امن کا سیاسی کھیل اور کرونا وائرس ثقلین واحدی
امن کا سیاسی کھیل اور کرونا وائرس ثقلین واحدی

امن کا سیاسی کھیل اور کرونا وائرس ثقلین واحدی

علم و آگہی انسانی فطرت کو عقل و شعور سے آراستہ کرتے ہوئے اسے غلط اور صحیح میں امتیاز کرنے کی صلاحیت سے روشناس کراتے ہیں  علم نور کی علامت اور جہالت تاریکی کا رستہ ہے  جنگ جہالت  اور علم امن کا پیامبر ہے انسان چونکہ فطری طور پہ سلیم الطبع خلق کیا گیا ہے اس لیئے ہر انسان فطری طور پر امن و آشتی کا متلاشی ہے  ہاں یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے بعض انسان نفسانی خواہشات یا بعض دوسرے مسائل کی بناء پہ جنگ و جدال کے رستے پہ چل نکلتے ہیں اور پھر دنیا ایسے انسانوں کی بربریت کے نمونے یمن،شام،عراق،فلسطین،کشمیر و افغانستان جیسے علاقوں میں دیکھتی ہے ظلم و بربریت کے ایسے خونی کھیل کے بعد امن کا سیاسی کھیل کھیلا جاتا ہے ایسا ہی امن کا ایک سیاسی کھیل امریکہ و طالبان کے درمیان دوحہ میں کھیلا گیا۔

سوویت یونین نے جب دسمبر 1979 میں افغانستان پہ حملہ کیا تھا اس وقت گو کہ امریکہ براہ راست سامنے نہیں آیا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے اپنی مداخلت ضرور جاری رکھی یوں روس رسوا ہو کر افغانستان سے نکلا لیکن افغانستان میں اقتدار کی ایسی جنگ چھڑی جو آج بھی جاری ہے اور امریکہ جو پہلے سے ہی خطے میں داخل ہونے کے درپے تھا اپنے ارادوں میں کامیاب ہوا۔

افغان مجاہدین جو طالبان کے نام سے سامنے آئے  انہوں نے افغانستان میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کیا یوں نئے مظالم کا آغاز ہوا اور خون کی ندیاں پھر سے بہنے لگیں بن لادن کی گرفتاری کے بہانے امریکہ بہادر نے ستمبر 2001 میں افغانستان پہ چڑھائی کی  تقریبا 18 سال کے خونی کھیل کے بعد جب امریکہ کو باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کا دور شروع ہوا امریکہ اور طالبان کے درمیان یہ ڈرامہ تقریبا 18 ماہ جاری رہا  بالآخر 29فروری 2020 کو اس  کھیل نما معاہدے پہ طالبان کے نمائندے ملا برادر اور امریکی  زلمے خلیل زاد نے دستخط کر دیئے اس معاہدے کی بقاء کی غیر یقینی صورتحال یہیں سے شروع ہوئی طالبان چاہ رہے تھے کہ معاہدے  پہ دستخط ٹرمپ یا  ٹرمپیو (پومپیو)کریں لیکن یہ شرط نہیں مانی گئیامریکی صدر اورسیکیرٹریخارجہکےعلاوہ مارک ایسپربھی دستخط کر سکتےتھے لیکن نہیں دستخط خلیل زاد سےہیکرائےگئے  تقریب میںامریکی وزیر جنگ اورسیکریٹریخارجہنےاپنےاپنےخطاباتمیںدھمکی آمیز لہجہاپنائےرکھا مخدوم قریشی صاحب بھی تقریب میں موجود تھے شاید اپنےگمشدہ احسان اللہ احسان کی کھوجمیں ۔۔۔۔۔۔۔

خیر طالبان امریکہ نام نہاد امن معاہدے کی شرائطمیں ایک اہم شرط یہتھیکہ طالبان افغانستان میںایسی کسی قوت کو سر اٹھانےنہیںدینگے جو امریکیمفاداتکے مخالف ہو

