یوم نکبہ کے موقع پر  قائد ملت جعفریہ پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں کی فلسطین سے اظہار یکجہتی
یوم نکبہ کے موقع پر  قائد ملت جعفریہ پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں کی فلسطین سے اظہار یکجہتی

یوم نکبہ کے موقع پر  قائد ملت جعفریہ پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں کی فلسطین سے اظہار یکجہتی

۱۶مئی، سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے اور غاصب صہیونی حکومت کے قیام کی اکہترویں برسی ہے جسے فلسطینی عوام یوم نکبہ کے نام سے مناتے ہیں۔غزہ پٹی کے مختلف شہروں میں اس موقع پر بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے جن میں لاکھوں فلسطینیوں نے حصہ لیا۔غزہ کے سبھی شہروں میں یوم نکبہ کے موقع پر اسکول، کالج ، یونیورسٹیاں، دفاتر اور ادارے بند رہے اور سرکاری عہدیداروں نے بھی عوام کے ساتھ یوم نکبہ کے مظاہرے میں شرکت کی۔فلسطینی تاجروں اور دوکانداروں نے بھی گرینڈ واپسی مارچ کمیٹی کی اپیل پر اپنا کاروبار بند رکھا اور یوم نکبہ کے مظاہروں میں شریک فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔اسی دوران اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی فوجیوں نے یوم نکبہ کے مظاہروں میں شریک فلسطینیوں کے خلاف جان لیوا گولیوں اور زہریلی آنسو گیس کا بے تحاشہ استعمال کیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم القاسم نے کہا ہے کہ آج کے مظاہروں کا پیغام پوری طرح واضح ہے کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے جن میں اپنے آبائی علاقوں کو واپسی کا حق سر فہرست ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ستر سالہ ناجائز قبضے کے خلاف ہونے والے مظاہروں سے واضح ہوگیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غاصبانہ قبضے کے خلاف فلسطینی عوام کی جدوجہد پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور وہ پوری قوت کے ساتھ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔جہاد اسلامی فلسطین نے بھی یوم نکبہ کے موقع پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں پورے مقبوضہ فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔جہاد اسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی جدوجہد کی کامیابی کا پورا یقین ہے اور اسی یقین کے باعث اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف ان کا عزم مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری فلسطینی قوم اسرائیل کے خلاف جہاد اور مزاحمت کے آپشن پر متحد ہے اور امریکہ و اسرائیل کو مسئلہ فلسطین کو نابود کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔اسرائیل کی مذمت

 

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سر زمین فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کے71 سال مکمل ہونے پراپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا قیام گھناﺅنی سازش ہے جس کے اہداف بڑے واضح ہیں ، بیت المقدس پر قبضہ قبول نہیںاور71سال سے سرزمین فلسطین و بیت المقدس پر صیہونی ناجائز قبضہ پر سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی اورکھلے عام سرپرستی مجر مانہ عمل ہے۔بیت المقدس اور سرزمین فلسطین پر صیہونی قبضے سمیت فلسطینیوں کے ساتھ کئے جانے والے ظلم و ستم و قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ایک منظم منصوبہ بندی کےساتھ سامراجی طاقتیں اس وحشی ریاست کا قیام عمل میں لائیں اور وہ خونخوار بھیڑیے کی پشت پناہی پر ہیں،جبکہ دوسری جانب صیہونی ظلم و ستم پر اقوام عالم اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ، علامہ ساجد نقوی نے بیت المقدس کو عالم اسلام کا بنیادی مسئلہ قرار دیا اور قدس کی رہائی کے لئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو ضروری امر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں میں اتحاد ہوتا تو یہ غاصب حکومت وجود میں نہ آتی اور نہ اسوقت بہت سارے لوگوں کو بے گھر ہونا پڑتا اورفلسطینی عوام کاقتل عام اور نسل کشی نہ ہوتی جو اب تک جاری ہے اورنہ ہی القدس سامراجی حکومت کے مرکز میں تبدیل ہوتا۔

علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھاکہ قرآن کریم میں یہودی قوم کی جتنی مذمت و شدید تنقید کی گئی ہے کسی قوم کی نہیں ہوئی ہے۔آخر میں علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ قدس اور مسجد اقصی تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے اور عالم اسلام کو چاہیئے کہ اتحاد کے ساتھ صیہونی حکومت کے مقابلہ میں کھڑے ہوں۔ جب تک صیہونی حکومت خطے میں موجود ہے لوگوں کو سکون و آرام اور عزت و اطمینان حاصل نہیں ہوگا۔ قبلہ اول کی آزادی کا مسئلہ مسلمانوں کے لئے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اگر مسلمان عزت ، عظمت ، اور قدرت و طاقت چاہتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ بیت المقدس کو صیہونیوں کے ہاتھ سے آزاد کرانے کے لئے متحدہو جائیں اور یک جان و دو قالب ہو کر قدس کو صیہونیوں کے ہاتھ میں باقی رہنے کی اجازت نہ دیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here