مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل محاصرے سے انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

مقبوضہ کشمیر مسلسل 30ویں دن بھی بھارتی فوجیوں کے محاصرے میں،5اگست سے کرفیو اور دیگر پابندیوں کےنفاذکے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ۔ بھارتی فوج لوگوں کی سرگرمیوں پر نظررکھنے کیلئے ڈرون استعمال کر رہی ہے ۔۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انٹرنیٹ، ٹیلی فون اور موبائل فون سمیت تمام مواصلاتی ذرائع اور ٹی وی چینل معطل ہیں۔ مقامی اخبارات شائع نہیں ہورہے اورنہ ہی وہ اپنے آن لائن ایڈیشن اپ ڈیٹ کرپار ہے ہیں۔۔ بازار اور سکول بھی بند ہیں۔ 
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بھارت دانستاً کرفیو اور دیگر پابندیوں کو طول دے رہا ہے تاکہ کشمیری آئندہ موسم سرما کیلئے خوراک ذخیرہ نہ کرسکیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیاہے کہ اگر کرفیو اور پابندیاں آئندہ چند دن جاری رہیں تو صورتحال سنگین ہوجائیگی۔ سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی سمیت گیارہ ہزار سے زیادہ سیاسی رہنمااور کارکن مسلسل گھروں یا جیلوں میں نظربند ہیں۔
بھارتی انتظامیہ نے کشمیر کے انسانی حقوق کے کارکن گوہر گیلانی کو نئی دلی کے ہوائی اڈے پربیرون ملک جانے سے روک دیا۔ وہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے جرمنی جانا چاہتے تھے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here