مسلح یلغار سے ثقافتی یلغار تک تشیع پاکستان کی مرحلہ وار بے نظیر استقامت ابو محسن

👈1-پہلا مرحلہ(First Phase)مسلح یلغار
گذشتہ چالیس سال کے ذاتی تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں تشیع کو دو مختلف محاذوں پر شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔ 🔺ان میں سے ایک عزاداری ہے ، اس محور اور محاذ پر پہلے مرحلے میں ہمارے دشمن کا  ہدف یہ  تھا کہ تشیع مکمل طور پر اس سے عقب نشینی اختیار کرلے لیکن تشیع کی  بے نظیر استقامت کی بنیاد پر  دشمن نے  پسپائی اختیار کرتے ہوئے  عزاداری کو گھروں  اور بالآخر امام بارگاہوں تک محدود کرنے کا  مطالبہ شروع کردیا لیکن علمائے کرام  نے مضبوط اور صحیح موقف اختیار کرتے ہوئے  عزاداری کو تشیع کی  شہ رگ حیات   قرار دیتے ہوئے کسی معمولی نوعیت کی عقب نشینی سے بھی  انکار کر کے دشمن کے خواب کو  چکنا چور کر  دیا
دشمن آئے دن بم دھماکوں  اور خودکش حملوں کے ذریعے  عزاداران سید الشہداء ع کے قتل و غارت میں مصروف رہ کر  یہ امید باندھےبیٹھا تھا کہ اس قتل وغارت سے  عزاداری کے سلسلہ کو روکا جا سکتا ہے زمانہ اور تاریخ گواہ ہے  کہ ہزاروں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ھوئیں ،معصوم اور انتہائی قیمتی جانیں قربان ہوئیں لیکن اس کے باوجود نہ فقط یہ کہ عزاداری کا یہ سلسلہ روکا نہیںجا سکا بلکہ اتنا پھلا پھولا  کہ شاید دشمن نے اس کا تصور بھی نہ کیا تھا ۔
فروغ عزاداری کی کیا وجوہات ہیں  ، یہ سلسلہ رکنے کے بجائے کیوں پھلتا  پھولتا  گیا یہ ایک علیحدہ اور مستقل بنیادوں پر تجزیہ طلب گفتگو ہے۔
اس مرحلے میں علما کی بنیادی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ،سب سے اہم اور بنیادی کردار عام مومنین کا تھا کیونکہ دشمن کے ہدف کا حصول عام مومنین کے ذریعے  ھی ممکن تھا اور انہوں نے تاریخ تشیع کی بے نظیر قربانیاں دے کر دشمن کو پسپائی پر مجبور کردیاجس کی داد دینے کے بجائےاور تو اور  ہمارے  کچھ اہل علم نے  بھی  مختلف بنیادیں بنا کر انہیں کوسنا اپنی ذمہ داری بنا لیا
بہرحال دشمن کو اس انداز میں اپنے اہداف اورمقاصد حاصل ہوتے ہوئے نظر نہ آئے۔
🔺🔺دوسرا محوریا محاذ جس کو بہانہ بنا کر دشمن حملہ آور ہوا وہ “احترام صحابہ” کا عنوان تھا ،اس عنوان کو  ایک خاص ہوشیاری  کے ساتھ منتخب کیا گیا تھا کیوں کہ اس عنوان کی من مانی تفسیر کے ذریعے اس محور پر تمام فرقوں کو تشیع   کے مقابلے میں اکٹھا کیا جا سکتا تھا اور عملی طور پر ایسا ہی ہوا اور اس موضوع کو بہانہ بنا کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا اور باقی افراد عام طور پر خاموش تماشائی بنے رہے اور کوئی خاص کردار ادا نہ کیا،سپاہ صحابہ ،لشکرصحابہ جیسے عناوین کے ذریعے عام افراد کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں کی گئیں اس محاذ پر بھی کامیابی کے لیے  نشانہ عام مومنین ھی تھےدشمن کو اس محاذ پر بھی مسلحانہ انداز ،خاطر خواہ کامیابی کا مؤثر وسیلہ نظر نہ آیا

👈2-دوسرا مرحلہ(Second Phase)ثقافتی یلغار

یلغار کا سلسلہ جاری و ساری ہے۰صرف دشمن کے انداز میں گذشتہ کچھ عرصے سے تبدیلی آئی ہےمسلحانہ رویے نے ثقافتی رخ اختیار کر لیا ہے اور پہلے کی طرح ہر دو محور پھر بھی بھرپور توجہ کا مرکز ہیں۔
