کورونا چیلنج علامہ ساجد نقوی
کورونا چیلنج علامہ ساجد نقوی

کورونا چیلنج سے نمٹنے کےلئے قومی یکجہتی ضروری، افسوس حکومتی ناقص انتظامات تعصبات کو ہوا دے رہے ہیں، علامہ ساجد نقوی
تفتان بارڈر پر قرنطینہ کی سہولت نہیں تھی تو ایک عرصہ تک زائرین کو کیوں روکا گیا؟مشکل صورتحال میں تعاون کےلئے تیارلیکن زائرین کی تذلیل ناقابل برداشت ہے، پراپیگنڈہ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں،قائدملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی/ اسلام آباد17 مارچ 2020ء( جعفریہ پریس) قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کورونا جیسے چیلنج سے نمٹنے کےلئے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے افسوس حکومت کے ناقص انتظامات اورامتیاز و تعصبات سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ زائرین سے مسلسل زیادتی کا پردہ چاک،زائرین کے راستے میں سالہاسال سے حیلے بہانوں،من مانی اور تعصب سے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہیں مگر ہم نے کڑوے گھونٹ پی کر رابطوں کے ذریعے ان مشکلات کو حل کرنے کا عمل جاری رکھا۔ہم ذمہ داران کو بارہا آگاہ کرچکے کہ تفتان بارڈر پر انتظامات سے متعلق ہمارے تحفظات پر غور کیا جائے مگر یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی کہ تفتان بارڈر پر قرنطینہ کے انتظامات ہی نہیں تھے، میڈیکل وسائل سے لیس کوئی قرنطینہ نہیں تھا،زائرین کوبھیڑ بکریوں کی طرح باڑے جیسے ماحول میں رکھا گیا اب ان اعلانات و اقدامات کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ہزاروں زائرین کوکئی دن تک ایک جگہ رکھ کر بیمار ہونے کےلئے کیوں چھوڑاگیا؟ حقیقت سے راہ فرارکیوں اختیارکیا جا رہاہے ؟مشکل صورتحال میں تعاون کےلئے تیار لیکن زائرین کی تذلیل ناقابل براشت ہے، پراپیگنڈہ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے متضاد بیانات اور انتظامات بارے اطلاعات پر اپنے رد عمل میں کیا۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھاکہ کورونا جیسے چیلنج سے نمٹنے کےلئے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے، جب چین میں کورونا وباءکی اطلاعات آئیں تو اس وقت اقدامات کی بجائے سست روی کیوں اختیار کی جاتی رہی؟تفتان انتظامات بارے عرصہ سے متوجہ کرتے آرہے ہیں مگر سنجیدہ اقدامات کیوں نہیں اٹھائے گئے؟ہم ذمہ داران کو با رہا آگاہ کرچکے، تحفظات تحریری طور پر بھجوانے کے ساتھ اعلیٰ سطحی میٹنگز میں معاملات کی جانب بھی توجہ مبذول کراچکے مگر سنجیدہ اور بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے، ناقص انتظامات ، رابطوں کافقدان اور تعصبات قومی یکجہتی کونقصان پہنچانے کا موجب بن رہے ہیں کیونکہ ایک طرف کچھ ممالک سے آنیوالے افرادکوبہتر طریقے سے ڈیل کیا جارہاہے جبکہ دوسری طرف زائرین کے ساتھ ناروا سلوک۔ انہیں پہلے تفتان بارڈر سے میڈیکل سہولیات اور خوراک و رہائش کے حوالے سے بدسلوکی کی اطلاعات ملتی رہیں جبکہ صوبائی قرنطینہ سنٹر ز میں ناقص انتظامات کی مستند اطلاعات پہنچ رہی ہیںان میں کھانا ناقص ،ناکافی اور دینے کی بجائے پھینکا جا رہا ہے جو انسانی تذلیل کے مترادف ہے اور میڈیکل وغیرہ کی سہولیتں بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔جب تفتان بارڈر پر قرنطینہ کے انتظامات ہی نہیں تھے تو پھر ہزاروں زائرین کو کئی دن تک ایک جگہ پر رکھ کر بیمار ہونے کےلئے کیوں چھوڑ دیاگیا۔زائرین پاکستانی شہری ہیں ،برابر کے حصہ دار ہیں ، کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود حکومت ان کو ہر صورت پاکستان میں لانے کی ذمہ دار ہے۔اگرحکومت بدانتظامی میں مبتلا ہے تو اس کے ذمہ دار شہری نہیں ہیں ۔بیانات میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے ۔کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ زائرین نہیں بلکہ انتہائی درجے کی بدانتظامی ہے ۔ ہم واضح کررہے ہیں کہ پراپیگنڈہ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں ،انسانی جانوں کی قیمت پرکوئی اقدام قابل قبول نہیں اورکسی بھی صورت شہریوں کی تذلیل برداشت نہیں کی جائےگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here