قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کی زیر صدارت تنظیمی نشست

میٹنگ زیر صدارت : قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی(شیعہ علماءکونسل راولپنڈی تحصیل صدور و سیکرٹری )
وقت آغازاجلاس : 11:45 بجے دن اختتام اجلاس : 12:50بجے دن 
بمقام : 16اصغر مال سکیم ، راولپنڈی 
میٹنگ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت اسد رضاصاحب نے حاصل کی ، شیعہ علما ءکونسل راولپنڈی کے ضلعی سیکرٹری سید نزاکت علی شاہ صاحب نے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب اور شیعہ علماءکو نسل راولپنڈی کے تحصیل صدورو سیکرٹریز کو میٹنگ میں خوش آمد ید کیا اورمیٹنگ میں موجود تحصیل صددور و سیکرٹریز کے تعارف کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔ اس کے بعد قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقونے کہاخطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہے اس سے قبل اس قسم کا اجلاس منعقد نہیں ہوا ،آپ کی آمد قابل قدر ہے موضوع یک نکاتی ایجنڈا ہے جائزہ لے لیں اس موضوع کا آخر میں ذکر کروں گا۔پہلا نکتہ ہے تنظیمی تحرک و فعالیت ، تنظیمی عمل میں عملی جدوجہدمیں فعالیت کر نا اہمیت کا حامل ہے اس فعالیت کو باہمی مربوط کرنا اور عوام تک پیغام پہنچانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے ، یہ ساری کوششیں عوام کےلئے ہیں ان کے حقوق کیلئے ہیں ،پیغام مرکزسے صوبہ ، ڈویژن ، ضلع، تحصیل اور یونٹ تک جانا چاہیے ۔اس پر عمل ہو اور ہماری بات عوام تک نہیں پہنچ رہی ،تنظیم سے ہٹ کر میرا رشتہ براہ راست عوام کےساتھ ہے یونٹس کا رابط ہے عوام سے ہماری بات یونٹ تک کیسے پہنچتی ہے اس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ،عوام تک معلومات جانا بہت ضروری ہیں میں بہت حساس ہوں اس سلسلے میں اگر کوئی کہتا ہے کہ ہی بات مجھ تک نہیں پہنچی تو اس کےلئے دفتر موجود ہیں ، دفتر ہے ہی عوام کیلئے جو خرچ ہورہاہے وہ عوام کےلئے ہو رہا ہے عوام کو سہولیات و معلومات فراہم کرنے کےلئے ہی ہیں ، قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزیدکہاکہ ضلع بہاولنگر میں جومسئلہ ہوا ہے وہ حقائق لوگوں تک کیسے پہنچے ؟اقدامات کیا ہورہے ہیں ؟ جو ہوا ہم اس مسئلہ کو بڑی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں ، صوبائی صدر شیعہ علماکونسل پنجاب کے وفد کو بھیجا ہے جو رابطے کرئے گی اور بتائے گی تاکہ مسئلہ کو فوری حل ہو اگر مرکزی وفد کی ضرورت ہو تو بھی بھیجیں گے ، ، کلی طور پر جو عوام کےساتھ ہورہاہے پاکستان میں یہ زیادتی قابل قبول نہیں ،لوگوں کو آگاہی دینا تحصیلوں کاکام ہے ، براہ راست رابطہ تحصیلوں کے ساتھ اور مین رابطہ یونٹ کےساتھ ہونا چاہیے لوگوں تک بات نہیں پہنچتی ، جب میں گاﺅں میں جاتا ہوں اور لوگ جب سوال کرتے ہیں تو مجھے پتہ چلتاہے کہ لوگوں تک بات نہیں پہنچ رہی ،میں کہتا ہوں کہ میری مجلس میں کھڑے ہو کر سوال کیا کرو، تنظیمی عمل کےلئے پروگرام ملنا چاہیے ، پروگرام صوبہ دے ، عوام کی کیا مشکلات ہیں ان مشکلات کے حل کے لئے آپ کیا کرسکتے ہیں ،لوگ معلومات نہیں رکھتے ، کہ ملی پلیٹ فارم کے ذریعے مسائل حل کےلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں ، لوگو ں کی تربیت کا فقدان ہے ،ان کی تربیت کےلئے اقدامات کئے جائیں۔