ہم صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ اِبلاغ کر رہے ہوتے ہیں یا سُن رہے ہوتے یا دیکھ رہیں ہوتے ہیں ۔لہذا یہ ہمارا صبح شام کا مسئلہ ہے جس کے طور طریقے. اور سلیقے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے ۔خاص طور ہم بحثیت مسلمان اس کو کس طرح اپنائیں ؟اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔یقینا منابع اسلامی کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ۔ہم نے اس مقالہ میں سیرت طیبہ کی روشنی میں صرف ایک زاویہ سے کہ’’ بات کرنے سے قبل ماحول دیکھ کر بات کرنا ضروری ہے ‘‘۔اس کاجائزہ لیا ہے ۔
ہم صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ اِبلاغ کر رہے ہوتے ہیں یا سُن رہے ہوتے یا دیکھ رہیں ہوتے ہیں ۔لہذا یہ ہمارا صبح شام کا مسئلہ ہے جس کے طور طریقے. اور سلیقے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے ۔خاص طور ہم بحثیت مسلمان اس کو کس طرح اپنائیں ؟اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔یقینا منابع اسلامی کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ۔ہم نے اس مقالہ میں سیرت طیبہ کی روشنی میں صرف ایک زاویہ سے کہ’’ بات کرنے سے قبل ماحول دیکھ کر بات کرنا ضروری ہے ‘‘۔اس کاجائزہ لیا ہے ۔

اِبلاغ سے قبل ماحول سازی

پیغمبراسلام  ﷺ  کے طرز حیات میں

                                                                                                                                   تحریرفرحت حسین

  • کلیدی کلمات

ابلاغ، ماحول سازی،اسلوب، دعوت طعام اور تبلیغ،عمل ،منابع

  • سوال اصلی

ہم صبح سے شام تک  کچھ نہ کچھ اِبلاغ کر رہے ہوتے ہیں یا سُن رہے ہوتے  یا دیکھ  رہیں ہوتے ہیں ۔لہذا یہ ہمارا صبح شام کا مسئلہ ہے جس   کے طور طریقے. اور سلیقے ہمیں سیکھنے  کی ضرورت ہے ۔خاص طور ہم  بحثیت مسلمان اس کو کس طرح اپنائیں ؟اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔یقینا  منابع اسلامی کے علاوہ  کوئی اور طریقہ نہیں ہو سکتا ۔ہم نے اس مقالہ میں سیرت طیبہ  کی روشنیمیں صرف ایک زاویہ  سے کہ’’ بات کرنے  سے قبل   ماحول دیکھ کر بات کرنا ضروری ہے ‘‘۔اس کاجائزہ لیا ہے ۔

تمھید

آج کل اِبلاغ کا دور ہے جس میں جدید ذرائع استعمال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔اس کو انگلش میں کمنیکشن پیریڈ بھی کہا جاتا ہے   اس کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔پہلے کوئی بھی بات کرتا تو اس کو سننے والے ایک دو یا چند افراد ہوتے مگر آج کل آپ بات کریں لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے۔جس میں  مختلف  اعلی جدید ذرائع کا استعمال کیاجائے تو وہ بات آپ کروڑوں لوگوں تک پہنچا سکتیں ہیں۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ابلاغ کا طریقہ بحیثیت مسلمان ہم کو بانی اسلام  ،منبع شریعیت  اور اسوہ کامل  ذات سے لینا ضروری ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ایک کامل نمونہ عمل ہیں جن کی سیرتو کردار کو غور سے مطالعہ کیا جائے تو  ان کی شخصیت میں ابلاغ کا پہلو بہت زیادہ  نمایا نظر آتاہے ۔اور صرف ابلاغ نہیں بلکہ احسن ابلاغ اور نقاص سے پاک ابلاغ دیکھنے کو ملتا ہے جس کو ہم ابلاغ معصوم کا نام بھی دے  سکتے  ہیں ۔  ایسا ابلاغ جو زمان ومکان اور لوگوں کے اطوار و  طریقہ کار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو ،  آپ ﷺ بات کرتے تو اس سے قبل تما م زاویہ نگاہ پر غور کرتے اسی لیے جب آپ نے لوگوں کےساتھ اعلان نبوت کے بعد بات کی تو لوگوں نے   آپ کی بات پر یقین کے ساتھ کہا کہ   ہم مان جاتے  کہ پہاڑ کے دامن سے ایک لشکرکی خبر دیںتو بھی،   اگرچہ وہ ہماری آنکھیں دیکھ نہ رہی ہوں  ہماری آنکھیں دھوکا کھا سکتیں ہیں  مگر محمد کے ابلاغ میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں  ہو سکتا ۔چونکہ آپ جو بھی بات کرتے بر محل  اور موقع ومناسبت کو ملحوظ خاطر رکھتے۔

