مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع کیا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع کیا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود عزم و استقلال سے اسلام کا دفاع کیا، قائد ملت جعفریہ پاکستان

 اسلام کے دفاع اور اسلام کو اغیار اور دشمن قوتوں کی سازشوں اور حملوں سے بچانے کے لیے اصحاب بدر والا جذبہ پیدا کریں، قائد ملت جعفریہ
راولپنڈی/ اسلام آباد10 مئی 2020 ء(   جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے فتح جنگ بدر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ مجاہدین بدر نے قلت کے باوجود جس عزم اور استقلال سے اسلام کا دفاع اور اسلام دشمن قوتوں کا مقابلہ کیا اس کی مثال غزوہ بدر سے پہلے اور بعد میں کہیں نہیں ملتی۔ کثرت پر قلت کا غلبہ پہلی مرتبہ غزوہ بدر میں دیکھنے کو ملا جس سے رہتی دنیا تک مسلمانوں اور مجاہدین کو سبق ملا کہ وہ افراد کی قلت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے پریشان نہ ہوں بلکہ ایمان، اعتقاد، یقین اور سچے جذبے سے کام لیں تو بڑی سے بڑی ظالم طاقت کو بھی شکست فاش دی جا سکتی ہے ۔
 اسلام کے پہلے معرکے میں جس طرح جرات و بہادری اور قربانی کی مثالیں رقم کی گئیں وہ اسلام کا اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ محافظ رسالت حضرت علی ؑ نے جس دلیری کے ساتھ سینہ سپر ہوکر کفار اور دشمنوں کو واصل جہنم کیا یہ جذبہ ہر مجاہد اور حریت پسند کے لیے نمونہ عمل ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا غزوہ بدر توکل بر خدا اور احکام اور پالیسیوں پر صدق دل سے عمل کرنے کا واضح مظاہرہ ہے جس سے سبق ملتا ہے کہ جس طرح اصحاب بدر نے بہت کم تعداد میں ہونے اور وسائل کی واضح کمی ہونے کے باوجود حکم رسول کی اطاعت کی اور اپنے آپ کو قربانی کےلئے پیش کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور یقین قلب کے ساتھ شہادت قبول کرتے رہے اسی طرح اگر اس دور کے مسلمان بھی سچے جذبے اور کامل ایمان کے ساتھ اسلام کے دفاع اور اسلام کو اغیار اور دشمن قوتوں کی سازشوں اور حملوں سے بچانے کے لیے اصحاب بدر والا جذبہ پیدا کریں تو کوئی طاقت اسلام کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مجاہد ین بدر کی طرح کندھے سے کندھا ملا کر تمام مسلمانوں کو مشکلات کے حل میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اگر کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہ ہو تو اسے اپنے مسلمان ہونے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ مسلمان ایک امت ہیںاور امت کی بقا ہر شے پر مقدم ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here