عوام کے پاس تنظیمی ، قومی اور سیاسی شعور ہوناچاہیے ۔اس ملک میں عزادری کے حوالہ سے کیا انداز اپنانے کی ضرورت ہے اس کا شعور ہونا چاہیے ۔ قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی چیز عوام کو آگاہی دینا ہے ، اس ملک میں کیا ہو رہاہے وہ معلومات تنظیم کے ذریعے جانی چاہیے ۔بعض چیزیں پریس میں نہیں آنی چاہیے ایسا انداز ہو جو سب کےلئے قبول ہو ۔اس ملک میں عزاداری کے حوالہ سے ایف آئی آرز کاٹی جارہی ہیں ، عوام کو شعور ہونا چاہیے کہ جس علاقے میں ایف آئی آر درج ہو اس کی اصل مصدقہ نقل تھانہ سے لی جائے، یونٹ صدور اور ذمہ داران کے ایجنڈے میں یہ ہونا چاہیے اور ان کی پہلی ترجیح ہو نی چاہیے کہ ایف آئی آرکی مصدقہ نقل حاصل کی جائے ۔اس کے بعد شعور ہو ناچاہئے کہ ایف آئی آر کے بعد ضمانت کرانی چاہیے یا نہیں میں مجالس پر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ضمانت کا قائل نہیں ہوں ، یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کامسئلہ ہے ، غیر آئینی اقدام کی حوصلہ شکنی کرنا ہو گی ، ملک میں دھرنے اور ریلیاں ہوئیں اسلام آباد لاک اپ ہوا جب ہم اپنے حدف کے حصول کےلئے گھروں سے نکلیں گے اور میں چلوں گا تو اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک حدف پورا نہیں ہوگامیں پیچھے نہیں ہٹوں گاان حکومتوں کا تختہ الٹ جائےگا۔پھر ہم بھی نہیں روک سکیں گے اور جب تک میں اپنا بیان واپس نہیں لوں گااس وقت تک حکومت ختم نہیں ہو جاتی سرکاری ادارے جس کےلئے بنائے گئے کیسے بنائے اس پر تبصرہ نہیں کروں گایہ ساتے ادارے عزاداری روکنے کےلئے ہیں ،ردالفساد کے بعد پورے ملک میں کنٹینرز کیوں لگائے جاتے ہیں اب کیوں رکاوٹیں ہیں یہ قابل قبول نہیں ۔لوگوں کوحوصلہ دینا ہے ایک ایسا بھی موقع آسکتا ہے کہ اپنی عزت و آبرو کیلئے اسلام آباد بلایا جاسکتا ہے ، تیار رہیں ۔جھتے بنا کر شیعوں کو گالیاں دلوائی گئیں ، پاکستان میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کریں ، شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے عزاداری میری شہری آزادیوں میں سے ہے اس کےلئے ایک بڑے پروگرام کرنے کی ضرورت ہے اس کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہو گا۔اس حکومت کو 60دن ہو گئے اور بہاولنگر کا واقعہ رونما ہوا اس سلسلے میں احتجاج بھر پور ہوگا کوئی سودا بازی نہیں ہو گی ، اس سلسلہ میں بھی یونٹ کےساتھ رابطوں میں رہیں عوام کو تیار رکھیں تنظیمی فعالیت میں اضافہ کریں ،اور ملی پلیٹ فارم کے مجلہ کےلئے ممبرسازی عمل میں لائیں اور جائزہ لیں اور آپ کی آراءکی روشنی میں اقدامات کئے جائیں گے تاکہ تنظیمی پیغامات نچلی سطح تک آسانی کےساتھ عوام تک پہنچ سکیں اس میںتمام تحصیل صدور اور ذمہ داران اپنا مثبت کر دار ادا کریں ۔اپنے مرکز ، صوبوں اور ضلاع سے روابط میں تیزی لائیں کمزوری دور کی جائے بنیادی رول تحصیلوں کا ہے اور بنیادی رول تنظیم میں ضلع راولپنڈی کا ہے اس کو مد نظر رکھیں ہمارا کا م رضاکارانہ ہے ہم لوگو رضا کارانہ بنیادوں پر کام کرتے ہیں اور پورے ملک میں بلا تفریق کام جاری ہے میں ایسی جگہوں پر گیاہوں جہاں کوئی تنظیم نہیں پہنچیٍ ۔ اور آپ لوگ ہمہ وقت آمادہ رہیں جب بھی بلایا جائے تیار رہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here