انسان کامل اور اسوہ کامل حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔آپ کا ہر قول فعل حکمت سے بھرا ہوا ہے آپ کا اٹھنا بیٹھنا ،الغرضآپ ﷺ جب بھی کوئی کام کرنا چاہتے تو اس کےلیے  اس سے پہلے ایک  ماحول بناتے تھے یک دم کوئی کام نہیںکرتے حتی کہ آپ نے اعلان نبوت کے لیے بھی چالیس سال تک ایک ماحول بنایا پھر جا کے نبوت کا اعلان فرمایا  ۔

  • دعوت اسلام کے اعلان  سے قبل خفیہ ماحول سازی

تین برس تک آنحضرتﷺ نے نہات رازداری کے ساتھ فرض تبلیغ ادا کیا لیکن اب آفتاب رسالت کامل  ہو چکا تھا صاف حکم آیا  ۔

فَاصْدَعْبِمَاتُؤْمَرُ[1]

اور تم کو جو حکم دیا گیا واشگاف کہ دو

  • دعوت اسلام کا پہلا مرحلہ اور ماحول سازی

اسلام کی دعوت کا جب اعلان کر لیا تو اسی اسلام کی مسلسل تبلیغ کے لیے اللہ تعالی نے قریب ترین افراد کے انتخاب کر کے تبلیغ کرنے کا حکم صادر فرمایا

وَأَنذِرْعَشِيرَتَكَالْأَقْرَبِينَ[2]

اور اپنے نزدیک کے خاندان والوں کو اللہ سے ڈرا

کیونکہ قریب ترین افراد جو ہوتےہیں ان کو اس تبلیغ کرنے کامطلب ہے ۔یہ فرد سچا بھی ہے اور اس کے سچائی گھر سے نکلے گی۔اس کا پیغام بھی سچا ہے۔

  • دعوت اسلام کے دوسرے مرحلہ میں کوہ صفا  پر تقریر[3]

حضر ت محمد ﷺ نے ابتدائی طور پر ایک پہاڑ پر جا کر لوگوں کو بلایا تب آ پ نے گفتگو  فرمائی کہ میں نے اپنی طرف سے  تبلیغ کے لیے  آمدگی کی ہے جس میں آپ حکم دو کہ پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر آرہا ہے تو ساروں نے کہا آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں لہذا آپ کی بات سچ ہے اگرچہ ہم اس کو دیکھ نہ رہیں ہوں ۔یعنی ہماری آنکھیں دھوکا کھا سکتیں ہے مگر آپ  کامعصوم ابلاغ غلط نہیں ہو سکتا ۔

  • دعوت اسلام کے لیے  تیسرے مرحلے میں حضرت ابوطالب کے گھر میں طعام  کا اہتمام

کوہ صٖفا   کے بعد حضرت ابوطالب کے گھر میں   عرب کے تمام قبائل کو دعوت دی گئی ۔ جب سب نے دعوت کھا لی تو حضرت محمد ﷺ نے خطاب کرتے ہوئے ۔فرمایا میں آپ کو اس  دین کی دعوت دیتا ہوں جس میں دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے ۔تمام لوگوں میں سے ایک ہی فرد کھڑا ہوا وہ حضرت ابوطالب کا جوان سالہ بیٹا علی تھا ۔جس نے کہا کہ میں آپ کی دعوت کو  قبول کرتا ہوں اور مسلمان ہوتا ہوں ۔

  • دعوت اسلام کے لیے  چوتھے مرحلے میں خانہ کعبہ کا انتخاب

اس کے بعد حضرت محمد ﷺ نے چوتھےمرحلے  میں بیت اللہ جسے مقدس مقام کو انتخاب کیا جس ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں جس  اللہ  کی خبر دیتا ہوں وہ  اللہ وحدہ لا شریک ہے اور لوگوں کو ایمان لانے کا فرمایا ۔

  • وحی کی علامات  بھی ماحول سازی  حصہ

 حضور اکرم ﷺ پر جب  بھی وحی نازل ہوتی تو اس کی علامات ظاہر ہوتیں تھیں یہ علامات کا ظا ہر ہونا بھی ماحول سازی ہے ۔مثلا پہلی وحی جب نازل ہوئی تو اس  سے قبل  حضور اکرم ﷺ نے چالیس سال تک عبادت خدا کی جس کی وجہ سے اللہ تعالی پر ایمان کا دعویٰ کرنے  سے پہلے اپنے کردار کو اسطرح منوایا ہے  کہ تما م لوگوں نے اس کو قبول کیا جسوقت آپ  ﷺ غار حرا میں موجود تھے کہ ایک فرشتے نے آواز دی کہ  میں آپ پر وحی لے کر آیا ہوں ۔آپ کی کیفیات میں تبدیلی آجاتی مثلا  پسینہ آجانا یا حالت بدل جانا وغیرہ وغیرہ

