پاکستان آمد پر ترک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں، کشمیر ایشو پر جرات مندموقف لائق تحسین قائد ملت علامہ ساجد نقوی
پاکستان آمد پر ترک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں، کشمیر ایشو پر جرات مندموقف لائق تحسین قائد ملت علامہ ساجد نقوی

پاکستان آمد پر ترک صدر کو خوش آمدید کہتے ہیں، کشمیر ایشو پر جرات مندموقف لائق تحسین قائد ملت علامہ ساجد نقوی

مسلم ریاستوں کو آپس کے چھوٹے اختلافات بھلا کر بڑے ہدف کے حصول کےلئے یکجا ہونے کی ضرورت ہے، استعماریت کا مقابلہ صرف متحدہوکر ہی کیا جاسکتاہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا تہنیتی پیغام

راولپنڈی / اسلام آباد13فروری 2020ء(  جعفریہ پریس  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے معزز مہمان ترک صدر کوخوش آمدید کہتے ہوئے کہاہے کہ پاکستانی اور ترکی عوام قدیم تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے استوار ہیں، سربراہ مملکت ترکی کے دورئہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے عوام کے رشتوں میں مزید قربت آئے گی، مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان کے بین الاقوامی موقف پر جس طرح ترکی نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا اس پر ترکی لائق تحسین ہے، امت مسلمہ کے مسائل کا حل اتحاد میں مضمر ہے، مسلم ریاستوں کو آپس کے چھوٹے اختلافات بھلا کر بڑے ہدف کےلئے یکجا ہونے کی ضرورت ہے، استعماریت کا مقابلہ صرف اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے ترک صدر کے دورئہ پاکستان کے موقع پر اپنے تہنیتی پیغام میں کیا۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ قوم کی طرف سے معززمہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں،پاکستان اور ترک عوام کے تعلقات قدیم تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں پر استوار اور بڑی تاریخ سے وابستہ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ترک صدر مملکت کے دورئہ پاکستان اور اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں سے جہاں دونوں ریاستوں میں مزید اعتماد کی فضا قائم ہوگی وہیں عوام میں روابط میں مزید قربت بڑھے گی جو امہ اور خطے میں استحکام کےلئے نیک شگون ہے۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ترک صدر جس موقع پر دورئہ پاکستان کررہے ہیں اس وقت خطہ نہ صرف ایک کشیدہ صورتحال سے گزر ہاہے بلکہ کشمیر میں ہندتوا مظالم اپنی انتہاءکو پہنچ چکے ہیں جبکہ فلسطین پر صیہونی ظلم اور ڈیل آف سنچری کے نام پر امریکی جارحیت پہلے سے کہیں بڑھ چکی ہے ، ایسے حالات میں امہ کے اہم ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر ہونا انتہائی ضروری ہے، ہم عرصہ سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ امت مسلمہ کے مسائل کا حل صرف اتحاد میں مضمر ہے ، ترک قیادت اور عوام کی جانب سے جس طرح مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے بھرپور موقف کو نہ صرف سراہاگیا بلکہ جرات مندی کا مظاہرہ کیا گیا اس پر ترکی لائق تحسین ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سمیت مسلم ریاستوں اور خصوصاً خطے کے ممالک کو امن و استحکام کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کےلئے خود مختار خارجہ پالیسی اور باہمی احترام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، آپس کے چھوٹے چھوٹے اختلافات ختم کرتے ہوئے اصل ہدف کی جانب بڑھنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ عالمی سامراج امریکہ او راس کے حواری کبھی نہیں چاہیں گے کہ خطے میں امن قائم ہو یا پھر مسلم امہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائے کیونکہ استعمار کے مفادات باہمی نفاق اور جھگڑوں کے ذریعے ہی پروان چڑھ رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here