کاش قومی قیادت وپلیٹ فارم کے سپوت سفیر انقلاب ڈاکٹر محمدعلی نقوی ہمارے درمیان موجود ہوتے لیاقت علی سیال
کاش قومی قیادت وپلیٹ فارم کے سپوت سفیر انقلاب ڈاکٹر محمدعلی نقوی ہمارے درمیان موجود ہوتے لیاقت علی سیال

کاش قومی قیادت وپلیٹ فارم کے سپوت سفیر انقلاب ڈاکٹر محمدعلی نقوی ہمارے درمیان موجود ہوتے

ڈاکٹر نقوی شہید کی برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر۔

لیاقت علی سیال

مدینۃ العلم، امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب ع کے جوار میں علمی و دینی گھرانہ میں آنکھ کھولنے والے سید محمد علی نقوی نجف کی مقدس فضاؤں سے کسب فیض کرتے ہوئے اور عالم جلیل القدر محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی رح جیسی فرشتہ صفت شخصیت سے تربیت پانے والے محمد علی نقوی خداداد صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے سفیر انقلاب کی منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
شہید ڈاکٹر جہاں علم ودانش کے متلاشی تھے وہاں قوم و ملت کی تعمیر بالخصوص نوجوانوں کے ارتقاء کیلئے تڑپتے تھے، شہید کے پاس دنیا داری کے لحاظ سے کسی قسم کے وسائل یا امکانات کی کمی نہ تھی اور نہ ہی دنیا کے جاہ وجلال کے پیاسے تھے بلکہ ملت کے ہر فرد کو قومی یکجہتی، بلند فکری، اعلی اہداف کیلئے متحد اور منسجم کرنے کے درد سے لبریز تھے یہی وہ فکر، ولولہ، جذبہ تھا کہ جس کی وجہ سے شہید نقوی آسائش و آرام کو چھوڑ کر نظریاتی اور مکتبی اقدار کیلئے ہمہ وقت کوشاں تھے۔
قوم کو علماء و مراکز دینیہ سے منسلک، جوانوں کو علماء کا تابع و دست و بازو اور علماء کی نگرانی میں مکتب کی سرحدوں کی حفاظت شہید کی زندگی کا نچوڑ ہے۔
شہید نے زندگی کے لمحہ لمحہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے ملک وملت کی ترقی کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔
شہید نے ذاتی پسند ناپسند کو ایک طرف رکھتے ہوئے اجتماعی سوچ کو اجاگر کیا اور رضائے الہی کیلئے کئی ایک نظریاتی تنظیموں کی داغ بیل اور فعالیت میں ناقابل انکار کردار ادا کیا۔
اور شروع سے ہی علماء کی قیادت اور رہنمائی میں ملت کی خدمت کو سعادت سمجھتے ہوئے نہ علماء سے آگے بڑھنے کی کوشش کی نہ پیچھے ہٹنے کا سوچا، انہیں مستحکم بنیادوں اور پختہ نظریات کی بنا پر قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین، قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی، قائد محبوب علامہ سید ساجد علی نقوی کے ساتھ تا دم شہادت عہد وفا نبھایا اور آخری سانس تک اپنے حلقہ احباب کو قومی قیادت اور قومی پلیٹ فارم کی چھتری میں متحد رکھا۔
نظریاتی اور راہ و روش سے اختلاف فطرتی عمل ہے لیکن شہید نے اختلاف نظر کو کبھی بھی ملت کی تقسیم کی طرف نہیں جانے دیا بلکہ دستوری اور آئینی انداز میں معاملات کو سلجھایا۔
افسوس صد افسوس اور دنیائےمفاد پرستی کی ستم ظریفی یہ ہے کہ شخصیات کے نظریات میں تحریف کر کے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے رہے بالخصوص ڈاکٹر نقوی کی زندگی میں متعدد کوششوں کے باوجود داخلی اختلاف میں ناکام ہونے والے عناصر شہید کی شہادت کے بعد، ان عناصر نے داخلی اختلاف کیلئے موقع کو غنمیت سمجھا اور دستور میں ترمیم، گروہ بندی اور ذاتی لابنگ اور مفادات سمیت ملت کے شیرازہ کو بکھیرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ،شہید کا وجودجہاں دشمنان اسلام کیلئے گراں تھا وہیں مفادات کے درپے لوگوں کیلئے شہید بہت بڑی رکاوٹ تھی شہید کے خلاء سے ان لوگوں نے اپنا سراٹھایا ، پھر فاصلے بڑھنے لگے، توانائیاں تقسیم ہونے لگیں، طوفان بدتمیزی عام ہوا، اسی حالت میں بچے جوان، جوان بوڑھے ہوگئے اور چند لوگوں کے ذاتی مفادات نے ملت کا ستیاناس کردیا۔
شہید کے نظریاتی اور تنظیمی افکار سے تربیت پانے والے افراد سخت سے سخت حالات میں قومی پلیٹ فارم، قومی قیادت کے دفاع کیلئے اور شہید نے جس نظریہ کیلئے خون کا نذرانہ پیش کیا تھا اس کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔
جن لوگوں نے ذاتی مفادات کیلئے شہید کے نظریات میں تحریف، جوانوں کے ذہن میں زہر، ملت کو تقسیم کرنے کی خیانت کی آج وہ لوگ در بدر اور جگہ جگہ ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور منہ چھپاتے پھرتے ہیں، ملت بیدار سے بیدار، جوانوں کے دل کل بھی پاکیزہ تھے آج بھی پاکیزہ ہیں چند مفاد پرستوں کے حربے ناکام ہوچکے، جوانوں میں شعور اور قومی و ملی پلیٹ فارم، قومی قیادت کی عظمت میں اضافہ اور لوگوں کے دلوں میں شہید کے چھوڑے ہوئے نقوش زندہ ہورہے ہیں اور کھوکھلے نعرے، سبز باغ، بے بنیاد الزامات اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں کیونکہ قومی پلیٹ فارم کی مضبوط بنیادوں میں ہزاروں شہداء کا خون شامل ہے یہ اپنی آب و تاب کے ساتھ رکاوٹوں کو راستے سے ہٹاتے ہوئے رواں دواں رہے گا
کاش قومی پیلٹ فارم و قومی قیادت کے سپوت شہید ڈاکٹر نقوی موجود ہوتے تو آج ہم ارتقاء کے اعلی ترین منازل پر ہوتے۔
ان شاء اللہ شہید کے حقیقی افکار سے یہ کارواں سوی منزل آگے بڑھتا رہے گا۔

روحش شاد#فکر شہید پایندہ باد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here