ملک کے تمام مسالک میں ہم آہنگی موجود ہے، ترجمان قائدملت جعفریہ
ملک کے تمام مسالک میں ہم آہنگی موجود ہے، ترجمان قائدملت جعفریہ

ملک کے تمام مسالک میں ہم آہنگی موجود ہے، ترجمان قائدملت جعفریہ
کچھ گروہوںکو پال کر گروہی اختلافات بڑھانے کی کوشش کی گئی جسے اتحاد کے ذریعے ناکام بنایا، مذہبی قیادت اور عوام انتہا پسندوں سے نفرت اور انہیں ملک و ملت کا دشمن سمجھتے ہیں، ترجمان

 اسلام آباد25 ستمبر 2018 ء( جعفریہ پریس   ) قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے کہاہے کہ ملک کے تمام مسالک میںہم آہنگی موجود ہے 57 سے زائد اسلامی ممالک میں صرف پاکستان واحد ملک ہے جہاں تنظیمی شکل میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی موجود ہے، ”گدلے پانی میں مچھلی کے شکار “ کے لئے ماضی میں چند گروہ پال کر انہیں فرقہ واریت کیلئے استعمال کیاگیا، بیرونی فنڈنگ بھی دلائی گئی ، ملک میں مسالک کی قیاد ت سے لے کر عوام تک انتہا

پسندوں کے مخالف اور نفرت کرتے ہیں البتہ کچھ گروہ شر پسندی کی سازشیں ہمیشہ سے کرتے رہے۔
 ان خیالات کا اظہار ترجمان نے وفاقی وزیر مذہبی امور کے ایک بیان پر کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جس طرح مسالک کی تنظیمی طور پر ہم آہنگی جس طرح ملی یکجہتی کونسل سے لے کر متحدہ مجلس عمل کی شکل میں موجود ہے اس کی نظیر 57اسلامی ممالک میں کہیں نہیں ملتی، یہ امتیاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ کسی کانفرنس یا سیمینار یا کسی اجتماعی پروگرام کی حدتک نہیں بلکہ تنظیمی شکل میں اتفاق و اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم ہے جو گزشتہ کئی عشروں سے قائم ہے۔ پاکستان میں ہی ایسا معاشرہ قائم ہے جہاں متفرق اور مخلوط خاندان ہیں ، آپس کی رشتہ داریاں اور تعلقات ، احترام کا قدیم رشتہ قائم ہے جس کیلئے جہاں ملی یکجہتی کونسل، متحدہ مجلس عمل ا ور مسالک کے بانیاں نے کردار ادا کیا وہاںعوام نے خود بھی اپنے دشمن کو پہچانا، ایک سازش کے تحت ملک میں گروہ بندی کرانے کی کوشش کی گئی، مختلف گروہوں کو پال کر فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی اور ”گدلے پانی میں مچھلی کے شکار “کے لئے معاشرے کو انتشار میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی لیکن سنجیدہ قیادت اور عوام کے سنجیدہ حلقو ں نے اس سازش کو بھانپتے ہوئے اتحاد کے ذریعے اسے ناکام بنایا ، ا ٓج بھی مسالک کی قیادت اور عوام انتہا پسندی

سے نہ صرف نفرت کرتے ہیں بلکہ اسے ملکی سلامتی کیلئے انتہائی قبیح اور مکروہ حیلہ سمجھتے ہیں۔
 ترجمان کا مزید کہنا تھاکہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی ملک میں اتحاد بین المذاہب و مسالک کے بانیان میں ہیں جنہوںنے ایک مشکل ترین دور میں اپنی دور اندیشی کے ذریعے امت کو تقسیم ہونے نہ صرف بچایا بلکہ ملک میں امن و امان کے قیام اور رول آف لاءکے قیام کیلئے اپنی انتھک جدوجہد بھی کی اگر یہ سعی نہ کی جاتی تو ملک میں کشت و خون ہوتا، افسوس اسلامی فلاحی مملکت کے نام پر معرض وجود میں آنیوالی ریاست میں فرقہ وارانہ گروہوں کوکھل کھیلنے کی اجازت دی گئی اور ان کی پشت پناہی کی گئی،اب بھی وقت ہے ہمیں بیانات کی بجائے سنجیدہ اقدامات اٹھاتے ہوئے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here