پاکستان کا آئین خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کر تاہے ، علامہ عارف واحدی 
پاکستان کا آئین خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کر تاہے ، علامہ عارف واحدی 

پاکستان کا آئین خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کر تاہے ، علامہ عارف واحدی 
 اسلامی معاشرہ میں عورت کو ایک خاص مقام حاصل ہے ، اسلام آباد میں مظاہرہ کرنیوالی خواتین کا طریقہ کار غیر اسلامی ،حکومت کارروائی عمل میں لائے۔
حضرت فاطمةالزہرا عالم نسواں کیلئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں ،سیرت زہرا ؑپر عمل کرتے ہوئے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے ۔مرکزی سیکرٹری جنرل

راولپنڈی/اسلام آباد 12مارچ 2019ء(جعفریہ پریس   )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا ہے کہ اسلامی معاشرہ میں عورت کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور پاکستان کا آئین خواتین کو مکمل تحفظ فراہم کر تاہے ، اسلام آباد میںعالمی یوم خواتین کے موقع پر مظاہر ہ کرنے والی خواتین کا طریقہ کار غیر اسلامی و غیر اخلاقی تھا، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یوم نسواں کے موقع پر ہونے والے مظاہرے میں خواتین کے ہاتھوں میں اٹھائے گئے کتبوں پر تحریر اسلامی معاشرہ نہیں بلکہ یورپی کلچر کی عکاس نظر آئی اس سلسلے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ منتظمین کےخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اس لئے کہ اسلامی ملک میں آزدی نسواں کی آڑ میں فحاشی قابل قبول نہیں ۔ علامہ عارف حسین واحدی کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ اور اسلام پر ہے اور ہمیں اپنے معاشرے میں بیگاڑ پید ا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دینی چاہیے ، انہوںنے مزید کہاکہ حضرت فاطمةالزہرا خواتین کیلئے قیامت تک نمونہ عمل ہیں ،سیرت زہرا ؑپر عمل کرتے ہوئے عورت حقیقی معنوں میںعظمت حاصل کرسکتی ہے ۔ آزادی نسواںکے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں البتہ سیرت زہرا کی روشنی میں عظمت خواتین کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میںعظمت حاصل کرسکتی ہے ۔ معاشروں کی تعمیر کرسکتی ہے نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے ،سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اپنے ذاتی‘ اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندانی‘ ذاتی معاملات سے لے کر اجتماعی وسیاسی معاملات تک ہر موقع پر سیدہؑ کی شخصیت کو مدنظر رکھیں اور حیاءکا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ اسلام آنے سے قبل دور جاہلیت میں خواتین کو توہین و رسوائی کا سبب سمجھا جا تا تھا اور لڑکی پید ا ہونے پر اسے زندہ درگورکر دیا جاتا تھا مگر اسلام نے حقیقی معنوں میں عورت کو عزت و عظمت عطاکی ، پر دہ اسلام کی ایک اہم اصل اور ضروریات دین میں سے ہے، یو رپ نے عورت کے سر سے پردہ اتار کر عزت نہیں بخشی بلکہ توہین کی ہے لیکن قرآن پاک ہمیں درس دیتا ہے کہ ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیںاور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیںاور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں“ لہذا ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اسلام کے بتائے ہوئے راستے پرعمل پیراں ہوتے ہوئے معاشرے کو بگڑنے سے بچائیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here