ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف رہبر معظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان
ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف رہبر معظم کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان

ہندوستان کے مسلمانوں پر ہونیوالے ظلم کیخلاف رہبر معظم کے بیان کا خیر مقدم اور اہلبیتؑ ورلڈ اسمبلی کے بیان کو سراہتے ہیں ،قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی
 ہندوستان کی حکومت نے شہریت کے نئے قانون کے تحت اس ملک کے کروڑوں مسلمانوں پر دباﺅاور پابندیاں لگا دی ہیں، اہل بیت ؑ ورلڈ اسمبلی
راولپنڈی/اسلام آباد 6مارچ 2020(   جعفریہ پریس  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے رہبر معظم آیت ال۔۔ہ خامنہ ای اورہل بیت ؑ ورلڈ اسمبلی کی جانب سے ہندستان میں مسلمانوں پر مظالم کی شدید الفاظ میں مذمتی بیان کی تائید اور خیرمقد م کرتے ہوئے اسے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کاموثر پیغام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ یا ملک ایسے ظلم و ستم کی حمایت نہیں کرتا اور مغربی دنیا اور مسلمان ممالک کو نہتے بھارتی مسلمانوں کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اور رہبر معظم آیت ال۔۔ہ خامنہ ای کا بیان عالم اسلام کی سرپرستی کی واضح دلیل ہے جس میں سپریم لیڈر آیت ا۔۔ہ خامنہ ای نے کہاہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے دل بھارت میں مسلم کش اقدامات پر غمگین ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ انتہا پسندوں اوران کی جماعتوں کا محاسبہ کرے، مسلمانوں کے قتل عام کو نہ روکا گیا تو عالم اسلام میں بھارت تنہا رہ جائے گا۔اور دوسری جانب اہل بیت ؑ ورلڈ اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام دشمن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ کے دوران اور بعد میں امریکی صدر کے اس ملک کے مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور نفرت پر مبنی بیان کی وجہ سے اس ملک کے ہزاروں انتہا پسند ہندوں نے مسلمانوں کے گھروں اور مساجد کو آگ لگانے ہوئے ایک خونی فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا جس کے نتیجہ میں بے گناہ و مظلوم افراد میں سے53 فراد جاں بحق اور200 سے زائد افرادزخمی ہوئے دوسری طرف ہندوستان کی حکومت نے شہریت کے نئے قانون کے تحت اس ملک کے کروڑوں مسلمانوں پر دباﺅاور پابندیاں لگا دی ہیں۔وہ اس بات پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنے ملک کو چھوڑ دیں اور ایک قسم کے پناہ گزینوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔دسری طرف یہ حکومت ہمسایہ ممالک کے غیر مسلم مہاجرین کوشہریت دینے کی حمایت کر چکی ہے۔یہ صورتحال دین و مذہب سے ہٹ کر ہر انسان کے لئے پریشان کن ہے چونکہ انتہاپسند ہندو مسلمانوں کی مساجد ،دینی و علمی مراکز اور مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا کر ،مسلمانوں پر ظلم و ستم اور بعض اہم علمی و مذہبی شخصیات کو گرفتار کر کے جیسے حجہ الاسلام و لمسلمین سید اسد رضا حسینی پرنسپل اسلامی مرکز مظفر نگر شامل ہیں ۔ایسے اقدامات نے فرقہ وارانہ و مذہبی خونی جنگ ،قتل و غارت کا آغاز کر دیا ہے جو کہ آخری چند دہائیوں میں فرقہ وارانہ فسادات کی سخت ترین شکل شمار ہوتی ہے۔دوسری طرف چشم دیدگواہوں کا کہنا ہے کہ پولیس صرف مسلمانوںکے قتل مساجد اور مسلمانوں کی املاک کی تباہی پر خاموش تماشائی بنی رہی۔عالمی اسمبلی اہل بیت جو کہ ایک بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ ہے دنیا کے مسلمانوں اور اہل بیت کے پیروکاروں کی انسانی ،قانونی اور روحانی حمایت کرنا فرض ہے نے حکومت ہندوستان کے اس برے اقدامات پرانتہائی پریشان ہے۔ان غیر انسانی اقدامات پر اظہارافسوس کے ساتھ ساتھ جو انسانی حقوق دینی و مذہبی آزادی کے خلاف ہے حکومت سے تقاضا کرتی ہے کہ بین الاقوامی قوانین انسانی حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ملک کی مسلمان اقلیت پر دباﺅ نہ ڈالتے ہوئے پابندیاں نہ لگاتے ہوئے ایسا اقدام نہ کریںجس سے دنیا کے سامنے اس ملک کے مقام گر جائے۔اگر سیکورٹی ادارے پارٹی بازی، عوام کی دینی شناخت سے ہٹ کر عوام کے جان و مال کا تحفظ کریں یہ حکومت ہندوستان کی جمہوریت کی خصوصیت ہونی چاہیے ۔اگر ایسانہ ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان کی جمہوریت اپنے ابتدائی ترین امتحان میںبے آبرومندانہ شکست کھائی ہے۔اہل بیتؑ ورلڈ اسمبلی نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی رعایت کرتے ہوئے ایسے اقدامات سے دوری اختیار کی جائے جن سے ہندوستان جیسے ملک کی عظمت کو ٹھیس پہنچے اور دنیا والوں کی نگاہوں میں اس کا مقام گر کر رہ جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here