عزیزان گرامی شہید مظلوم حاج قاسم شہید مظلوم مہندس ابومہدی اور شہدائت ساںھؤح سہون کے درجات کی بلندی کی دعا کرتا ہوں خدا ان کے درجات بلند کرے کوشش تھی کی اس پروگرام میں شرکت کروں مگر نہیں کرسکا انشاء اللہ بہت جلد آپ حضرات کی زیارت کرونگا انشاء اللہ میں اس محفل کے روح رواں صوبائی صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کی کوششوں محنتوں کی قدردانی کرتا ہوں ان کے ساتھی کابینہ کے افراد ڈویژنل تعلہ یونٹ عہدیدار جن افراد نے کوششیں کیں ان کی قدر دانی کرتا ہوں مولانا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ مولانا اس قسم کے اجتماعات کامیابی سے منعقد کرتے ہیں اور امید ہے آئندہ بھی اس تسلسل کو برقرار رکھیں گے ہم ان کے  صوبہ سندھ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ علماء کرام کی تائید شیعہ علماء کونسل کو حاصل ہے اور وہ جماعت کی پالیسوں اور کارکردگی میں اپنا رول ادا کرتے ہیں میں محترم سینئر نائب صدر مولانا تقی نقوی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اجتماع میں شرکت کی۔

ہمیں اس اجتماع سے درس حاصل کرنا چاہئے شہید قاسم ایک سحر انگیز  شخصیت کے مالک تھے یہ دنوں شخصیات مزاحمتی شخصیات تھیں ان کی شہادت کے جو حقائق سامنے آئے ان پر نظر کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے جس طریقہ سے فتنوں کی سرکوبی کی  بہت سے حقائق و مظالم سے پردہ اٹھایا  اور جارحیت کا مقابلہ کیا  ہمیں بھی ان  کی جدوجہد سے فائدہ اٹھانے کی ضروت ہے  پاکستان کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے  پر امن انداز میں ہم قانون پسند ہیں ہمیں بھی ان قوتوں کو جو شرپسندی و قانون شکن کی مخالف ہیں انکو اکھٹا کرنا چاہئے ہم جس اتحاد کے بانی ہیں اس کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے  ہم نظریاتی لوگ ہیں ہم اک مکتب سے وابستہ ہیں ہمیں مکتب و نظریے کی حفاظت کی جدوجہد کو مزید تیز کرنا چاہئے  ارشادباری ہے کہ ظالموں کی طرف جھکاؤ بھی نہ کرو مولا علی  نے بھی اس کی وضاحت کی کہ ظالم کے مخالف رہو مظلوم کے حامی رہو ہم اک عادلانہ نظام کی جدوجہد کررہے ہیں عوام کے حقوق کی جدوجہد  کی اس تحریک کو منزل تک پہنچانے کے لئے اتحاد یگانگت  پیدا کرنی ہے اپنے پلیٹ فارم کو جو وسیلہ ہے مقاصد کے حصول کا اس کو مزید مضبوط کریں جس جذبے سے کارکنان و عوام نے اجتماع میں شرکت کی اس جذبے کو اور ذیادہ پڑھانے کی ضرورت ہے ہم نے مشکل حالات میں جدوجہد کی اور  تشیع کے حقوق اور پاکستان کے عوام کے حقوق کے لئے اب بھی جدوجہد جاری ہے اب بھی پاکستان میں لوگوں کے حالات ابتر ہیں مہنگائی بیروزگاری ان سب کے لئے جدوجہد کرنا ہماری ذمہ داری ہے علماء سے عہدلیا ہے کہ وہ ظالم کے پیٹ بھرنے اور مظلوم کے بھوکا رہنے پرخاموش نہ رہیں جس طرح شہداء مقاومت کی شہادت کے آثار نمایاں ہیں آپ بھی پاکستان میں جو جدوجہدکرں گے اس کے آثار بھی نمایاں ہونگے 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here