گورڈن براؤن کا کہنا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کے سربراہان خود بھی صدام حسین کے پاس ہلاکت خیز ہتھیار موجود ہونے سے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا تھے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے یہ شکوک و شبہات برطانیہ سے شئیر نہیں کئے اور برطانیہ کو تاریکی میں رکھا گیا اور اگر امریکی وزارت دفاع کے پاس موجود دستاویزات شیئر کی جاتیں تو تاریخ مختلف ہوسکتی تھی۔

عراق جنگ کے موقع پر گورڈن براؤن اس وقت کے برطانوی چانسلر تھے، برطانیہ میں سرجان چلکوٹ رپورٹ میں بھی 7 سالہ تحقیقات کے بعد عراق جنگ کی بنیاد ناقص انٹیلی جنس اطلاعات کو قرار دیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here