بسم اللہ الرحمن الرحیم
نبی اکرم ﷺ بطور امین رسول
علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان
تاریخ ِ انسانی اور رائج معاشرتی اصطلاحات میں ”امین“ کا مطلب عام طور پر مادی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے یعنی ایک انسان نے کسی دوسرے انسان کے سپرد کوئی مادی چیز کی یاکسی انسانی گروہ نے کسی دوسرے گروہ کے حوالے کوئی رقم‘ کوئی مال‘ کوئی ذخیرہ یا کوئی علاقہ عارضی طور پر کیا اور دوسرے انسان یا گروہ نے دی گئی امانت میں کسی قسم کی تبدیلی‘ سرقہ‘ چوری یا قبضہ نہیں کیا بلکہ طے شدہ یا گزری ہوئی مدت کے بعد وہ امانت پہلے انسان یا گروہ کو واپس لوٹا دی تو انسانی معاشرے نے اس شخص یا گروہ کو امانتدار یا امین کے نام سے یاد کیا۔ امین ہونا انسانی معاشروں میں ایک اعلی قدر ہے بڑی نیکی ہے ایک شرف و مرتبت ہے۔ امانتدار انسان معاشرے کو اعتماد یافتہ ہوتا ہے اس خوبی کے سبب امین کے ارد گرد لوگ اس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے ہیں حتی کہ اپنی عزتیں اور نفوس بھی اس امین کے سپرد کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ امانتداری کا وصف اگرچہ مذہب اور مسلک کا محتاج نہیں بلکہ یہ انسانی شرف سے منسلک ہے لیکن اسلام نے اس شرف کو شریعت کی تائید سے نوازا ہے اور امین کے لیے دنیوی اور اخروی سعادت اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔
ہمارے معاشروں کا عام رویہ اور عادت یہی ہے کہ لوگ عام طور پر دو وجوہات کی بنیاد پر کسی کے پاس اپنی امانتیں رکھتے ہیں۔ پہلی وجہ امین کا امیر ہونا ہے یعنی اگر امین مالی اور دنیاوی لحاظ سے صاحب ِ ثروت اور جاہ و مال کا مالک ہوگا تو اسے امانت میں خیانت کرنے کی حاجت نہیں ہوگی اور امیر آدمی طاقت کا حامل بھی ہوتا ہے اس کا گھر اور امانت خانہ چوروں کی پہنچ سے محفوظ ہوتا ہے اس لئے لوگ آسانی سے اپنی امانتیں اس کے سپرد کرتے ہیں دوسری طرف کسی غریب کو امین نہیں سمجھا جاتا کیونکہ جہاں وہ خود محتاج اور فقیر ہوتا ہے اور مال و دولت کا خواہاں ہوتا ہے وہاں اس ضرورت کی وجہ سے خیانت کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے یعنی وہ اپنی غربت ختم کرنے کے لیے امانتوں میں خیانت کر سکتا ہے جبکہ ایک غریب کا گھر چوروں کی دسترس سے بھی محفوظ نہیں ہوتا غریب کا اپنا اثاثہ جب چوروں کی پہنچ سے دور نہیں تو اگر غریب کے گھر میں کسی کی امانت موجود ہو اس کا انجام کیا ہوگا؟ اس انجام کے خوف سے لوگ کسی غریب کے پاس امانت نہیں رکھتے۔
تاریخ ِ اسلام ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اہل ِ مکہ کی غالب اکثریت کفار و مشرکین پر مشتمل تھی جبکہ بنو ہاشم کا خانوادہ دین ِ ابراہیم یعنی اسلام پر کاربند تھا۔ تمام تر اختلاف کے باوجود مکہ کے کفار و مشرکین خانوادہ بنو ہاشم کا احترام کرتے تھے اس احترام کے پس منظر میں بنو ہاشم کا اعلی ترین کردار اور شریفانہ اندازِ زندگی تھا۔ حضور اکرم نور ِ مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ اگرچہ آپ کی ولادت سے ہی آپ کے نبی اور رسول ہونے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے مگر اعلان ِ نبوت سے قبل اہل ِ مکہ آپ کو بنو ہاشم کا ایک فرد اور اپنے معاشرے کا حصہ انسان سمجھتے تھے۔ لیکن حضور اکرم ؐ نے اپنے بچپن سے ہی خود کو دوسروں سے الگ اور منفرد انداز میں پیش کیا۔ زبان سے بھی اور عملی کردار سے بھی خود کو دیگر اہل ِ مکہ سے منفرد حیثیت کا حامل ثابت کیااسی اعلی کردار کا اثر ہے کہ اہل ِ مکہ نے آپ کو دیگر بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ”صادق“ اور ”امین“ یعنی سب سے زیادہ سچ بولنے والا اور سب سے زیادہ امانتدار تسلیم بھی کیا اور خود مشہور بھی کیا۔ انہی کفار و مشرکین نے مکہ سے باہر دیگر اقوام اور ممالک میں حضور اکرم ؐ کی صداقت اور امانت کی خود مشہوری اور تشہیر کی۔
