٘محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ

یہ 11 ستمبر 1948 کی بات ہے جب پاکستانی قوم اپنے قائد محمد علی جناح کے سائے سے محروم ہوئی۔

12 ستمبر 1948 کو نماز فجر سے پہلے محمد علی جناح کے جسد خاکی کو حاجی ہدایت حسین عظیم اللہ عرف حاجی کلو نے غسل میت دیا۔

نماز فجر کے بعد مولانا انیس الحسنین نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں سید ہاشم رضا، سید کاظم رضا، یوسف ہارون اور دیگر عمائدین نے شرکت کی۔

شام تین بجے محمد علی جناح کا جنازہ گورنر جنرل ہاؤس سے روانہ ہوا جس گاڑی پر جناح کا جنازہ رکھا ہوا تھا، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان، وزیر خارجہ سر محمد ظفر اللہ خان، سردار عبدالرب نشتر، پیرزادہ عبدالستار، جوگندر ناتھ منڈل، پیر الٰہی بخش اور میران محمد شاہ وغیرہ پیدل چل رہے تھے۔

جلوس کے پیچھے ایک کار میں محترمہ فاطمہ جناح، بیگم صغرا ہدایت اللہ اور محمد علی جناح کی صاحبزادی دینا واڈیا تھیں جو دوپہر کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بمبئی سے کراچی آئیں۔

اس دوران کراچی کے کمشنر سید ہاشم رضا اور ان کے بھائی پولیس چیف سید کاظم رضا رات بھر کراچی میں گھومتے رہے اور آخر کار وہ اس جگہ کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہو گئے جہاں محمد علی جناح کی تدفین ہونا تھی۔

ساڑھے چار بجے جلوس جنازہ نمائش کے میدان پہنچا جہاں مولانا شبیر احمد عثمانی نے جناح کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد تدفین کا مرحلہ شروع ہوا اور 12 ستمبر 1948 کو شام چھ بج کر 24 منٹ پر جناح کا جنازہ قبر میں اُتار دیا گیا۔