دوسری شرط یہتھیکہامریکہاور اسکی اتحادی نیٹوفورسز 14ماہ میں افغانستان سےنکلجائیں گی یہاںبھی سوال پیدا ہوتاہےکہ 14 ماہہیکیوں؟؟؟

اگلےہیدنکہاگیاکہمعاہدے کی کچھشرائط مخفی رکھیگئیہیںیہبھی ایک الگ سوال ہےکہوہکونسیشرائطہیںجنکو مخفی رکھاگیااورکیوںرکھاگیایہ کون بتا  سکتاہے شاید مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب بشرطیکہ ان سےبھییہشرائط مخفی نہرکھیگئیہوں۔

بہرحالاب ان 14 ماہ کو 14سالوں میں تبدیل کرنےکےلیئے مختلفحربے شروع ہوچکےہیں اشرف غنی معاہدے کی اگلی صبح ہیکہتےہیں طالبان قیدیوں کو رہانہیںکریںگے  غنی صاحب اوراتناجراتمندانہ بیان!!!

غنی صاحب اتنے پاور فل ہوتے تو کل جب وہ حلف اٹھا رہے تھے عبداللہ عبداللہ الگ سے حلف نہ اٹھاتا۔

چند دن پہلے شھید عبدالعلی مزاری کی برسی کی تقریب میں 30 سے زائد بے گناہ انسانوں کو خون میں نہلا دیا گیا یہ ہیں وہ طریقے جو مہینوں کو سالوں میں بدلنے کے لیئے آزمائے جا رہے ہیں آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

امن کا دشمن امریکہ مشرق وسطی میں اپنی موجودگی پہ ٹریلین ڈالرز اڑا چکا ہے اسے خطے میں کبھی کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا  نہ ہی ایبٹ آباد میں انڈرگراونڈ کملپلیکس کو اڑانے کے بعد  اور نہ شام میں ترکی کی سرحد کے قریب بغدادی بھری سرنگ اڑانے کے بعد

ہاں مگر 3 جنوری 2020 کو امریکہ نے بغداد میں وہ غلطی کی جس سے اسے مشرق وسطی اپنے خونی پنجوں سے پھسلتا نظر آیا  جی ہاں قاسم سلیمانی ارباََ  اربا ہونے کے بعد امریکہ کے لیئے پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا عراقیوں نے تاریخ رقم کرتے ہوئے امریکہ کو واشگاف الفاظ میں بتایا کہ اگر باتوں سے نہیں مانو گے تو بات لاتوں تک پہنچے گی آیت ۔۔۔مائیک کی ہلاکت نے امریکہ کے شیطانی ارادوں میں مزید رخنہ ڈالا۔

سو  اب اپنے کمزور ہوتے وجود کو مشرق وسطی میں باقی رکھنے  چینی معیشت کو کمزور کرنے اور ایران کو دنیا سے الگ تھلگ رکھنے اور اسکی برآمدات کو نشانہ بنانے کے لیئے طبی دہشت گردی شروع کی گئی جی ہاں کرونا سب سے پہلے چین و ایران میں حملہ آور ہوا جہاں امریکہ کا کوئی عمل دخل نہیں  روس بھی اس بات کا اعلان کر چکا ہے کہ امریکی اپنی لیبارٹریوں میں خطرناک وائرس تیار کر رہے ہیں آج نہیں تو کلہو بہو عین الاسد کے اعترافات کی مانندکوئی نہ کوئی امریکی اس بات کا اعتراف کرے گا کہ کرونا ہماری ایجاد تھی۔

کرونا وائرس سے اپنے آپکو اپنی فیملی کو اپنے ارد گرد والوں کو احتیاطی تدابیر اپنا کر بچائیں مگر مشرق وسطی کی گھمبیر صورتحال اور اس میں امریکہ کے گھناونا کردار سے  توجہ مت ہٹائیں کیونکہ اسی سے آپکا مستقبل وابستہ ہے ۔

آخر میں طالبان اور انکے ہمنواوں کو یاد دلاتا چلوں کہ امریکہ نے ایک تجارتی معاہدہ چین سے بھی کیا تھا اور ایک جوہری معاہدہ ایران سے بھی۔۔۔

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here