امانت اور صداقت کا یہ دور بہت خوبی سے آگے بڑھ ررہا تھا۔ اہل ِ مکہ اپنی قیمتی امانتیں حضور اکرم ؐ کے پاس رکھ رہے تھے اور آپ ﷺ بغیر کسی فیں بغیر کسی کمیشن بغیر کسی ٹیکس بغیر کسی کٹوتی اور بغیر کسی حصہ کے وہ امانتیں طویل عرصہ اپنے پاس رکھ رہے تھے اور اصل حالت اور مقدار میں واپس بھی لوٹا رہے تھے۔ اسی اثنا میں حضور اکرم ؐ نے اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ یہ تبلیغ اہل ِ مکہ کے لیے ناگواری کا باعث تھی لیکن اس ناگواری کے باوجود اہل مکہ نے آپ ؐ کو صادق اور امین ماننا ترک نہیں کیا۔ پھر آپ ؐ نے ان کے خداؤں کو چیلنج کرنا شروع کردیا تب ان کے لیے سنگین صورت حال بن گئی اہل مکہ نے اختلاف میں شدت پیدا کردی حتی کہ حضور ؐ پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا لیکن پھر بھی یہ کم نصیب لوگ حضور ؐ کی صداقت اور امانت پر سوال نہیں اٹھا سکے۔ اعلان ِ نبوت کے بعد حالات اس قدر پریشان کن ہوگئے کہ حضور اکرم ؐ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ شب ِ ہجرت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مکہ میں رہ جانا اور نبی اکرم ؐ کے گھر میں سونا بلکہ آپ ؐ کے بستر پر سونا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ ہجرت تک اہل ِ مکہ کی امانتیں حضور اکرم ؐ کے پاس موجود تھیں اور وہ اس لمحے تک آپ ؐ کو صادق بھی مانتے ہیں اور امین بھی۔ حضرت علی ؑ کو اپنے ساتھ نہ لے جانے اور بستر پر سلانے کی یہ تمام تر کاروائی ان امانتوں کو واپس لوٹانے کے لیے تھی اس سے یہ پہلو بھی واضح اور روشن ہوتا ہے کہ امین کا وارث بھی امین ہونا چاہیے صرف یہ نہیں کہ وارث پر صرف امین کو اعتماد حاصل ہو بلکہ جن کی امانتیں ہیں انہیں بھی امین کے وارث پر اعتماد ہونا چاہیے یہی وجہ ہے کہ جب اگلے دن حضرت علی ؑ نے وہ ساری امانتیں لوگوں کے سپرد کیں تو کسی نے نہیں کہا کہ میری امانت میں خیانت کو کجا کوئی کمی بیشی ہی واقع ہوئی ہے؟ یہیں سے ایک اور بات واضح ہوتی ہے کہ جو رسول ؐ لوگوں کی دی ہوئی دنیاوی اور مادی امانتوں میں رتی برابر خیانت نہیں کرتا وہی رسول ؐ اپنے اللہ کی طرف سے بھیجی گئی امانت یعنی دین اور قرآن میں کیسے اپنی مرضی کرسکتا ہے؟ اسی طرح جو علی ؑ اپنے نبی ؐ کی دی ہوئی دنیاوی امانتوں میں ذرہ برابر خیانت نہیں کرتا اور اصلی حالت میں لوگوں تک پہنچاتا ہے وہی علی ؑ اپنے نبی ؐ کے دین اور تعلیمات کو لوگوں تک پہنچانے میں کیسے اپنی مرضی کرسکتا ہے؟
قرآن کریم میں تقریبا ً پانچ انبیاء کو ”رسول ِ امین“ یعنی امانتدار رسول کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان میں حضرت موسی ؑ‘ حضرت ھود ؑ‘ حضرت شعیب ؑ‘ حضرت لوط ؑ‘ اور حضرت صالح ؑ شامل ہیں۔ جس بنیاد پر اللہ نے انہیں رسول ِ امین کہا ہے وہ کسی مالی یا دنیاوی لحاظ سے نہیں بلکہ نبوت و رسالت کی امانت پہنچانے کے لحاظ سے ہے۔ لیکن ان پانچ انبیاء اور ہمارے پیارے نبی ؐ میں ایک ایسافرق موجود ہے جو فضیلت میں زمین و آسمان جیسی حیثیت رکھتا ہے وہ فرق یہ ہے کہ ان پانچ انبیاء نے اپنی اپنی امتوں اور قوموں کو خود باور کرانے کی کوشش کی اور ان کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اللہ کی طرف سے رسول ہیں بلکہ امین رسول ہیں یعنی وہ تمہارے سامنے جو بات کرتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی ان تک پہنچتی ہے اور پھر وہی بات تم تک پہنچاتے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرکے فلاح پاؤ لیکن اس کے باوجود ان پانچ انبیاء کی اقوام و امتوں نے ان کے امین رسول ہونے پر یقین نہیں کیا یہاں تک کہ وہ عذاب سے دوچار ہوئیں۔ لیکن ہمارے نبی ؐ کو خود امین رسول منوانے سے پہلے ہی لوگوں نے خود امین مان لیا۔ اسی صداقت اور امانت سے مزیّن کردار تھا جس کے سبب جب آپ ؐ نے اعلان ِ نبوت کیا تو لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے کیونکہ وہ اعلان ِ نبوت سے پہلے ہی آپ کو امین رسول مانتے تھے۔
