یوم مواخات تاریخی دن ہے اس موقع پر تجدید عہد کیا جائے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

یوم مواخات تاریخی دن ہے اس موقع پر تجدید عہد کیا جائے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

عالم اسلام اور اسلامیان پاکستان کو جتنی اس وقت وحدت و اتحاد اور باہمی اخوت و یگانگت کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی ، قائد ملت جعفریہ
 پیغمبر اکرم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ”مواخات“بھائی چارہ قائم کیا دو دو فرد کو بھائی قرار دیا اور حضرت علی ؑ ابن ابی طالب کو اپنا بھائی قرار دیا

راولپنڈی/ اسلام آباد5 مئی 2020 ء( جعفریہ پریس پاکستان  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ12رمضان المبارک ایک تاریخی دن ہے جب پیغمبر اکرم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ”مواخات“بھائی چارہ قائم کیا دو دو فرد کو بھائی قرار دیا اور حضرت علی ؑ ابن ابی طالب کو اپنا بھائی قرار دیا۔ انہوں نے کہاہے کہ عالم اسلام اور اسلامیان پاکستان کو جتنی اس وقت وحدت و اتحاد اور باہمی اخوت و یگانگت کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی لہذا روز مواخات کو یاد رکھتے ہوئے آج ایک بار پھر ”صیغہ اخوت“ کی تجدید کی جائے اور انصار و مہاجرین والا جذبہ بیدار کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ بانٹے جائیں تاکہ مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کیا جاسکے۔پاکستانی مسلمانوں میں اس بارے میں کوئی دوآراءنہیں کہ شرپسند عناصرکا کسی مذہب و مکتب سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان کا مسلک صرف اور صرف شر انگیزی ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ پیغمبر گرامی قدر کی سیرت عالیہ سے صحیح استفادہ کرکے حقیقی معنوں میں دنیوی و اخروی نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر گرامی کی آمد کا مقصد دنیا کو تاریکیوں کی گہرائی سے نکال کر نور کی بلندیوں تک پہنچانا تھا یہی وجہ ہے کہ سرور کائنات کی تبلیغ اور جدوجہد سے آج اسلام تنہا ایسے دین کی حیثیت سے ابھرا ہے جو ہر شخص‘ ہر طبقے اور ہر معاشرے کو زوال سے نکال کر کمال کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماہ صیام میں چونکہ دل او رروح نیکی اور پرہیزگاری کی جانب مائل ہوتے ہیں لہذا اس ماہ مبارک میں دین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی بہترین مشق کا موقع میسر آتا ہے ۔ انفرادی عبادت و ریاضت اور تزکیہ و تقوی کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے اجتماعی امور کی جانب بھی توجہ دی جانی نہایت ضروری ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات کا واحد حل تعلیما ت قرآن اور سیرت پیغمبر گرامی سے صحیح استفادہ اور اتحاد و وحدت میں مضمر ہے۔ باہمی محبت و رواداری کو فروغ دیں‘ نفرتوں‘ بغض و عناد اور عداوتوں کا خاتمہ کریں‘ فروعی مسائل اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دینے سے گریز کریں اور مشترکات پر جمع ہوکروحدت کا عملی مظاہرہ کریں تاکہ وطن عزیز سے بدامنی‘ دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل و مشکلات کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here