مقبوضہ کشمیر :جبر و استبداد کی بھارتی کارروائیوں کیخلاف مکمل ہڑتال
مقبوضہ کشمیر :جبر و استبداد کی بھارتی کارروائیوں کیخلاف مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر :جبر و استبداد کی بھارتی کارروائیوں کیخلاف مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر میں جموںوکشمیر کے سٹیٹ سبجیکٹ کے قانون35۔ اے میں ترمیم، جماعت اسلامی پر پابندی ، محمدیاسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں اور بھارتی تحقیقاتی ادارے ’این آئی اے‘ کے چھاپوں کیخلاف مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہڑتال کی کال مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ 
قابض انتظامیہ نے لوگوں کوبھارت مخالف مظاہروں سے روکنے کے لیے سرینگر کے مختلف علاقوں میں پابندیاں نافذ کر دی تھیں اور بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے تھے ۔ پابندیوں کے باعث مسلسل دوسرے ہفتے بھی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی۔ انتظامیہ نے سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور آغا سید حسن الموسوی کو گھروں میں نظر بند رکھاجبکہ بھارتی پولیس نے جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد رفیع ننھا جی کو سرینگر میں گرفتار کر لیا۔
حریت رہنماؤں اور کارکنوں نے تمام تر پابندیوں کے باوجودسرینگر، بڈگام اور دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے جماعت اسلامی پر لگائی گئی پابندی کے فوری خاتمے اور محمد یاسین ملک سمیت تمام سیاسی نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ 
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فو رسز نے جنوری 1989 سے اب تک 95 ہزار316 شہریوں کو شہید کیا جن میں ہزاروں خواتین شامل ہیں۔ جنوری 2001 سے اب تک کم از کم 667خواتین شہید کر دی گئی ہیں۔ جنوری 1989سے جاری مسلسل ریاستی دہشت گردی کے باعث 22 ہزار 899خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے 11 ہزار 113خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایا ۔ آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے پر غیر قانونی نظر بندی کا سامنا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here