ٓآئینی و قانونی حقوق پر اقدامات نہ کئے گئے تو بھرپور احتجاج کا حق رکھتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان

 ”ٹھوس اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہم بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔“

بیدار باش

آپ نے ملاحظہ کیا کہ
ستم بالائے ستم کے تحت زیاد تیوں کی
تفصیل جاری کی گئی جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔

بے سروپاحقائق کے برعکس رپورٹس بنوا کر عزادار عوام کی توہین و تذلیل،خوف و ہراس پھیلانااور کھلی دھمکیاں دینا،رات کے اندھیرے میں گھروں میں کود کر خواتین کو ہراساں کرنا ،مردوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے تشدد اور گالم گلوچ،چادر اور چاردیواری کے اندر بھی ذکر حسین پر بے تحاشا مقدمات حتیٰ کہ ایک پروگرام پر دس دس مقدمات ،بڑی ڈھٹائی سے عزاداری کو جرائم میں شامل کرنا،بے بس اور مجبور لوگوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر زندگیاں اجیرن کرنا ،عقیدت اور محبت کے تحت معمول کے مطابق پیدل چل کر جلوس یا مجالس میں شامل ہونے پر بھی FIRsکی یلغار۔
آخر میں کہا گیا :۔
” عوام کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ
کے لیے قانونی حق استعمال کیا جا سکتا ہے۔ “

اس تناظر میں
بھرپورعلماءو ذاکرین کانفرنس کے اعلامیہ کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
ہمارے پیارے وطن کی بنیاد دین اسلام ہے اور اسلام ہی کو آئین پاکستان میں سپریم لاءقرار دیا گیا ہے تاہم ایک عرصے سے سرکاری اہلکار مخصوص ایجنڈے کے تحت مکتب تشیع کی عبادات و مذہبی رسومات میں بے جا غیر ضروری و غیر آئینی رکاوٹیں ڈال کر وطن عزیز کو کمزور کرنے پر کاربند ہیں اور اپنے مذمومانہ اقدامات کے ذریعے مکتب تشیع کو
براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں اور وطن عزیز کے فدا کار، محب وطن وابستگان مکتب تشیع کو دیوار سے لگانے اور انہیں ان کے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کرنے کی سازشوں میں تیزی لا رہے ہیں۔
اس کے بعد اعلامیہ میں چند منفی اقدامات کا تذکرہ کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ ہم بحیثیت مکتب تشیع مذکورہ آئین شکن اقدامات پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔
عظیم الشان کانفرنس کی چندقرار دادوں کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
٭ عزاداری ہماری شہ رگِ حیات ہے اور عزاداری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں اور سازشیں ہمارے لیے ناقابل قبول ہیں اورہم ان رکاوٹوں اور سازشوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
٭ عزاداروں کے خلاف فورتھ شیڈول سمیت دیگر تمام اقدامات و جھوٹے مقدمات فی الفور واپس لیے جائیں۔
٭ نصاب مرتب کرتے ہوئے اس کے تمام مراحل کو تمام مکاتب فکر کی متفقہ رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
٭ مراسم عزاداری کو میڈیا پر بھر پور کوریج دی جائے تاکہ وحدت امت کو تقویت حاصل ہو سکے۔
٭ وطن عزیز کے قانون ساز اداروں میں مذہبی معاملات کے حوالے سے کی گئی کوئی بھی قانون سازی اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگی جب تک اس پر تمام مکاتب فکر کی متفقہ رائے نہ لے لی جائے۔
آخر میں کہا گیا کہ:۔
”ٹھوس اور فوری اقدامات نہ کئے گئے
تو ہم بھر پور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں“۔

توجہ کیجئے
سلجھے ہوئے اور مہذب انداز میں علماء،ذاکرین اور عوام کا موقف ذمہ داروں کے سامنے رکھ دیا گیا ہے مثبت اقدامات کی توقع کی جا سکتی ہے۔
البتہ ضرور مد نظر رکھیئے
ستم بالائے ستم کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ:۔
” آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لئے قانونی حق استعمال کیا جا سکتا ہے۔“
علما و ذاکرین کانفرنس کی قراردادوں کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ:۔
”ٹھوس اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہم بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔“

شیعہ علماءکونسل پاکستان 20اکتوبر 2021ئ

علماء و ذاکرین کانفرنس کا اعلامیہ پڑھیں