  • شان نزول اور ماحول سازی

حضور اکرم  ﷺ پر اترنے والا کلام الہی بھی جب نازل ہوتا ہے تو  اس کے لیے ایک ماحول  کی ضرورت ہوتی ہے ۔جہاں انتظام و انصرام کرنا ہوتا ہے ۔اسی کو شان نزول سے تعبیر کیا جاتاہے ۔ جب تک آپ ﷺ نے ماحول بناتے تو اس وقت مثلا  آیت تطہیر کے لیے حضور اکرم ﷺ نے حضرت علی ؑ کے گھر جاکر ایک چادر اوڑھی اور اس کے نیچے خاندان اہلبیت بھی  اجازت مانگ کر داخلے ہوتے رہے آہستہ آہستہ  جب پنجتن کی تعداد پوری ہو گئی تو اللہ تعالی نے آیت تطہیر کو نازل فرمایا  ۔

اِنَّمَایُرِیۡدُاللّٰہُلِیُذۡہِبَعَنۡکُمُالرِّجۡسَاَہۡلَالۡبَیۡتِوَیُطَہِّرَکُمۡتَطۡہِیۡرًا[4]

اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

  • السلام علیکم اور کلام کا طریقہ            

عام آدمی کاکلام کے لیے سب سے  پہلے ارتباط کے واسطہ  ایک ایسا جملہ ضرور ی ہوتا ہے جس کے ذریعہ  ابلاغ کا آغاز کر سکے ۔پھر اس کے بعد رفتہ رفتہ اپنے مقصد والی بات کی طرف آجاتا ہے  جس سے مقصد حاصل کر لیتا یا مقصد کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔مسلمان جب دوسرے مسلمان سے ملتا ہے تو اسلامی طریقہ یہ ہے ۔سب سے پہلے السلام علیکم یا سلام علیکم کہے ۔پھر اپنی بات چیت کا آغاز کرے ۔

  • حدیث کے ذریعہ ابلاغ   سے قبل ماحول سازی   درج ذیل ہیں ۔
  • حدیث قولی سےقبل ماحول سازی

اللہ تعالی نے قرآن کریم  میں ارشاد فرمایا کہ یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ ۔[5]

” اے پیغمبر ! آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اور اگر یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا “۔

آیت کے پہلے حصہ میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جو پیغام  میں نے پہلے دیا اس کا اب ماحول بن گیا اور مناسب وقت آگیا ہے لہذا آج اور اسی وقت اور اسی ماحول میں پیغام پہنچا دیں ۔ اللہ کی طرف یہ فیصلہ ہوا تو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی ولایت کا پیغام پہنچانے کے لیے  ایک مقام کو معین کیا ۔ ایک  خاص  سخت موسم اور  لوگوں سے اونٹوں کے پالان کا  منبر بنایا ۔یہ حدیث سے قبل انتظام و انصرام کیا  جا رہا ہے اور اس خاص حکم کے لیے ماحول بنایا جا رہا ہے ۔ایک طول خطبہ ارشاد فرمایا جس میں  لوگوں سے تعہد بھی لیا ۔اسی اثنا میں حضور اکرم ﷺ نے حضرت علی مرتضی ؑ کو منبر پر بلایا اور منبر پر کھڑے ہو کر  حضرت علی ؑ چہرہ  لوگوں کی طرف کر کے ہاتھ پکڑ کر  فرمان جاری کیا کہ 

من کنت مولا فھذا علی مولا ۔

جس جس کا میں مولا ہوں اُس اُس کا علی ؑ مولا ہے ۔

حضوراکرمﷺنےحدیثمبارککےذریعہلوگوںکوباتسمجھانےکابہتہیاعلیطریقہاختیار کیا ۔جسکوسمجھنےکیاشدضرورتہے ۔جببھیحدیثبیانفرماتےاسسےپہلےانتظاموانصرامفرماتےتھے ۔

