پاکستان اسلامی جمہوری ملک، خود مختاری کےلئے دباﺅ سے پاک خارجہ پالیسی ضروری ہے ،  قائد ملت جعفریہ
پاکستان اسلامی جمہوری ملک، خود مختاری کےلئے دباﺅ سے پاک خارجہ پالیسی ضروری ہے ،  قائد ملت جعفریہ

پاکستان اسلامی جمہوری ملک، خود مختاری کےلئے دباﺅ سے پاک خارجہ پالیسی ضروری ہے ،  قائد ملت جعفریہ ساجد نقوی
بھارت دھمکیوں کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے، کشمیری عوام پر ظلم و ستم نام نہاد جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
پاکستان ایٹمی قوت ، کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا، استعمار نے ہمیشہ اسلامی قوت کو انتشار کاشکار کیا، اب چوکنا رہناہوگا، وفودسے گفتگو

اسلام آباد21 فروری 2019 ( جعفریہ پریس   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں پاکستان اسلامی جمہوری ملک ہے،خودمختاری کےلئے کسی بھی دباﺅ سے پاک خارجہ پالیسی متعین کرنا ہوگی، ہمسائیوں سمیت پوری دنیا سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کئے جائیں، بھارت آئے روز دھمکیاں دینے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکے، کشمیریوں پر آئے روز ظلم و ستم اسکی نام نہاد جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے،پاکستان ایٹمی قوت ، کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا، امہ کے مسائل کا حل اتحاد میں مضمر، غیروں کے ہاتھوں میں کھیلنے کی بجائے او آئی سی کو آئی سی یو سے نکال کر صحیح معنوں میں فعال کیا جائے،ہمیشہ سے استعمار نے اسلامی دنیا کی طاقت کو کمزور کرنے کےلئے اور اسرائیل کو دوام بخشنے کےلئے مسلم ممالک میں اختلافات و جنگ کی آگ بھڑکائی، اب چوکنا رہنا ہوگا۔ 

    ان خیالات کا اظہار انہوںنے مختلف وفود سے ملاقاتوں اور حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ پاکستان کو اس وقت معاشی ، سیاسی سمیت کئی چیلنجز اور بحرانوں کا سامنا ہے ، ملکی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ داخلی اور سیاسی طور پر مضبوط کیا جائے جبکہ خارجہ امور پر مضبوطی کےلئے بھی داخلی استحکام ضروری ہے،خود مختار قومیں کبھی کسی دباﺅ کا شکار نہیں ہوتیں ،آزاد خارجہ پالیسی کے تعین کےلئے بھی روڈ میپ وضع کیا جائے تبھی پاکستان کا وقار دنیا میں مہذب طور پر بلند ہوگا اور بیرونی دنیا پاکستان کی جانب مائل ہوگی۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھاکہ بیرون ممالک کے وفود، سربراہوں کا یہاں آنا اور پاکستانی قیادت کا بیرون ملک دورے کرنا معمول کی بات ہے البتہ ہمیں اس تمام صورتحال میں اپنے مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھنا ہوگا ، ہماراواضح اور دوٹوک موقف ہے کہ ہمسائیہ ممالک سمیت پوری دنیا سے برابری کی سطح پر تعلقات استوار کئے جائیں، چونکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ریاست ہے اس لحاظ سے اسلامی دنیا کے ساتھ بھی بہترین تعلقات نہ صرف خود پاکستان کے مفادمیں ہیں بلکہ بین الاقوامی بدلتے تناظر میں متحداسلامی قوت ہی آنیوالے چیلنجز کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ 
    علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان خوددہشت گردی کا شکار رہا دنیا اسے فراموش نہ کرے، بھارت دھمکیوں کی بجائے اپنی پالیسیوں پر غور کرے، کشمیر میں جس طرح مظلوم عوام پر ظلم و ستم روا رکھا گیاہے تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے ،مقبوضہ کشمیر کی حسین وادیاں لہو رنگ ہیں جو بھارتی نام نہاد جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ کشمیر و فلسطین جیسے مسائل، افغانستان و عراق ، شام سمیت اسلامی دنیا میں انتشار اس لئے آج تک ختم نہیں ہوسکا کہ امہ متحد نہیں بلکہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمیشہ استعمار نے اسلامی دنیا کو کمزور کرنے اور اسرائیل کو دوام بخشنے کےلئے مسلم ممالک میں اختلافات و جنگ کی آگ بھڑکائی ، امہ کو اب ہوش کے ناخن لیتے ہوئے او آئی سی کو آئی سی یو سے نکال کر فعال کرنا ہوگا یہی وقت کی بھی ضرورت ہے اور اسلامی دنیا کی بقاءکےلئے بھی ضروری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here