8 اگست کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں سابق حکمراں کینیاتھا نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم عدالت نے ان کی جیت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 2 ماہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے 6 رکنی بینچ میں سے 4 ججز نے الیکشن میں کینیاتھا کی جیت کو کالعدم قرار دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق انتخاب کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہا جب کہ صدارتی الیکشن میں قانون کو نظرانداز کیا گیا۔

کینیا کی تاریخ میں سپریم کورٹ کی جانب سے پہلی مرتبہ صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here