ملی یکجہتی کونسل کو دستور کے مطابق نہ چلایا گیا تو راہیں جد ا ہوسکتی ہیں،ترجمان اسلامی تحریک پاکستان

ملی یکجہتی کونسل کو دستور کے مطابق نہ چلایا گیا تو راہیں جد ا ہوسکتی ہیں، اسلامی تحریک پاکستان
ملی یکجہتی کونسل میں تسلسل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے اور ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ غیر دستوری عمل ناقابل قبول ہے ، ترجمان اسلامی تحریک
دستور میں عہدوں کا تقرر صدر کرے گااور اس کے بعد مجلس قائدین سے منظوری لے گالیکن اعلامیہ میں کھلواڑ نقطہ عروج پر پہنچ گیا
راولپنڈی /اسلام آباد 13اگست 2021ء( جعفریہ پریس پاکستان )اسلامی تحریک پاکستان کے ترجمان کہتے ہیںکہ اگر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کو دستور کے مطابق نہ چلایا گیاتو راہیں جدا ہوسکتی ہیں ۔ ملی یکجہتی کونسل کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے اور ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ غیر دستوری عمل ناقابل قبول ہے،دستور میں عہدوں کا تقرر صدر کرے گااور اس کے بعد مجلس قائدین سے منظوری لے گالیکن اعلامیہ سے یہ واضح ہو گیا کہ کھلواڑ نقطہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ترجمان نے مزید کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے عہدیداران کا تقرر کا اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے مطابق نو منتخب صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مجلس قائدین کے فیصلوں کے مطابق مرکزی عہدیداروں کی تقرری کر دی لیکن دستور کے مطابق یہ اختیار صرف صدر کو حاصل ہے جس کی منظوری مجلس قائدین سے لے گا، اس طرح دستور کے مطابق سینئر نائب صدر ایک ہوتا ہے جبکہ اعلامیہ میں ایک جم غفیر کو سینئر نائب صدور بنا دیا گیا ہے۔اسلامی تحریک پاکستان کے ترجمان نے اس کھلواڑ اور ہائی جیکنگ کے تاثر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان کی طرف سے یہ طے کیا جارہاہے کہ اسلامی تحریک پاکستان کا کوئی نمائندہ ملی یکجہتی کونسل کے کسی بھی مشاورتی یا باقاعدہ اجلاس میں شریک نہ ہو اور اگراصلاح نہ کی گئی اور یہ سلسلہ جاری رہا تو اسلامی تحریک پاکستان اپنا نام ملی یکجہتی کونسل سے واپس لے سکتی ہے جس کے بعد اس کا حصہ نہیں رہے گی ۔