تحریر۔ علامہ محمد رمضان توقیر
مرکزی نائب صدر اسلامی تحریک پاکستان
قبلہ اول یعنی بیت المقدس کی عزت ‘ حرمت اور حیثیت کے بارے میں ہر مسلمان کا ایمان رکھنا اس لیے لازم ہے کیونکہ اس کا تعین خود اللہ تعالی نے اپنے کلام مجید میں فرمادیا ہے ۔مکہ معظمہ میں بیت اللہ کومرکز عبادت اور جائے حج و عمرہ قرار دینے سے قبل بیت المقدس ہی عالم اسلام کا ہی نہیں بلکہ تمام الہی مذاہب کے نزدیک محترم و متبرک مقام کا حامل رہا ہے۔ یہودی و مسیحی اسے اپنے عقیدے اور زاویے سے مانتے ہیں لیکن ان کے ہاں کعبۃ اللہ کا مقام کسی لحاظ سے بطور قبلہ موجود نہیں ہے لیکن عالم اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ قبلہ اول اور قبلہ دوم یعنی موجود قبلہ (کعبہ شریف) پر مساوی ایمان رکھتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے نزدیک جتنا مقام و عزت خانہ کعبہ کے لیے ہے اتنی ہی عزت بیت المقدس کے لیے ہے اور اسے آج بھی اللہ کے گھر اور انبیاء کی نشانی قرار دیا جاتا ہے۔
جب سے قبلہ اول تدریجاً پہلے یہودی قبضے میں گیا اور پھر اس پر صیہونی تسلط قائم ہوا تب سے قبلہ اول کے معاملے میں ہر مسلمان ایک کسوٹی پر موجود ہے۔ بالخصوص گذشتہ سات دہائیوں سے ہر مسلمان ایک امتحان اور آزمائش سے گذر رہا ہے اور قبلہ اول کے ساتھ اپنی عقیدت و وابستگی کو پیمانے پر رکھے ہوئے ہے۔ بلکہ یوں کہا جاسکتا ہے کہ قبلہ اول نے ہر مسلمان کے ایمان کو تولنے کے لیے خود ترازو لگایا ہوا ہے کہ کون صاحب ایمان ہیں جو میرے اوپر ہونے والے مظالم اور تسلط پر بولتے ہیں اور کون صدائے احتجاج بلند کرکے مجھے اللہ کا گھر سمجھ کر مجھ سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ رہبر انقلاب حضرت امام خمینی ؒ نے ۱۹۷۹ء میں ہمارے لیے اس وقت آسانی پیدا کردی جب انہوں نے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو قبلہ اول بیت المقدس کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے اس جمعہ کو ’’یوم القدس ‘‘ کے نام سے موسوم کردیا۔ اور ہمارے لیے با سہولت راستہ کھول دیا کہ ہم پورا سال نہ سہی کم از کم سال میں ایک دن تو قبلہ اول کے حق میں آواز بلند کرسکیں۔یقین جانیے اگر امام خمینی ؒ یہ احساس اور فیصلہ نہ کرتے تو آج ہم اللہ اور اس کے گھر کے سامنے شرمندہ شرمندہ سے زندہ ہوتے۔ کیونکہ اس سے قبل کسی عالمی یا مقامی رہنماء نے قبلہ اول کے لیے اس طرح کا فیصلہ نہیں کیا ۔
امام خمینی ؒ کے اعلان کا پہلا فائدہ یہ ہوا کہ ایک عام مسلمان قبلہ اول بیت المقدس کے ساتھ متعارف ہوا۔ اس کی حیثیت سے آگاہ ہوا اور اس کی رہائی کے لیے ہم آواز ہوا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ بیت المقدس کے نام پر فقط ایران میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے مخلص اور درد دل کے حامل مسلمان یک جا و یک زبان ہوئے۔ بیت المقدس کے قدرِ مشترک کی وجہ سے عالم اسلام میں اتحاد و وحدت کا منظر قائم ہوا۔ اور یہی وحدت قبلہ اول کے راستے سے ہوتی ہوئی دیگر موضوعات اور معاملات میں بھی نظر آنے لگی۔ تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ تمام اسلامی مسالک اور مکاتب کے لوگ ہر سال ایک دن اپنی اجتماعی وحدت کا کھلے عام یعنی سڑکوں پر آکر ریلیوں اور جلوسوں کی شکل میں اظہار کرتے ہیں جس سے وحدت و اخوت کا پیغام دنیا بھر میں جاتا ہے۔ چوتھا فائدہ یہ ہوا کہ صرف مسلم عوام نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام و خواص کو صیہونیت اور یہودیت میں فرق واضح ہوا اور لوگ صیہونی اسرائیل کی شرارتوں ‘ سازشوں اور مظالم سے آگاہ ہوئے اور سال بہ سال آگاہ ہوتے ہیں۔ پانچواں فائدہ یہ ہوا کہ یوم القدس کے سبب ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں کی وجہ سے یہ مسئلہ عالمی سطح پر اور عالمی اداروں میں اجاگر ہوا اور امریکہ و اسرائیل قبلہ اول کے معاملے میں مسلسل شکست کھاتے چلے آرہے ہیں اگر شکست نہ بھی کہیں تو کم از دفاعی پوزیشن میں آتے رہتے ہیں اور کھل کر اپنے عزائم پورے نہیں کرپاتے۔ یوم القدس کی وجہ سے قبلہ اول زندہ اور منظر عام پر ہے ورنہ اب تک امریکہ و اسرائیل کے ہاتھوں قبلہ اول خدانخواستہ نابود ہوچکا ہوتا یا کم از کم اس کی ہئیت ضرور تبدیل کی جاچکی ہوتی۔ چھٹا فائدہ یہ ہوا کہ قبلہ اول کی آزادی اور اسرائیل کی بربادی کے لیے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوری ایران کو قائدانہ کردار ادا کرنے کا اعزاز اللہ کی طرف سے حاصل ہوا۔ آج ایران فخر سے اللہ کے سامنے اعتراف کرسکتا ہے کہ اس نے قبلہ اول کی آزادی کی جنگ میں سپہ سالار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ حقیقت اب تاریخ میں رقم ہوچکی ہے کہ امت مسلمہ کو قبلہ اول کی طرف متوجہ کرنے والا صرف ایران ہی تھا۔