  • حدیث فعلیسے قبل ماحول سازی

نبی آخر زمان جو جو عمل کرتے جاتے  وہ قرآن یا حدیث بنتا جاتا ،آپ نے جنگ کی تو عمل لوگوں کے لیے  نمونہ،  آپ نے مسجد میں نماز ادا کی تو شریعیت ، خانہ کعبہ کا طواف کیا تو شریعیت بنی،  آپ نے نماز پڑھی دین کا ستون بنا اور آپ نے ہی تمام عبادات کا طریقہ سیکھایا ۔اور بہت سارے احکام بڑے اہتمام کے ساتھ فرمائے ۔ حدیث فعلی انجام دینےسےقبلآپکوئینہ کوئی ایساکامکرتےتھےجسسےلوگوںکوآگاہیہوجاتیکہآپکوئینہکوئیحکمصادرفرمانےوالےہیں ۔

لیکن اس کے بر عکس عمل سے دور  ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کیا خوبصورت کہا

مسجدتوبنادیشببھرمیںایماںکیحرارتوالوںنے

مناپناپراناپاپیہےبرسوںمیںنمازیبننہسکا

کیاخوبامیرِفیصلکوسنوسینےپیغامدیا

تونامونسبکاحجازیہےپردلکاحجازیبننہسکا

ترآنکھیںتوہوجاتیہیںپرکیالذتاسرونےمیں

جبخونِجگرکیآمیزشسےاشکپیازیبننہسکا

اقبالبڑااپدیشکہےمنباتوںمیںموہلیتاہے

گفتارکایہغازیتوبناکردارکاغازیبننہسکا

  • ابلاغ کتابت اور ماقبل کی طرف اشارہ

اللہ تعالی نے ابلاغ کتابت میں بھی یہ ہی طریقہ  اپنایا ہے ۔یعنی کہ مثلاجس جگہ حکم فرمایا اس میں ماقبل کسی حکم دیا ہے اس کی طرف اشارہ کیاہے  جیسا

اللہعزوجلکایہفرماناِنَّاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ کَمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی نُوۡحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ ‘‘[6]

ہمنےبلاشبہﷺآپکیطرفوحیکانزولاسیطرحکیاہےجسطرحنوحعلیہالسلاماورانکےبعدآنےوالےتمامنبیوںکیطرفکیاتھا۔

اس آیت مجیدہ میں اللہ تعالی اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کو وحی کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح میں نے حضرت نوح علیہ السلام کو وحی کی اسی طرح بعد والے انبیا ء کو وحی کروں گا ۔

سورہ بقرہ  کی آیت ۱۸۳ میں ارشاد ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ[7]

۱۸۳۔ اےایمانوالو! تمپرروزےکاحکملکھدیاگیاہےجسطرحتمسےپہلےلوگوںپرلکھدیاگیاتھاتاکہتمتقویٰاختیارکرو۔س

اس آیت مجیدہ میں اللہ تعالی نے انسانوں پر حکم لگانے کےلیے پہلے  جاری کیے گئے حکم کو بیان کیا ۔

  • ابلاغ کے لیے مسجد نبوی ﷺ کا اہتمام اور مسجد نبوی  کے لیے حضرت ایوب انصاری کے گھر کا انتخاب[8]

حضو ر اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے  تو ایک خطبہ ارشاد فرمایا  اس کے لیے  آپ نے بہت بڑا اہتمام کیا ۔اسی طرح مسجد کو آپ نے بڑی اہمیت  دی ۔جو بعد میں ابلاغ کا اہم ذریعہ بن گئی ۔اس کے لیے جو اہتمام کیا کہ جب آپ   کے معتقدین نے مہمان نوازی کےلیے ہر کسی نے جھگڑا کرنا شروع کیا ۔تو آپ نے یہ فیصلہ اونٹنی پر چھوڑ دیا ۔حیرت کی بات ہے کہ عقل کل اور کامل انسان نے ایک جانور پر فیصلہ چھوڑ دیا جو بعد میں اچھا ثابت ہوا ۔اور اس جانور نے  حضرت ایوب انصاری کے   گھر کا انتخاب کیا جومسجد کا ہمسایا  بنا ۔یا جس کے ہمسائے میں مسجد کی تعمیر کی گئی ۔

  • وَ مَا عَلَیۡنَاۤ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ[9]

اورہمپرتوفقطواضحطورپرپیغامپہنچانا (فرض) ہےاوربس۔

سورہ یس کی ا س آیت مجیدہ سے پتا چلتا ہے کہ اللہ نے رسول گرامی ختم مرتبت  ﷺ کو واضح طور ابلاغ کے لیے ہی بھیجا ہے اگر

نبی  ،رسول اور ابلاغ کے لغوی معانی دیکھے  جائے تو  یہ مترادف الفاظ نظر آئے گئیں  ۔

