مقبوضہ کشمیر میں 133ویں روز بھی بھارتی محاصرہ جاری

محاصرے اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کے باعث وادی کشمیر میں آج مسلسل133ویں روز بھی صورتحال ابترہے ۔ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر سہیل نائیک نے سرینگر میں ایک بیان میں ہسپتالوں کو ہنگامی بنیادوں پر انٹرنیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
ایک بھارتی خفیہ ادارے کے افسر نے نئی دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طالب علم اعجاز احمد راتھر کے معمر والدین کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ اعجاز مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے کئی ٹیلی ویژن مباحثوں میں شرکت کرچکا ہے۔
جموں وکشمیر پیر پنجال فریڈم موومنٹ کے چیئرمین قاضی ارشاد نے جموں میں پارٹی اجلاس سے خطاب میں کہاکہ بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔
مقبوضہ کشمیر میں بارشوں اور برف باری کے بعد شدیدسردی نے شدید مشکلات کا شکار کشمیریوں کی پریشانیوں میں مزیداضافہ کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ وادی کے لوگوں کو آنے والے دنوں میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ سردی کے سخت موسم کیلئے اشیائے ضروریہ ذخیرہ نہیں کر سکے ۔ وادی کے لوگوں کا صدیوں سے معمول رہا ہے کہ وہ موسم سرما شروع ہونے سے قبل کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کر لیتے تھے کیونکہ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی واحد سرینگر جموں شاہراہ برف باری کے باعث اکثر بند رہتی ہے ۔وادی کا آج چوتھے روز بھی شاہراہ بند رہنے کی وجہ سے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔
جموںوکشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد میں جاری ایک بیا ن میں معروف مجاہد کمانڈر عبدالخالق گنائی المعروف جمال افغانی کو ان کے 26ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
جینوسائیڈ واچ کے صدر ڈاکٹر گریگوری سٹینٹن نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی ایک بریفنگ میں کہا کہ آسام اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے اگلے مرحلے میں نسل کشی کا شدید خدشہ ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here