🔺عزاداری،شیعی معارف یا معارف اھلبیت ع کی نشر و اشاعت کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور مکتب اھلبیت ع میں عزاداری پر تاکید کی ایک بنیادی وجہ بھی عزاداری کا ایک عظیم درسگاہ ہونا ہی ہے۰
لہذا اس درسگاہ اور ان معارف کے آب زلال کو گدلا کرنے کیلئیے اتنا کافی ہے کہ اسکےسرچشمے کو آلودہ کر دیا جائے۰اسی کا نام ثقافتی یلغار( Cultural attack)ہے۰جس کے ذریعے خالص معارف اھلبیت ع کو غلو و تقصیر کے ذریعے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تا کہ عزاداری کو اندرونی طور پر تہی(empty)کیا جا سکے۰اور یہ کام زیادہ تراھل منبر کے ذریعے ہی کیا جا رہا ہے۔
🌺اس نوع کی یلغار کا مقابلہ گذشتہ مرحلے کی مانند عمدتا عام مومنین کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ عقلاء قوم(elites) کی ذمہ داری ہے ۰اس کے لئیے ایک بڑے لائحہ عمل(Grand Strategy)کی ضرورت ہے۰بذات خود، عقلاء قوم کیلئیے علمی مباحث کاشفاف صورت میں حل ہونا اس پروگرام کا ایک ضروری حصہ ہونا چاہیے۰سیاسی،سماجی ، تعلیمی ،تربیتی اورنفسیاتی ماہرین کی مذہبی بنیادوں پر تربیت اور ان سے استفادہ بھی اس پروگرام کا ایک دوسرا ضروری پہلو ہے۰
البتہ واضح سی بات ہے کہ اس امر کے لئیے طویل المدت(Long Term) راه حل(solutions)کے ساتھ ساتھ قلیل المدت(Short Term)راہ حل بھی ضروری ہیں۰
🔺🔺گذشتہ پہلے مرحلے میں صحابہ کرام کی گستاخی اور توھین کا موضوع عام آدمی کے لئیے اتنا شفاف نہیں تھا اس نئےمرحلے میں بھی قرائن اور شواھدکی بنیاد پر اس موضوع کو مبہم اور غیر شفاف صورت میں مختلف عمومی محافل میں پیش کر کے حمایت یا واضح مخالفت کی صورت میں جواب مانگا جاتا ہے۰سوال اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسا کہ مدمقابل ہی تمام مذہبی منافرتوں کی بنیاد ہے۰اور اگر وہ ان کے زعم کے مطابق راہ راست پرآ جائے تو ساری مشکلات ہی حل ہو جائیں گی اور ان میں باہمی مذہبی منافرت کی کوئی بنیاد ہی باقی نہیں رہے گی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ مسئالہ ان کی پسند کے مطابق حل ہو بھی جائے تو یہ ان کی باہمی مذہبی منافرت کا نقطہ آغاز ہو گا۰
بہرحال احترام صحابہ کے سلسلے میں آپ کا جواب دو صورتوں سے خالی نہیں ہو گا اگر جواب منفی ہو تو اس صورت میں آپ مذہبی منافرت کی بنیاد سمجھے جائیں گے اور معاشرے میں ایک نامطلوب اور ناپسندیدہ عنصر کے طور پر پہچانے جائیں گے
اور اگر جواب مثبت ہو تو اس کی بنیاد پر اس حوالے سے نئے ضروری قوانین بنائے جانےکا تقاضا بڑھنے اور پہلے سے موجود قوانین میں مزید سختی لانے کےمطالبہ کا امکان پایا جاتا ہے
بنابر این اگر دیکھا جائے تو یہ محور بھی ایک ثقافتی روپ اختیار کر گیا ہے جس کے لئیے سب سے اھم کردار پھر خواص(elites)ہی کا ہے۰
یاد رہے کہ اس مرحلے میں یہ محور ایک پیچیدہ شکل میں سامنے آیا ہے۰چونکہ پہلے مرحلے کے برعکس اس مرحلے میں اس رویے نے تقریباایک مدلل رویے(Justified Behaviour)کا روپ دھار لیا ہے۰اور عام لوگوں کے اذہان کو قانع (satisfy)کرنے کے لئیے شرائط (ground)فراہم کرتا ہے لہذا یہ مرحلہ بہت زیادہ غور طلب راہ حل کا محتاج ہے
مزید یہ کہ اس محور کے بارے میں طے پانے والا راہ حل ،عزاداری کے محور پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے لہذا اس بارے میںکس بھی قسم کی خطا ،عزاداری میں ان ناقابل قبول محدودیتوں (Limitations)کی معقولیت(Reasonability)کا سبب بن سکتی ہے جو ہم نے بے پناہ قربانیاں دے کر بھی قبول نہیں کی تھیں.
