قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے کوئٹہ مسجد رحمانیہ دھماکے کی مذمت
allama sajid alنواسہ رسول اکرم حضرت امام حسن قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے کوئٹہ مسجد رحمانیہ دھماکے کی مذمتعلیہ السلام کے یوم ولادت پر  قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغامi naqvi

نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسن علیہ السلام کے یوم ولادت پر

 قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

راولپنڈی/اسلام آباد 20 مئی019 ء(  جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان ا علامہ سید ساجد علی نقوی نے نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر کہاکہ امام حسن علیہ السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔ آپ کے علم‘ حلم‘ جلالت اور کرامت میں عکس رسول اکرم واضح طور پر نظر آتا ہے۔

آپ وارث علیؑ و نبی ہونے کے ناطے حضرت علی علیہ السلام کے بعد امامت کا درجہ رکھتے ہیں آپ نے جس انداز میں ظاہری زندگی بسر فرمائی اور امن و اخوت اور صلح و محبت کی لاثانی روایات قائم کیں ان سے سیرت رسول کی عکاسی ہوتی ہے۔ صلح امام حسن علیہ السلام عالم اسلام کے لئے نقطہ آغاز کا مقام رکھتی ہے جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق‘ جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

 

حضرت امام حسنؑ نے جن مشکل‘ کٹھن اور سنگین حالات میں امت مسلمہ کو جنگ اور فساد سے بچانے کے لئے اور اسلام کی بقاءکے لئے اپنے حریف سے صلح کی یہ ان کے کردار کی خصوصیت اور سیرت کا امتیاز ہے۔ تنگ نظری‘ ذاتی خواہش اور انفرادی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے حصول اور اسلام کے استحکام کے لئے باہمی رواداری اور صلح و محبت کا ماحول بناکر آپ نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جس طرح نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ نے اپنے حریف سے تاریخی صلح کرکے اسلام اور امت مسلمہ کو انتشار سے بچالیا اسی طرح اتحاد و اخوت اور وحدت مسلمین کے لئے ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے پاکستان انتشار و افتراق سے بچ گیا ہے اور پاکستانی عوام اخوت کی لڑی میں پروئے جاچکے ہیں۔ لہذا ایسی خدمات سے انحراف کرنے والوں کو نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ کے افکار اور سیرت سے استفادہ کرنا چاہیے۔

 

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج کے اس کٹھن دور میں جب مسلمان فرقہ واریت‘ مسلک پرستی‘ دہشت گردی اور اخلاقی جرائم میں مبتلا ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے اور اختلافات کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لئے باہمی صلح و رواداری کو فروغ دیا جائے اور فروعی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے سینکڑوں مشترکات پر بلاتفریق فرقہ و مسلک جمع ہوکر اسلام و مسلمین کو متحد کیا جائے اسی سے دین اسلام کو مستحکم ہوگا اور مسلمان ‘خدا کی دنیا کے وارث ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here