قرآنی انداز اور منطقی اصول کے مطابق امین ہونا فقط مال ِ دنیا کے حوالے سے نہیں بلکہ معنوی اور فکری لحاظ سے ہے۔ یعنی کوئی بات ایک شخص سے معاشرے کو منتقل کرنا بھی امانت کہلاتا ہے۔ کوئی حکم ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانا بھی امانت کہلاتا ہے۔ کوئی عمل اور کردار ایک فرد سے لے کر اجتماع تک پہنچانا بھی امانت کہلاتا ہے۔ اور کوئی شریعت یا نظام انسانی معاشروں تک پہنچانا بھی امانت کہلاتا ہے۔ معنوی اور فکری اعتبار سے ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے اللہ کی طرف سے بھیجی گئی وحی کو حرف بہ حرف ہم تک پہنچایا ہے اور پھر اسے قرآن کی شکل میں رقم کروا کر قیامت تک ہماری رہنمائی کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے اللہ تعالی کے ارسال کردہ تمام احکام کو من و عن ہم تک نہ صرف زبانی پہنچایا بلکہ اپنی سیرت و کردار سے عمل کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ اعلی ترین امین ہے۔ ہمارا رسول اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے ختم نبوت و رسالت کی مہر حاصل کرکے آنے والی دنیا کے لیے ایسا بند باندھا کہ اب کوئی انسان اگر نبوت و رسالت کا دعوی کرے گا تو اسے امین نہیں بلکہ خائن سمجھا جائے گا۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ دھوکہ نہیں کیا بلکہ ہماری دنیاوی فلاح کے لیے بھی کارگر احکام چھوڑے اور ہماری آخرت کی کامیابی کے لیے بھی مستند فارمولے حوالے کیے۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے ہمارے اور ہمارے اللہ کے درمیان رشتے کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مضبوط کردیا تاکہ ہم اپنے خدا کا قرب حاصل کرکے تقوی کے اعلی معیار پر فائز ہو سکیں۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے اپنی ذاتی اطاعت اور تشہیر کے لیے ہمیں اپنا امتی نہیں بنایا بلکہ اس نے اپنی اطاعت کو محض ذریعہ اور وسیلہ بناتے ہوئے اصل ہدف اللہ کی اطاعت قرار دیا۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے بعض دیگر انبیاء کی طرح اپنی امت اور قوم کے عذاب اور بربادی نہیں چاہی بلکہ خود پر ظلم و ستم اور اذیتیں سہہ کر امت اور قوم کے لیے نجات اور عاقبت کی دعائیں کیں۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ وہ اپنی امت اور قوم پر عذاب ڈلوا کر خوش نہیں ہوتا بلکہ اپنے امتی کے لیے شفاعت کی آخری حدوں تک چلاجاتا ہے تاکہ میرا امتی کسی نہ کسی طرح عذاب سے بچ جائے۔ ہمارا رسول ؐ اس لئے بھی امین ہے کہ اس نے اپنے امتیوں کے گناہوں کے نتیجہ میں ان کی شکلیں جانوروں میں تبدیل ہونے اور مسخ ہونے کے عمل کو اللہ سے خصوصی التماس کے ذریعہ رکوایا یہ امین رسول نہ ہوتا تو سوچیے کہ آج ہم اپنی اعمال کی وجہ سے کس کس شکل میں تبدیل ہوچکے ہوتے اور ہو رہے ہوتے۔
ہم اپنے امین رسول ؐ کی کونسی کونسی امانت کا ذکر کریں اور کس کس امانت پر نبی ؐ کا اور نبی ؐ کے خدا کا شکر ادا کریں؟؟ یقینا ہمارے نبی ؐ جیسا امین کائنات میں کوئی نہیں اور نہ کوئی ہوگا۔ سید انور حسین نفیس نے کیا خوب کہا تھا۔
اے رسول ِ امیں خاتم المرسلین
تجھ سا کوئی نہیں تجھ سا کوئی نہیں۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here