پاکستانی اسلامی فلاحی ریاست ہے، شہری آزادیوں بارے میں منفی اشارے تشویشناک ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان
پاکستانی اسلامی فلاحی ریاست ہے، شہری آزادیوں بارے میں منفی اشارے تشویشناک ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان

پاکستانی اسلامی فلاحی ریاست ہے، شہری آزادیوں بارے میں منفی اشارے تشویشناک ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان

پاکستانی اسلامی فلاحی ریاست، شہری آزادیوں بارے منفی اشارے تشویشناک، ساجد نقوی جمہوریت استحکام کےلئے ضروری کہ آئین کی بالادستی کے ذریعے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان شہری آزادیوں پر پابندیوں کے باعث آج معاشرہ گھٹن ، اضطراب اور ابہام کا شکار ہے، اکنامسٹ ڈیموکریسی انڈیکس پر تبصرہ

 

اسلام آباد25 جنوری 2020ء (جعفریہ پریس) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں پاکستان اسلامی فلاحی ریاست ہے جہاں شہری آزادیوں بارے منفی اشاریے انتہائی تشویشناک ہیں، جمہوریت کی مضبوطی اور ملکی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی ادار ے کی رپورٹ اس بات کا عکاس ہے کہ آئین و قانون سے انحراف برتا جارہاہے، ہم عرصہ سے شہریوں آزادیوں ، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی بارے متوجہ کرتے آرہے ہیں، افسوس اسلامی فلاحی ریاست کے نام پر وجود میں آنیوالے ملک میں شہری آزادیوں کو آہستہ آہستہ سلب کیاگیا جس کے باعث معاشرہ گھٹن کا شکار ہوگیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے اکنامسٹ ڈیموکریسی کے شہری آزادیوں سے متعلق اشاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ریاست پاکستان ایک اسلامی فلاحی ریاست کے ساتھ ساتھ متفقہ آئین کے تحت شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کا ضامن ہے، آئین پاکستان کے 20 سے زائد آرٹیکلز بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیو ں سے متعلق ہیں اگر صحیح معنوں میں آئین پر عملدرآمد کیا جاتا تو شائد آج بین الاقوامی اداروں کو اس طرح کی رپورٹس جاری نہ کرنا پڑتیں اور نہ ہی عوام کو مختلف اوقات میں مظاہرے یا احتجاج کا سہارا لینا پڑتا۔ انہوںنے کہاکہ شہری آزادیوں بارے منفی اشاریے انتہائی تشویشناک ہیں،شہری آزادیوں سے متعلق پاکستان کے حوالے سے بتایاگیا کہ 50فیصد سے بھی کم شہری آزادیوں پر عملدرآمد ہوتاہے جس سے نہ صرف پابندیوں کی کیفیت واضح ہوتی ہے بلکہ آئین سے انحراف بھی واضح ہورہاہے، ہم عرصہ سے مطالبہ کرتے آرہے ہیں کہ شہری آزادیوں کو یقینی بنایا جائے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، نئے قوانین کی بجائے پہلے سے موجود قواتین پر عملدرآمد یقینی بناکر عوام کو ابہام کی کیفیت سے نکالا جائے، جمہوریت کی مضبوطی اور ملکی استحکام کےلئے ضروری ہے کہ آئین میں درج تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے ان کا تعلق سیاست سے ہو، صحافت سے ہو، مذہب سے ہو، سرکاری ملازم ہوں یا نجی شعبے میں خدمات انجام دینے والے ، انکے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔افسوس آج معاشرہ جس گھٹن اور ابہام کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ بھی شہری آزادیوں پر لگائی جانیوالی پابندیاں ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here