واضح ہوگیامودی ، ٹرمپ دونوں استعماری اہداف کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
واضح ہوگیامودی ، ٹرمپ دونوں استعماری اہداف کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

واضح ہوگیامودی ، ٹرمپ دونوں استعماری اہداف کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں ،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
امریکہ کسی کا دوست نہیں اسے صرف اپنے استعماری اہداف کی فکر ہے ،ہندوستان کو تھپکی اور دفاعی سازو سامان کے وعدے ،پاکستان کو صرف دلاسہ، ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 راولپنڈی /اسلام آباد26 فروری 2020 ء(جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ ٹرمپ اور مودی دونوں استعماری اہداف کے حوالے سے ایک صفحے پر ہیں، ٹرمپ کے دورئہ بھارت پر دلی سمیت دیگر مقامات پر جس طرح مسجد، مزار اور مسلم آبادیوں پر انتہاءپسندانہ حملے ہوئے جبکہ متعدد شہری اس انتہاءپسندی کی بھینٹ چڑھ گئے وہ ان نام نہاد جمہوری رہنماﺅں کے منہ پر طمانچہ ہے ، ٹرمپ کا نام نہاد بھارتی شہریت بل سے اظہار لاتعلقی اورصرف تجارتی و دفاعی ایشوز پر بات کرنا واضح کررہاہے کہ امریکی استعمار کو اپنے اہداف کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں، ٹرمپ ، مودی کے مشترکہ اعلامیہ نے بھی پاکستان کے حوالے سے ان کے مکروہ عزائم واضح کردیئے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، ہم پہلے بھی کہہ چکے کہ کشمیر کے حوالے سے امریکی ثالثی بھی نام نہاد ڈیل آف سنچری کی طرح ہی ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورئہ بھارت، انڈیا میں انتہاءپسندوں کی جانب سے مسلم آبادیوں ، مسجد و مزار سمیت درجن سے زائد شہریوں کے قتل ،املاک کو نقصان اور ٹرمپ مودی کے مشترکہ اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ ایک طرف امریکہ بھارت کو تھپکی دیتے ہوئے اس کے مقبوضہ کشمیر میں روا رکھے گئے مظالم پر شہ دیتاہے تودوسری جانب انڈیا کے اندر جاری مودی انتہاءپسندانہ کارروائیوں کو نظر انداز بھی کردیتاہے اور اسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرا ر دیتاہے مگر اپنے دورہ کے اختتام پر ایک طرف ہندوستان کو تھپکی کے ساتھ بھاری دفاعی سازو سامان کی یقین دہانیاں تو دوسری طرف پاکستان کوڈکٹیشن دینے کی کوشش کرتاہے اور ساتھ ہی کشمیر کے معاملے پر دلاسہ بھی دےتا ہے جس سے اسکا دہرامعیار کھل کر سامنے آرہاہے، ایسی کی سازشی پالیسی مشرق وسطیٰ میں بھی امریکہ روا رکھے ہوئے ہے، ہم ایک مرتبہ پھر متوجہ کرتے ہیں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہا جائے، امریکہ کی کشمیر پر ثالثی بھی فلسطین کے امن منصوبے کے نام پر نام نہاد ڈیل آف سنچری کی طرح ہی ہوگی، اس حوالے سے اب کشمیری رہنماﺅں کی جانب سے بھی کچھ تحفظات کا اظہار کیا جارہاہے جسے مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here