دوحہ معاہدہ مجبوری کی دستاویز ہے، اثرات مستقبل قریب میں واضح ہونگے،قائد ملت جعفریہ پاکستان
دوحہ معاہدہ مجبوری کی دستاویز ہے، اثرات مستقبل قریب میں واضح ہونگے،قائد ملت جعفریہ پاکستان

دوحہ معاہدہ مجبوری کی دستاویز ہے، اثرات مستقبل قریب میں واضح ہونگے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
 استعماریت کسی کی دوست نہیں بلکہ مفادات اسکی ترجیح ہوتے ہیں، ہمسایہ ملک میں امن کے خواہاں، افغان فریقین
 اور سٹیک ہولڈرز باہمی مذاکرات کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 راولپنڈی /اسلام آباد03 مارچ 2020ء (   جعفریہ پریس ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیںکہ یہ معاہدہ نہیں مجبوری کی دستاویز ہے جس کے اثرات مستقبل قریب میں واضح ہوجائینگے؟استعماری طاقتیں جہاں بھی جبراً قبضہ کرتی ہیں پھر وہاں کی عوام کو رسو ا کرکے اور بڑے مسائل پیدا کرکے فرار ہوجاتی ہیں، استعماریت کسی کی دوست نہیں بلکہ مفادات ان کی ترجیح ہوتے ہیں ، پائیدار امن کےلئے تمام فریقین اعتماد پر مبنی مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھیں گے تو ہی پائیدار امن قائم ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے حالیہ افغان صورتحال، دوحہ معاہدہ سمیت خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ یہ معاہدہ مجبوری کی دستاویز ہے جسے امریکہ امن معاہدے کے طور پر لہرا رہاہے ، انہوںنے سوال اٹھایا کہ کیا قابض افواج اور مقبوضہ عوام کے درمیان معاہدہ ہوسکتاہے؟ کیا اس معاہدہ میں تمام فریقین کا نکتہ نظر سمجھاگیا یا ا نہیں اعتماد میں لیاگیا؟اگر ایسا ہوا تو پھر فوراً اختلاف رائے کی فضا کیوںبن گئی؟قائد ملت جعفریہ پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ استعماری طاقتیں جہاں بھی جبراً قابض ہوتی ہیں پھر وہاں کی عوام کو رسوا کرکے اور بڑے مسائل پیدا کرکے راہ فرار اختیار کرتی ہیں، ایسا ہی کچھ تقسیم برصغیر کے وقت ہوا اور مسئلہ کشمیر اس وقت جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ اور انسانی المیہ کا روپ وھار چکا، استعماریت کسی کی دوست نہیں بلکہ مفادات ان کی ترجیح اور وہ اپنے مکروہ عزائم کی تابع ہوا کرتی ہے۔ہم اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں کیونکہ افغانستان میں جنگ و ا نارکی کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑے اور گزشتہ 4دہائیوں سے یہ خطہ امن و آشتی کوترس رہاہے ، تمام سنجیدہ فکر شخصیات اس صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کےلئے ضروری ہے کہ تمام افغان فریقین اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی جائے، باہمی مذاکرات کئے جائیں تبھی افغانستان میں امن قائم ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here