ایک منفرد اعزاز وطن عزیڑ پاکستان کو بھی حاصل ہے کہ جس نے اپنے قیام سے ہی اسرائیلی سازش کا ادراک کرلیا اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اسرائیل کو غیر قانونی اور ناجائز ریاست قرار دے کر صرف زبانی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ پاکستان کے سرکاری قانون اور آئین میں مستقل طور پر شامل کرادیا کہ ہم اسرائیل کو نہ فقط تسلیم نہیں کرتے بلکہ قبلہ اول پر قبضے کی وجہ سے ہم اس کے ساتھ کسی قسم کا لین دین اور تعلق تو دور فقط رابطہ ہی نہیں رکھنا چاہتے۔ قائد اعظم کی دور بینی اور دور اندیشی دیکھئے کہ انہوں نے امام خمینی ؒ سے بھی بتیس سال پہلے اسرائیل کے وجود اور عزائم کا ادراک کرلیا اور آج پاکستان واحد ملک ہے جس کے پاسپورٹ پر درج ہے کہ ہم اسرائیل جانا ہی نہیں چاہتے اور تب تک نہیں جا سکتے جب تک اسرائیل قبلہ اول پر تسلط ختم نہیں کرے گا۔ عالمی حالات کے مسلسل تغیر تبدل کے باوجود شاید ہی پاکستان واحد ملک ہے جس کی اسرائیل مخالف پالیسی گذشتہ ستر سال سے جاری ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔
بیت المقدس کی آزادی کے معاملے میں جس طرح ایران اور پاکستان نے علی الاعلان دو ٹوک موقف اور پالیسی اختیار کی اس کے مقابلے میں معذرت کے ساتھ عرب ممالک نے بزدلانہ اور مفاد پرستانہ پالیسی اپنائی ہے۔ بالخصوص عالم عرب کو لیڈ کرنے کا دعوے دار سعودی عرب اسرائیل کے معاملے میں انتہائی کمزور ثابت ہوا ہے۔ نہ صرف قبلہ اول کے ساتھ الہی و قرآنی وابستگی کو داغدار کیاگیا بلکہ اسرائیل جیسی ناجائز اور جارح ریاست کے ساتھ دوستانہ مراسم رکھے گئے۔ اور مظلوم فلسطینی عوام کے خون کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ عرب ممالک کی مصلحت کوشی اور مسلسل غفلت کی وجہ سے امریکہ و اسرائیل کو اپنا تسلط اور مظالم جاری رکھنے کا موقع ملا اور عالمی سطح پر بیت المقدس کا مقدمہ کمزور ہوا جس کے نتیجے میں قبلہ اول کی آزادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے میں تاخیر ہورہیہے۔
اسرائیل جہاں آئے روز فلسطینی عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہاں بیت المقدس پر قبضے اور تسلط کے نئے نئے راستے پیدا کررہا ہے۔ یہ راستے امریکہ کے تعاون سے عالمی اداروں کے ذریعے پیدا کیے جارہے ہیں۔ اگرچہ عالمی اداروں کا کردار ہمیشہ سے اس مسئلے میں منفی اور جانبدارانہ رہا ہے لیکن عالم اسلامی کے اندر اٹھنے والی بیداری کی لہر کے اثرات تسلسل کے ساتھ نمودار ہورہے ہیں اور مسلمانوں کے بعد اب مسیحی اور یہودی بھی اسرائیلی و امریکی بدمعاشی کے خلاف دنیا بھر میں سراپا احتجاج ہورہے ہیں۔ ایسے عالم میں ’’یوم القدس ‘‘ کا منایا جانا مسئلہ فلسطین و بیت المقدس کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ پاکستان ایک بار پھر اس معاملے میں انفرادیت کا حامل ہے کہ یہاں کسی ایک مسلک یا مکتب یا جماعت کے پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ تمام اسلامی جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم یعنی ’’ملی یکجہتی کونسل پاکستان ‘‘ کے پلیٹ فارم سے یوم القدس منایا جارہا ہے جس کے تحت منعقد ہونے والے پروگراموں اور احتجاجی ریلیوں میں تمام مسالک اور مکاتب کے علماء و دینی جماعتوں کے قائدین خطاب فرمائیں گے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی جید دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد یعنی متحدہ مجلسِ عمل بھی اپنی فعالیت کے عروج کی طرف جارہا ہے۔ اس مرتبہ یوم القدس کے اجتماعات میں متحدہ مجلس عمل کے قائدین و رہنماء تقریباً پاکستان کے پر شہر میں شریک ہوں گے جس کے بعد وحدت و اخوت اور قبلہ اول سے عقیدت و وابستگی کا مزید گہرا اور بہترین اظہار ہوگا اور دنیا میں مثبت اور ہلا کر رکھ دینے والا پیغام جائے گا کہ پاکستانی عوام کی نظر اسرائیل و امریکہ اور ان کے چیلوں یاروں کی سازشوں پر فوکس ہے لہذا ہم مل کر ان کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور اپنے اتحاد کی قوت سے انشاء اللہ اسرائیل کو نابود اور قبلہ اول کو آزاد کرائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here