چیف جسٹس کا بیان خوش آئند، آئین کی بالادستی ہمارا روز اول سے مطالبہ رہا، ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان
چیف جسٹس کا بیان خوش آئند، آئین کی بالادستی ہمارا روز اول سے مطالبہ رہا، ہے قائد ملت جعفریہ پاکستان
چیف جسٹس کا بیان خوش آئند، آئین کی بالادستی ہمارا روز اول سے مطالبہ رہا
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
مساوی انصاف ، حقوق کی فراہمی سے ہی ملک نہ صرف مستحکم بلکہ ترقی کرےگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 شہری آزادیوں پر قدغنیں نہ لگائی جائیں یہ کسی بھی جمہوری، خود مختار اور آزاد ملک کے شایان شان نہیں۔

 اسلام آباد/راولپنڈی 12 ستمبر 2019 ء( جعفریہ پریس ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں ہر روز اول سے قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں اس ملک کے مسائل کا واحد حل آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہے، افسوس ماضی میں بھی عزم کا اظہار ضرور کیا جاتامگر اس کے باوجود شہری آزادیوں پر قدغنیں برقرار رہیں، کمزور کو انصاف کی رسائی سہل نہ ہوسکی، کرپشن اور رشوت ستانی سے معاشرہ جان نہیں چھڑا سکا ، چیف جسٹس آف پاکستان کا عدالتی سال کے آغاز پر بیان خوش آئند ، مساوی انصاف کی فراہمی سے ہی نہ صرف ملک مستحکم ہوگا بلکہ ترقی کی جانب گامزن بھی ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے چیف جسٹس آف پاکستان کے نئے عدالتی سال کے آغاز پر خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے معاشرے میں پیدا ہونیوالی برائیوں اور قانون کی حکمرانی میں حائل رکاوٹوں بارے نشاندہی کی ہم بھی عرصہ سے یہی مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راز اس کے قوانین پر عملدراری میں ہوتاہے، یہاں قوانین پر قوانین بنادیئے جاتے ہیں اور نئے قوانین بدلتے وقت کے ساتھ ضروری بھی ہوتے ہیں البتہ پہلے سے موجو د قوانین پر عملدرآمد نہ ہوتو پھر صرف کاغذی کارروائیوں سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارا واضح اور دوٹوک موقف رہاہے کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی خدمات انجام دینا چاہئیں، آئین سب سے بڑی اور متفقہ دستاویز اس کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ضروری تبھی ریاستی رٹ قائم رہ سکتی ہے، مساوی حقوق ، مساوی انصاف کی فراہمی ہر شخص کے بنیادی حقوق میں آتاہے۔ چیف جسٹس نے درست کہاکہ کسی کی آواز یا رائے دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتاہے، ہم بھی یہی مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ شہری آزادیوں پر قدغنیں نہ لگائی جائیں یہ کسی بھی جمہوری، خود مختار اور آزاد ملک کے شایان شان نہیں ، آزادی اظہار ، اپنا مافی ضمیرپیش کرنا بھی شہری آزادیوں کے زمرے میں آتا ہے، مگر افسوس غریب اور متوسط طبقہ آج بھی مشکلات کا شکار، انصاف کی رسائی اسکے لئے سہل آج بھی نہیں؟ ماضی میں بھی عزم کا اظہار ضرور ہوا مگر عملدرآمد نہیں ہوا، اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجویز بھی آئی مگر اس پر بات آگے نہ بڑھی، تمام اکائیوں سے مشاورت کی تجویز بھی آئی مگر یہ بات بھی آگے نہ بڑھ سکی، اس موقع پر ہم ایک مرتبہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ توازن کی ظالمانہ پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی ہر ایک کےلئے یقینی بنائی جائے، شہری آزادیاں بحال کی جائیں، سیاسی طور پرلوگوں کو اپنا فیصلہ ضمیر کے مطابق کرنے کا مکمل حق دیا جائے اگر ان اصولوں پر کام شروع ہوجائے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب نہ صرف ملک میں استحکام آئےگا بلکہ داخلی طور پر مضبوط ہوتے ہوئے ہم ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھیںگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here