• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

سپریم کورٹ کی کارروائی اور فیصلے بھی اردو میں ہونے چاہیں، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

پیغمبر اکرمﷺ نے جاہلیت کی رسوم اور اصرو اغلال کا خاتمہ کیا، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

پیغمبر اکرم نے جاہلیت کی رسوم اور اصرو اغلال کا خاتمہ کیا، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی حالات کابے لاگ جائزہ لے کہ معاشرہ یہاں تک کیسے پہنچا، قائد ملت جعفریہ
اتھارٹی سیرت پیغمبر اکرم سے ایک ایسا مقبول نسخہ تجویز کرے جس سے پاکستان میں موجود اس قسم کی جاہلیت کا خاتمہ کیا جاسکے
سانحہ سیالکوٹ کو مذہبی رنگ دیا گیا،اگر توہین ہوئی ہے تو قانون موجود ہے کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ و ہ اس کو بنیاد بنا کر سزا دینا شروع کردے
راولپنڈی /اسلام آباد 6دسمبر 2021 ء ( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہپیغمبر اکرم نے جاہلیت کی رسوم اور اصرو اغلال کا خاتمہ کیا، نیشنل رحمت اللعالمین اتھارٹی حالات کابے لاگ جائزہ لے کہ معاشرہ یہاں تک کیسے پہنچا اور اتھارٹی سیرت پیغمبر اکرم سے ایک ایسا مقبول نسخہ تجویز کرے جس سے پاکستان میں موجود اس قسم کی جاہلیت کے آثار اور واقعات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ سیالکوٹ کو مذہبی رنگ دیا گیا اگر توہین ہوئی ہے تو ملک میںآئین و قانون موجود ہے کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ وہ اس کو بنیاد بنا کرسزا دینا شروع کردے البتہ سانحہ سیالکوٹ کی جامع اور مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں جب معاشرے میں عدم برداشت ، مارپیٹ ، جلاﺅ گھیراﺅ، لاقانونیت اورتشدد کا عنصر پیدا ہو نا شروع ہوجائے تو معاشرے کی اصلاح کیلئے جہاں ریاست کو اقدامات اٹھانے چاہیں وہاں معاشر ے کی اصلاح، انتہاءپسندی کے خاتمے کےلئے علمائے کرام، اساتذہ کرام، میڈیا سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگاتاکہ قوم کی اصلاح ہوسکے اور وہ صحیح معنوں میں مہذب قوم بن سکے ، انوسٹی گیشن اور پراسیکوشن کا عمل کسی دباﺅ کے بغیر غیر جانبدار انہ اور شفاف طریقے سے انجام دیا جائے تاکہ عدلیہ ملک میں عدل و انصاف کی فراہمی کویقینی بناتے ہوئے کیس کو منطقی انجام تک پہنچا سکے اور سانحہ سیالکوٹ جس سے ملک کا امیج بین الاقوامی سطح پر متاثر ہورہاہے اس کو بحال کرنے میں معاون ہو سکے اور ملک دیگر مذاہب کیلئے امن و آتشی کا مرکز نظر آئے اور اسلام کا حقیقی روشن چہرہ دنیا کے سامنے آسکے ۔