تمام حفاظتی و طبی اقدامات اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجو د کیوں زائرین کو تنگ کیا جارہا ہے، شیعہ علماءکونسل پاکستان

تفتان کے بعد ملتان قرنطینہ میں مدت پوری کرنے والے صحت مند زائرین تاحال گھر جانے کے منتظر
تمام حفاظتی و طبی اقدامات اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجو د کیوں زائرین کو تنگ کیا جارہا ہے، شیعہ علماءکونسل پاکستان
زائرین کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک کے ساتھ میڈیا ٹرائل کیا گیا، مکمل تعاون کے باوجود انتظامیہ کی بے حسی ناقابل قبول ہے، علامہ عارف واحدی

  اسلام آباد /راولپنڈی 5 اپریل 2020ئ( جعفریہ پریس   )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کہتے ہیں زائرین کو تفتان کے بعد ملتان سمیت دیگر قرنطینہ سینٹرز میں رکھا گیا حالانکہ ابتدائی طور پر بنیادی سہولیات تک نہیں تھیں، مشکل صورتحال کے پیش نظر وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ نچلی سطح تک مکمل تعاون کر تے رہے ہیں مگر اس کے باوجود طبی، حفاظتی اقدامات اور قرنطینہ کی دوہری مدت پوری کرنے کے باوجود زائرین کو ان کے گھروں میں جانے سے روکا جارہا ہے، زائرین کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک اور میڈیا ٹرائل ناقابل قبول ہے، ایسی صورت حال برقرار رہی اور تحفظات دور نہ کئے گئے تو ذمہ دار انتظامیہ اور حکومت خود ہوگی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے زائرین سے متعلق حالیہ صورتحال پر مختلف سطحوں پر رابطوں کے باوجود زائرین کو درپیش مشکلات کا مکمل ازالہ نہ ہونے پر اپنے ردعمل میں کیا- علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایات، مسلسل رہنمائی، نگرانی کی روشنی میں جو اقدامات اٹھائے گئے ۔ہمارے علاوہ مرکزی نائب صدر و مسو ¿ل امور شعبہ زائرین علامہ مظہرعباس علوی ،صوبائی صدر جنوبی پنجاب علامہ موسیٰ رضا جسکانی اور ان کی ٹیم کے اعلیٰ سطحی،ڈویژنل و مقامی انتظامیہ سے رابطوں کے سبب 1160زائرین ملتان قرنطینہ سنٹر سے گزشتہ شام اپنے اپنے اضلاع کو روانہ کردیئے گئے تھے جبکہ انتظامیہ نے روانگی کے وقت اس امر کی یقین دہانی کروائی تھی کہ زائرین کو ان کے گھروں میں پہنچایا جائے گا۔ مگر انتظامیہ نے اپنی یقین دہانیوں کے برعکس زائرین کو ان کے متعلقہ اضلاع میں قرنطینہ سنٹر بنا کر نظر بند کردیا جو صریحاً نا انصافی ہے کیونکہ یہ زائرین تفتان اور ملتان سنٹرز میں ایک ماہ 7 دن گزارچکے ہیں، جو مطلوبہ مدت سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے۔ ملتان سنٹر میں ان زائرین کی ٹیسٹ رپورٹس بھی نیگیٹو آئی تھیں۔ اس کے باوجود ان کو گھروں کو نہ بھجوانا ظلم و زیادتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرنطینہ کی دہری مدت پوری کرنے اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کے باوجود زائرین کو ان کے گھروں کو جانے کی اجازت نہ دینا انتہائی زیادتی ہے، ہم نے روز اول سے کہا تھا کہ کورونا کے اس انسانی المیے سے نمٹنے کے لئے حکومت سمیت ہر ادارے اور ہر سطح پر مکمل تعاون کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ عملی طور بھی متحد ہوکر اس سے نمٹیں گے، ہماری اس حوالے سے نہ صرف رضاکارانہ سرگرمیاں جاری ہیں بلکہ مذہبی اجتماعات سمیت دیگر تمام اہم فیصلوں پر حکومت کا ساتھ دیا ہے مگر افسوس زائرین سے متعلق ہمارے تحفظات تاحال مکمل دور نہیں کئے گئے اب بھی سینکڑوں زائرین صحت مند قرار دیئے جانے کے باوجود گھروں کو روانہ نہ کئے جاسکے- انہوں نے کہاکہ زائرین کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک اور میڈیا ٹرائل ناقابل قبول ہے، ایسی صورت حال برقرار رہی اور تحفظات دور نہ کئے گئے تو ذمہ دار انتظامیہ اور حکومت خود ہوگی-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here