حضرت علی ؑکی ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

حضرت علی ؑکی ذات کا منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

امیرالمومنین حضرت علی ؑ کی سیرت پر عمل کرکے عالم اسلام کے مسائل حل کرسکتے ہیں، قائد ملت جعفریہ
 علوی ؑسیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرارپایا۔
 راولپنڈی/اسلام آباد 14مئی2020 ء ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے امیر المومنین حضرت علی ؑ ابن ابی طالب علیہ السلام کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ امیرالمومنین ؑکی ذات کا ایک منفرد پہلو عدل و انصاف کا نفاذ ہے جو انہیں دنیا کے تمام حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔انہوں نے کہا کہ کردار امیرالمومنین ؑ کے مطابق اپنے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کر کے، نظام کی خرابیوں کو درست کرکے اور اپنے آپ کو منظم و متحد کرکے ہم ظلم، ناانصافی، بے عدلی، تجاوز، دہشت گردی اوردیگر چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں کیونکہ امیرالمومنین حضرت علیؑ ابن ابی طالب ؑکے نظام حکمرانی اور نظام احتساب سے استفادہ کرکے امت مسلمہ کے موجودہ حالات اور خراب صورت حال کو درست کیا جا سکتا ہے۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ حضرت علی ؑ ابن ابی طالب ؑ نے بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کر دکھایا آپ ؑ نے تطہیر نفس کے لیے تقوی، شب بیداری، عبادت، حسن سلوک،عاجزی، انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے لیے عدل، انصاف، اعتدال، توازن، حقوق کا حصول اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے لیے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ امیرالمومنین ؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم ؐ کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ ہے کہ امیرالمومنین ؑ کا دور حکومت بہت سارے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ اگرچہ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اور حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے امیر المومنین ؑ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو چھپانے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن تاریخ کے جھروکوں سے وہ تمام کامیابیاں اور اصلاحات آج بھی نظر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ  اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ اسی عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دور حکومت میں مثبت اور تعمیری سیاست کی داغ بیل ڈالی۔ حزب مخالف کی سازشوں اور منفی حربوں کا حکمت عملی، دانش مندی اور مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو دیکھتے ہوئے مقابلہ کیا حکمرانی کا خدمت کا ذریعہ اور خداکی طرف سے عطا کردہ امانت قرار دیا اور اس کی ایسے ہی حفاظت کی جس طرح خدا کی امانتوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔ان کے اقوال و فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے  مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ  ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جب  ہم امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شہادت کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو امیر المومنینؑ کی ذات اور جسم سے دشمنی نہیں تھی بلکہ ان کی فکر اور اصلاحات سے عدوات تھی جو کہ علی ابن ابی طالبؑ نے سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی میدانوں میں کی تھیں۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ امیر المومنینؑ کی شہادت ایک شخص یا فرد کی نہیں ایک سوچ‘ فکر اور نظریے کی شہادت ہے۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل بھی شفاف، منصفانہ، عادلانہ اور غیر متنازعہ نظام حکومت میں مضمر ہے جس میں امیر المومنین ؑ کے مثالی دور کے اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے ظلم کا نام ونشان مٹایا جائے، ناانصافی اور تجاوز کا خاتمہ کیا جائے۔تمام شہریوں کو ان کے بنیادی، انسانی،مذہبی اور شہری و آئینی حقوق دستیاب ہوں۔ طبقاتی تقسیم اور تفریق کی بجائے مساوات کا نظام رائج ہو۔ اتحادووحدت اور اخوت ورواداری کا عملی مظاہرہ ہو۔دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ پرستی، جنونیت اور فرقہ وارانہ منافرت کا وجودہی باقی نہ ہو۔امن،خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ معاشی نظام قابل تقلید ہو اور معاشرتی سطح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اتنی بلند ہوجائے کہ دنیا کے دوسرے معاشرے اس کی پیروی کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here