مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاریمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاری
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاری

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی ریاستی دہشت گردی جاری

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کے دوران ضلع پلوامہ میں11 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔ 
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے تین نوجوانوں کو محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں زبردست مظاہرے ہوئے ۔ بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے گولیاں ، پیلٹ اور آنسو گیس کے گولے چلائے جس کے نتیجے میں نوجوان شہید جبکہ 250سے زائد زخمی ہوگئے۔ قابض انتظامیہ نے سرینگر، بڈگام، پلوامہ، اسلام آباد، شوپیاں اور کولگام کے اضلاع میں موبائل فون انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔ انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں ریل سروس بھی معطل کر دی۔ 
نوجوانوں کی شہادت پر طلباءسمیت لوگوں نے سرینگر ، سوپور اور دیگر علاقوں میں زبردست مظاہرے کیے۔ انہوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ کشمیر یونیورسٹی کے طلباءنے شہید نوجوانوں کی غائبانہ نمازجنازہ ادا کی۔ 
پلوامہ میں نوجوانوں کے بہیمانہ قتل پر احتجاج کیلئے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت کی کال پر مقبوضہ علاقے میں تین روز ہڑتال کا آغاز ہو گیا۔ مشترکہ حریت قیادت نے نوجوانوں کے قتل پر احتجاج کیلئے پیر کو سرینگر کے علاقے بادامی باغ میں قائم بھارتی فوجی چھاؤنی کی طرف مارچ کی بھی کال دی ہے۔
میر واعظ عمر فاروق نے اپنے ایک ٹویٹ میں بھارت سے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی نسل کشی بند کرے۔ 
جموںوکشمیر محاذ آزادی نے اپنے بانی رہنما صوفی محمد اکبرکے یوم وفات پر سرینگر میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ بشیر احمد بٹ ، شبیر احمد ڈار، میر محمد اقبال، جاوید احمد میر اور امتیاز احمد ریشی سمیت حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے کشمیر کازکے لیے صوفی اکبر کی خدمات اور قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ 
ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند کشمیریوں کو بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here