سفر مدینہ ۲۸ رجب کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

سفر مدینہ ۲۸ رجب کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

راولپنڈی23مارچ 2020ء( جعفریہ پریس    )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ حق و صداقت کی سربلندی اور دین مبین اسلام کی ترویج و اشاعت جیسے بڑے مقصد کیلئے نواسہ پیغمبر نے اپنے نانا کے مدینہ کو خیرباد کہہ کر رہتی دنیا تک کے لئے یہ ثابت کردیا کہ اگر دین اسلام پر مشکل اور کڑا وقت آجائے تو وطن جیسی محبوب چیز چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا جانا چاہیے۔

قافلہ کربلا کی مدینہ سے روانگی کے روز کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسین ؑ نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار‘ جاہ و حشم کے حصول‘ ذاتی مفادات کے پیش نظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقین کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی‘ دنیاوی ‘ حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام عالی مقام کی بے مثال تحریک سے آج بھی دنیائے عالم میں چلنی والی آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں اور چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ‘ غیر اسلامی‘ لادین‘ غیر منصفانہ‘ ظالمانہ اور آمرانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ۔فرزند پیغمبر کا کردار ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ؑ کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے پوری انسانیت کی نجات کیلئے آواز اٹھائی اورخصوصیت کے ساتھ محروم‘ مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں‘ بے اعتدالیوں‘ بدعنوانیوں‘ کرپشن‘ اقرباءپروری‘ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی‘ شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی بھی نشاندہی فرمائی۔ امام حسین ؑ کے اس اجتماعی انداز سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here