امریکی پابندیوں کے  نرغے میں سربلند “جمہوری اسلامی     ثقلین واحدی

ہر فرعون کے لیئے ایک موسی ہو اکرتا ہے 1979 تک امریکہ مشرق وسطی کا فرعون بنا رہا اسے کوئی روک ٹوک نہ تھی اپنی مرضی سے آنا اپنی مرضی سے جانا مشرق وسطی خصوصا ایران کو وہ اپنی چھاونی سمجھتا تھا جہاں کوئی اسے کوئی للکار نہیں سکتا تھا خطے کے بڑے بڑے حکمران اسکے مقابل کھڑا ہونے کی جرات نہیں رکھتے تھے شاہِ ایران خطے میں امریکی پولیس مین کا کردار ادا کر رہا تھا سب کچھ امریکی مفادات کے حوالے سے  اچھا چل رہا تھا کہ اچانک حالات نے پلٹا کھایا 11 فروری 1979 کا سورج انقلاب اسلامی کی نوید لیکر طلوع ہوا  مشرق وسطی میں امریکی مفادات پہ کاری ضرب پڑی امام خمینی موسی کے روپ میں فرعونِ زمان کے مقابل کھڑے ہو گئے امریکی پولیس مین راہ فرار اختیار کر چکا تھا امریکہ اور اسکے حواری سمجھ گئے جب تک خمینی و فرزندانِ خمینی موجود ہیں خطے میں ہماری کامیابی ممکن نہیں اسلام دشمنان سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اس مشکل کا توڑ کیسے نکالا جائے

یہاں یاد دلاتا چلوں کہ موجودہ  دور میں جس ملک و ملت پہ غلبہ کرنا مقصود ہو  اس پہ بجائے اسکے کہ جنگی جہازوں سے حملے کیئے جائیں  یا میزائل برسائے جائیں  اسکے اقتصاد پہ حملہ کیا جاتا ہے  اقتصادی لحاظ سے پابندیاں عائد کی جاتی ہیں اس ملک کی معیشت کو تباہ کر کے اسے جھکنے پہ مجبور کیا جاتا ہے  لیکن انقلابِ اسلامی کا خطرہ امریکہ کے لیئے اتنا بڑا تھا کہ اس نے دونوں طرف سے حملہ آور ہونے کا منصوبہ بنایا  ایک طرف جمہوری اسلامی کا اقتصادی پابندیوں سے گھیراو شروع کیا تو دوسری جانب صدام کے ذریعے ایران پہ حملہ آور ہوا

تاریخ گواہ ہے کہ ایران پہ اقتصادی پابندیوں کا آغاز 1980 سے ہوا  جب ایک طرف 22 مئ 1980 کو امریکہ نے ایران کا اقتصادی گھیراو شروع کیا دوسری طرف اپنے ایجنٹ صدام کے ذریعے 22 ستمبر 1980 کو ایران پر ایک ایسی جنگ مسلط کی جسکے نہ صرف یہ کہ دونو ں مسلمان ممالک  بلکہ مشرق وسطی بھی قطعی طور پر ایسی کسی جنگ کا متحمل نہیں تھا دونوں طرف سے بے گناہ انسان مارے جانے لگے امریکہ نے دونوں جانب سے اپنا کھیل جاری رکھا صدام اور صدامیوں کو اسلحہ بھی پہنچاتا رہا جبکہ دوسرے محاذ پہ ایران کو سخت ترین پابندیوں میں جکڑنے کا عمل بھی جاری رکھا

ان پابندیوں میں مزید سختی 1995 میں دیکھنے میں آئی جب بل کلنٹن نے امریکی تیل و گیس  کمپنیوں کو

ایرانی تیل کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کرنے سے روک دیا

سال 2001 میں ان پابندیوں میں تسلسل کے ساتھ ساتھ ایک تبدیلی یہ آئی کہ پہلے صرف ایرانی

سرکاری  افراد  اور کمپنیوں کا گھیراو کیا جاتا تھا  اب غیر سرکاری  افراد اور ادارے بھی ان پابندیوں کی زد میں

آنے لگےاس تبدیلی کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام جو آٹھ سالہ زبردستی مسلط کی گئی

