مسئلہ کشمیر پر مسلمان قائدین کا سخت رد عمل پر امن حل پر تاکید
مسئلہ کشمیر پر مسلمان قائدین کا سخت رد عمل پر امن حل پر تاکید

مسئلہ کشمیر پر مسلمان قائدین کا سخت رد عمل پر امن حل پر تاکید

جعفریہ پریس: مسئلہ کشمیر پر مسلمان قائدین کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر تاکید پر زور دیا گیا ہے 

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کشمیری مسلمانوں کے غم پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے 

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ انھیں کشمیر میں مسلمانوں کی حالتِ زار پر تشویش ہے، بھارت سے توقع ہے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اور خطے میں مسلمانوں پر ظلم کی روش کو ترک کرے گا۔

یاد رہے دو دن قبل تہران میں کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لیے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے کشمیریوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے سلسلے میں اپنی انسانی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے بھی کشمیری عوام کی صورتحال پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے

ائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 اور شق 35 اے ختم کرنے پر شدید تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہاکہ مودی جیسی فاشسٹ حکومت سے کچھ بعید نہیں البتہ پاکستان امن کو موقع فراہم کررہا تھا، بھارت نے صرف کاغذی طور پر یہ حقوق دیئے ہوئے تھے حالانکہ وہ تقسیم ہند سے ہی مقبوضہ کشمیر پر نہ صرف قبضہ جمائے ہوئے ہے بلکہ وہاں شہری آزادیوں کی پامالیوں اور گھناﺅنے جرائم میں بھی ملوث ہے، بھارت کا نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اب اترچکاہے جس کی جگہ فاشزم نے لی ہے ، پاکستان کو فی الفور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے کشمیریوں کے تشخص، آزادی، حقوق اور جغرافیائی تحفظ کےلئے تمام اختیارت بروئے کار لانے چاہیئں، ہم پہلے بھی کہہ چکے دوبارہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی دباﺅ سے آزاد خارجہ پالیسی مرتب کی جائے، سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت بھی جاری رکھنے کا اعلان 
ان خیالات کا اظہار انہوںنے بھارت کی جانب سے کشمیر کا الگ پرچم، خصوصی حیثیت اور آئینی اختیار ختم کرنے کی شقوں کے خاتمے پر اپنے رد عمل میں کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارت دھمکیوں ، سرحدی خلاف ورزیوں کے بعد اب کھلی ، ننگی جارحیت اور فاشزم کی طرف بڑھ چکاہے، ایسے حالات میں کیسے ممکن ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں یا پھر اُسے سفارتی کوششوں سے رام کیا جاسکے، اس سلسلے میں حکومت پاکستان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے، فی الفور سلامتی کونسل سے رجوع کرے ،اقوام عالم کے سامنے دوٹوک الفاظ میں واضح کرے بلکہ باور کرائے کہ بھارت کے اس قبیح اقدام سے اقوام متحدہ کی قراردادیں، شملہ معاہدہ سمیت تمام تاریخی معاہدے یکطرفہ طور پر منسوخ کردیئے گئے ہیں، پاکستان امن کا خواہش مند ضرور ہے مگر اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔پاکستان ایٹمی قوت اور خود مختا ر ریاست ہے اور کشمیریوں کے حوالے سے پاکستان کا موقف بابائے قوم نے واضح کردیا تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ اور تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کی جغرافیائی حیثیت کے تحفظ،تشخص، بنیادی حقوق اور آزادی کےلئے تمام اختیارات کو بروئے کار لایا جائے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بین الاقوامی دباﺅ سے آزاد کیا جائے ۔ جب تک ہم غلامی کا طوق گلے سے نہیں اتارینگے مشکلات میں گھرتے چلے جائینگے۔زندہ قومیں کبھی اپنے وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتیں۔مذاکرات اور امن کی بات برابری کی سطح پر کی جاتی ہے اور پاکستان کو اپنی حیثیت کو برقرار رکھناہے۔ اس سلسلے میں امریکہ سمیت تمام عالمی قوتو ں پر بھی واضح کیا جائے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔

سید علی گیلانی نے خطہ ارض پر رہنے والے تمام مسلمانوں کے نام اپنے پیغام میں واضح کیا کہ یہ ٹوئٹ ہماری جان بچانے کا پیغام ہے اور اسے ایس او ایس کے طور پر لیا جائے، اللہ ہم سب کی حفاظت کرے۔

واضح رہے کہ مودی سرکار امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، صرف دو ہفتے کے دوران بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید اڑتیس ہزار فوجی تعینات کردیئے۔

اس اقدام نے وادی میں سراسیمگی پھیلا دی ہے. عوام خوف و ہراس کا شکار ہیں، لوگوں نے اشیائے خورد ونوش محفوظ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

ادھر بیش تر پیٹرول پمپس بند ہیں، اے ٹی ایمز پرقطاریں لگ گئیں، بھارتی فورسز کو دہلی کی جانب سے چوبیس گھنٹے کارروائی کے لئے تیار رہنےکی ہدایت کر دی گئی۔

کمشیر کا رخ کرنے والے یاتریوں اور سیاحوں کو دہلی سرکار نے فوراً وادی چھوڑنے کا حکم کادیا ہے. ملک میں عملآ گورنر راج ہے۔

سابق پاکستان سفیر عبد الباسط نے اپنے بیان میں اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آرایس یس امقبوضہ وادی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

حریت رہنما آغا حسن کا بھی بھارتی جارحیت اور کشمیر کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار 
اس کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان قائدین کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی غیر قانونی اقدام پر گیری تشویش کا اظہار 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here