  • ابلاغ سے قبل عمل   اور ہمارے معاشرے کی زبوحالی

نبیمہربان ﷺکیذاتگرامی  نے بات کرنے سے پہلے   اس پر عمل کیا نہ فقط نطریاتی رکھا ، حضور اکرم ﷺ سےمنسوبمعجزاتکےدرستہونےمیںکوئیدورائےنہیںبارہربیعالاولکیمناسبتسےچراغاںمجھےذاتیحیثیتمیںتوبھلالگتاہےلیکنصرفاتنیسیعرضہےکہجسدورمیںہمجیرہےہیںاورجسعالمیاوراسکیبغلبچہمقامیتہذیبسےہماراپالاپڑاہےوہمحضکراماتمعجزاتیاجلتیبجھتیبتیوںسےاسلامکیطرفنہیںمتوجہہوگیبلکہاسےسیرتکےوہپہلوجومعاشرےکیتعمیرتوحیدوحاکمیتغیرمسلموںاوردشمنوںسےنبیکریمﷺکاسلوکخواتینبچوںبزرگوںاوردوستوںسےمعاملاتبطورحکمرانکرداربطورمنصفنظامکیسربراہیبطورکمانڈرجنگیحکمتعملی، کا خوبصورت سلیقہ اوراعلیاقدارکامظاہرہ ۔

یہتماموہمعاملاتہیںجنہیںہممسلموغیرمسلممعاشروںمیںپیشکرسکتےہیںیہساریباتیںاپنیجگہ،لیکنبطورمسلم  مبلغ   ابلاغ قومہماریدعوتمیںاثرتبہیممکنہےجبہماراکرداراسقولکےتابعہوجونبیمہربانکیزبانسےنکلا،کتابوںکااسلامجتنابھیخوبصورتہودنیاعملیمسلمانمانگتیہےاورایساہینظامومعاشرہ۔قلوبواذھان،علماخلاقاورہنرسےمسخرہوتےہیںجذباتیباتوںسےنہیں۔

منابع

  1. القران الکریم
  2. صحیح البخاری ، مصنف ابو عبداللہ  محمد بن اسماعیل ،المجلد الاول،دار الحدیث،۱۴۰ اشارع جوھر القائد ،امامم جامعۃ الازھر
  3. سُنن ابن ماجہ شریف ،مصنف الامام ابو عبد اللہ محمد بن یزید الربعی ابن ماجہ القزوینی ،جلد ۱، مترجم علامہ وحید الزمان ، اسلامی کتب خانہ ،فضل الہی مارکیٹ ،چوک اردو بازار لاہور۔
  4. سیرۃ النبی ﷺ ،علامہ شبلی نعمانی اور علامہ سید سلیمان ندوی ،المیزان ناشران و تاجران کتب  ،الکریم اردو لاہور  ،پاکستان ۔
  5. اسوۃ الرسول ﷺ ،سید اولاد حیدرفوق بلگرامی،مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور۔جلد ۲ ،ص۲۵۸
  6. الکوثرفی تفسیر القرآن،علامہ الشیخ محسن علی نجفی ، دار القرآن  الکریم ، جامعۃ الکوثر  اسلام آباد  پاکستان،جلد ۳،ص۳۳۳
  7. سیرت النبی ﷺ، (فروغ ابدیت) مؤلف آقای جعفر سبحانی۔مترجم مولانا نصیر حسین ،امامیہ پبلیکشنز ،معراج دین پرینٹر لاہور۔
  8. سیرت معصومین علھم السلام احسن المقال ، ترجمہ منتھی الآمال ،مولف ثقۃ المحدثین آقائی شیخ عباس قمی ، مترجم مولاناسید صفدر حسین نجفی ،مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور  پاکستان۔جلد۱ ص۵۵
  9. فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن ، مفسر قرآن حجۃ الاسلام آیت اللہ الشیخ محمد حسین نجفی ،جلد۷ ، ص۷۸۸ ،مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور۔

[1]۔ سورۃ الحجر 94

[2]۔ الشعراء 214

[3]۔سیرۃالنبیﷺ،علامہشبلینعمانیاورعلامہسیدسلیمانندوی،المیزانناشرانوتاجرانکتب،الکریماردولاہور،پاکستان ۔

[4]۔سورۃ الاحزاب ،آیت ۳۳

[5]۔سورہمائدہآیت 7

[6]۔سورۃ النسآء 163

[7]۔ سورۃ بقرہ ۱۸۳

[8]۔اسوۃالرسولﷺ،سیداولادحیدربلگرامی،مصباحالقرآنٹرسٹلاہور۔جلد۲،ص۲۵۸

[9]۔سورۃ یس آیت ۱۷

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here