جنگ کی وجہ سے کمزور پڑ چکا تھا اس میں دوبارہ طاقت آچکی تھی اور اس پہ زور و شور سے کام جاری تھا

طاقت کے توازن میں تبدیلی دیکھتے ہوئے امریکہ نے بھی پینترا بدلا  اور غیر سرکاری افراد و کمپنیاں بھی

اب زیرِ عتاب آنے لگے امریکہ کی دیکھا دیکھی اور اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یورپی یونین اور اقوام

متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی انقلابِ اسلامی کو اپنے لیئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے ہوئےایران پہ اقتصادی 

پابندیاں عائد کر دیں لیکن انقلاب کا جو بیج امام راحل نے بویا تھا وہ اب ایک تن آور درخت بن چکا تھا

جمہوری اسلامی نے رہبرِ حکیم کی سرپرستی میں اس شدید ترین اقتصادی محاصرے میں بھی ترقی کا عمل

جاری و ساری رکھا خود رہبرِ انقلاب  انکے مشیران اور ایرانی وزیر خارجہ سمیت متعدد اہم افراد ان غیر

قانونی و غیر انسانی پابندیوں کا شکا رہوئے لیکن رہبرِ انقلاب نے ہمیشہ یہی فرمایا  “محنت جاری رکھیں یہ

پابندیاں ہمارے لیئے نعمت ثابت ہونگی ” اوباما دور میں مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر ایران کے ساتھ ایک

معاہدہ تشکیل دیا گیا جسے ٹرمپ نے آتے ہی کینسل کیا اور یوں ٹرمپ دور میں جمہوری اسلامی پر

پابندیوں کا شدید ترین دور شروع ہوا 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو دوائیں اور طبی آلات

سپلائی کرنے پر پابندی عائد کر دی  بقول رہبر معظم انقلاب بظاہر پینٹ کوٹ پہنے اور خوشبو و ٹائی لگائے

بظاہر مہذب نظر آنے والے اندر سے کتنے غیر مہذب ہیں  جنہیں دوائوں کے نہ ہونے کے باعث انسانی

جانوں کے ضیاع کا کوئی احساس

نہیں

اسوقت جب کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے تقریبا 18 لاکھ افراد اس سے متاثر ہو چکے

جبکہ ایک لاکھ سے زائد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جمہوری اسلامی جو پہلے سے ان  غیر قانونی  و غیر انسانی

پابندیوں کی زد میں تھا کورونا کا شکار ہوا 70 ہزار سے زیادہ افراد کورونا کا شکار ہوئے جس میں سے چار

ہزار سے زیادہ جان دے چکے ہیں شدید ترین پابندیوں کے نرغے میں ہونے کے باوجود مریضوں کا علاج

کامیابی سے جاری ہے تقریبا 42 ہزار افراد اس وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں کورونا کے اوج کے

دنوں میں بھی ایران میں غذائی اشیاء سمیت کسی چیز کی کمی محسو س نہیں کی گئی عام دکانوں سے لیکر سپر

مارکیٹس تک سب کچھ آسانی سے مل رہاتھا  یورپ امریکہ و برطانیہ کا حال سب کے سامنے ہے بڑی بڑی

مارکیٹیں خالی ہو چکی ہیں لوگوں کو غذائی اشیاء بھی نہیں مل رہیں لیکن ان بدترین حالات میں بھی 

امریکی بدمعاشی جاری ہے ہر چند ہفتوں بعد نئی پابندیاں لگ رہی ہیں  جب کہ پاکستان، روس

، چین اور اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک و شخصیات امریکہ کی اس اقتصادی دہشتگردی  کے خلاف سراپا

احتجاج ہیں بہرحال جمہوری اسلامی اپنے رہبرِ عظیم الشان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

کی قیادت و سرپرستیa میں سربلند ہے انکا حکیمانہ قول حرف بہ حرف سچ ثابت ہورہا ہے پابندیاں نعمت  بن

چکی ہیں   جمہوری اسلامی تنِ تنہا کورونا وائرس کو شکست دینے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے ۔

بقول شاعر                                                                                  ۔۔۔۔۔وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرےa

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here