ٹرمپ فارمولہ استعماری فارمولہ ہے،مقصد اسرئیل کو مضبوط کرنا ہے ،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
ٹرمپ فارمولہ استعماری فارمولہ ہے،مقصد اسرئیل کو مضبوط کرنا ہے ،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

ٹرمپ فارمولہ استعماری فارمولہ ہے،مقصد اسرئیل کو مضبوط کرنا ہے ،

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

امریکی استعمار اسرائیل کومضبوط کرنے کےلئے مسلسل اقدام کر رہاہے اس اقدام کا

مقصد بھی قابض اسرئیل کو مضبوط کر نا ہے ، قائد ملت جعفریہ
 قبلہ اول عالم اسلام کی میراث ، فلسطین عالم اسلام کا مسئلہ،اُمت مسلمہ فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی، آزادی اور استقلال کیلئے انکی پشت پناہی کرے ۔

 

راولپنڈی/ اسلا م آباد 29 جنوری 2020 ء( جعفریہ پریس   )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کیلئے دو ریاستی فارمولے کو استعماری فارمولہ قرار دیا جس کا مقصد اسرائیل کو مضبوط کر نا ہے ۔امریکی استعمار اسرائیل کومضبوط کرنے کےلئے مسلسل اقدام کر رہاہے۔اس اقدام کا مقصد بھی قابض اسرئیل کو مضبوط کر نا ہے ۔ فلسطین عالم اسلام کا مسئلہ ہے ، مل کر اس منصوبے کو مسترد کریں اوراُمت مسلمہ مل کر فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے اور اپنے ہی وطن میں واپس لوٹنے اور استقلال کیلئے انکی پشت پناہی کرے ۔ علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن منصوبہ در اصل صیہونی ریاست کو مزید مضبوط کرنے کے مترادف ہے اور منصوبہ بندی کے تحت دنیا کے سامنے ایسے حالات پیدا کر نا ہیںکہ امریکہ کو اسرائیل کی حمایت میں اورمخالفت کرنےوالوں کے سامنے کھڑا ہونے کا موقع ملے تا کہ وہ ناجائز اسرائیلی ریاست کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹیں دور کر سکے ۔علامہ ساجدنقوی نے مزید کہا کہ امن منصوبہ کے نام پر ٹرمپ کا ”دو ریاستی امن منصوبے “کابیان جارحانہ ہے جس سے تمام فلسطینی تنظیموں اور عوام میں اس اعلان کے بعد غم وغصہ پایا جا تا ہے اور انہوںنے ٹرمپ امن فارمولہ کو یک طرفہ اور بد نیتی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے ۔علامہ ساجد نقوی نے آخر میں کہا کہ قبلہ اول عالم اسلام کی میراث ہے جس کا تحفظ مسلم امہ کی ذمہ داری ہے ۔مسلم امہ کو مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے نام پر پورا فلسطین اسرائیل کے حوالے ہونے سے بچانے کی سازش کو ناکام، فلسطینی عوام کو اسرائیلی جارحیت سے نجات اور سر زمین فلسطین سے ناجائز اسرائیلی قبضہ بازیاب کرانے کیلئے متحد ہو کر ٹھوس عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here