مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے بھارتی جمہوریت کا پول کھول دیا قائد ملت جعفریہ پاکستان
 مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے بھارتی جمہوریت کا پول کھول دیا قائد ملت جعفریہ پاکستان

 مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے بھارتی جمہوریت کا پول کھول دیا، ساجد نقوی
امریکہ کی پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں منافقانہ پالیسی ہے، آزاد و خود مختار خارجہ پالیسی ضروری، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 اسلام آباد27 جنوری 2020ء (جعفریہ پریس) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سیدساجد علی نقوی کہتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے اس کے جمہوری ریاست کا پول کھول دیا، آج خود نا م نہاد سیکولر ریاست میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج ہیں، امریکہ جیسا استعمار بھی ایسے قابض ممالک کو شہ دیتاہے، پاکستان کو ایک جانب اپنا دوست دوسری طرف ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ایف اے ٹی ایف میں حمایت کی بجائے مزید مطالبات کا راگ الاپ رہاہے، خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کو خود مختار ملک کے طور پر منظم اور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔
    ان خیالات کا اظہار انہوںنے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، سی پیک ، ایف اے ٹی ایف سے متعلق امریکی عہدیداروں کے ڈکٹیشن کے انداز میں بیانات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ بھارت جو اپنے آپ کوخطے میں جمہوریت اور سیکولرازم کا استعار ہ قرار دیتے تھکتا نہیں ہے ، مقبوضہ کشمیر میں مہینوں سے جاری مسلسل کرفیو، بنیادی انسانی حقوق کی بندش اور خود بھارت میں گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہرے اس بات کی غماز ہیں کہ بھارت بھی امریکہ جیسے استعمار کی روش اختیار کرتے ہوئے قابض ریاست کا روپ دھار چکاہے، نہ صرف وقت نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے ویژن کو سچا ثابت کردیا بلکہ اب قائد ؒکے نظریے کو تسلیم کرنے کی بھارت کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں،انہوںنے ایلس ویلز سمیت امریکی عہدیداروں کے سی پیک، ایف اے ٹی ایف سے متعلق ڈکٹیشن کے انداز میں بیانات پر اپنا موقف دہراتے ہوئے کہاکہ ہم جنہیں اپنا اتحادی تصور کرتے رہے کڑے وقت میںان کا کردار اس فارسی جملے ”قربان درم خدارا، یک دام دو ہوا را“ کے مصداق ہے اور ہمیشہ دہرا معیار اور رویہ اختیار کیا جاتا رہا، آج بھی یہی صورتحال ہے ، سی پیک جو پاک چین عظیم دوستی کی مثال کے ساتھ اب اقتصادی تعلقات کی مضبوطی اور اقتصادی پوزیشن کو بہتر بنانے کا ایک بڑا منصوبہ ہے اس پر امریکہ کی جانب سے ہرزہ سرائی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ناقابل قبول ہے، ایف اے ٹی ایف جہاں پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے کا وقت تھا وہاں بھی امریکہ کی جانب سے مسلسل ڈکٹیشن دینے کی روش دراصل بھارت کی حمایت ہے، ہم عرصہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ خارجہ پالیسی کو آزاد، خود مختار اور ایٹمی ملک کے شایان ہونا چاہیے، ہمیں بھی اپنے دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرتے ہوئے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں خارجہ پالیسی استوار کرنا ہوگی، تمام ممالک سے تعلقات ضرورت استوار کئے جائیں مگر یہ تعلقات برابری اور مساوی بنیادوں پر قائم کئے جائیں ۔انہوںنے زور دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان نے موجودہ صورتحال میں بہتر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایامگر فی الوقت اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا، کشمیر میں آج بھی کرفیو جاری ہے، انسانی و بنیادی حقوق آج بھی سلب کئے جارہے ہیں، میڈیا پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کےساتھ ساتھ سیاسی و سفارتی سطح پر مزید ٹھوس اقدامات اور اثر و رسوخ استعمال کرتے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر ملائیشیا، ترکی اور ایران کے پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا البتہ دیگر ممالک کی جانب سے ایسی گرمجوشی نظر نہیں آئی، پاکستان کو چاہیے اس معاملے پر او آئی سی کو متحرک کرنے کے ساتھ سلامتی کونسل میں مزید حمایت حاصل کی جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here