ رائے استعمال کرنے کا حق دینا چاہیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here