🌺🌺اس مسئالے کے حل کے لئیے سب سے پہلا مرحلہ احترام صحابہ کرام کے مفہوم(concept)کی شفافیت(clearance)ہے۰یہ مسئالہ بظاہر بہت سادہ نظر آتا ہے لیکن اصل مسئالے کے حل کے لئیے ایک کلید کی حیثیت رکھتا ہے اور مدمقابل اسی ابہام سے غلط فائدہ اٹھاتا ہے۰سب سے بڑھ کر اس کی ضرورت اس لئیے بھی ہے کہ عام افراد کے لئیے یہ مفہوم واضح نہیں ہے ۔
مسئالہ یہ ہے کہ کیا “گالی گلوچ،تحقیر آمیز اور نازیبا کلمات کے استعمال “سے ہٹ کر “علمی اور روش مند(methodologic) انداز میں تنقیدی گفتگو اور مکتبی عقائد اور نظریات کی تبیین(explaination) “کی غرض سے “تاریخی ناقابل انکار حقائق کا بیان” بھی اس احترام کے زمرے میں آتا ہے؟
بلکہ اس سے بڑھ کر کیا احترام صحابہ کی غرض سے ان کے فضائل و مناقب بیان کئیے جائیں؟شاید بعض قارئین محترم کی لئیے یہ آخری سوال تعجب کا باعث بنے لیکن گذشتہ ایام کی بعض محفلیں اس بات کی گواہ ہیں کہ جن میں احترام صحابہ کے اثبات کے لئیے فضائل صحابہ کے بیان کا تقاضا بھی کیا گیا ہے
میرے خیال میں اس مسئالے کو فرقہ واریت پھیلانے کے وسیلے کے طور پر ھمیشہ ہی استعمال کیا جاتا رہے گا لہذا اس کے غیرواقعی جوابات(fake answers)کے بجائے معقول (reasonable)اور منطقی(logical) راہ حل پیش کرنے کی ضرورت ہے اور موجودہ فرصت سے اس امر کے لئیے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہئیے۰
بنابر این یہ کہنا کہ “امیرالمومنین ع کے فضائل ہی اتنے ہیں کہ بار ہی نہیں آتی “یا پھر یہ کہ “عوام دوسروں کے فضائل سننے کے لئیے تیار ہی نہیں ہوتے”،کوئی معقول رویہ نہیں ہے۰کیا اگر بار آ جائے تو فضائل پڑھیں گے؟کیا عوام اگر راہ راست پر آ جائے اور سننے کے لئیے تیار ہو جائے تو سنائیں گے؟یا اگر ڈیمانڈ کرنے افراد خود ایسی مطلوبہ فضا فراہم کر دیں تو مناقب پڑھنے کو تیار ہیں؟
لہذا یہ رویہ قابل قبول نہیں بلکہ شفاف انداز میں اس مفہوم سے مراد کا مطالبہ مدمقابل سے کرنا چاہئیے۰
اگر تو مراد یہ ہو کہ اصحاب کےبارے میں غیراخلاقی اور نازیبا کلمات کا استعمال نہ کیا جائے تو یہ ایک معقول مطالبہ ہے اور کسی بھی متمدن فرد کو اس سے انکار نہیں کرنا چاہئیے سیاسی نظم و نسق اور اجتماعی تعاملات کا تقاضا بھی یہی ہے۰
اگر مراد یہ ہے کہ تاریخ اسلام سے متعلقہ حقائق کو بیان نہ کیا جائے یا صرف ان حقائق کو بیان کیا جائے جو آپ کے لئیے قابل قبول ہیں تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے پہلی صورت (تاریخی حقائق کو بیان نہ کیا جائے)میں آپ اپنے ہی نظریے(اصحاب کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم)کی بنیاد پر تاریخی حقائق کی روشنی میں ہمیں اپنے “مقتدی “کے انتخاب اور دوسروں کے لئیے اپنے اس انتخاب کے دلائل کو بیان کرنے سے نہیں روک سکتےچونکہ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کو اپنا”مقتدی”انتخاب کرنے کا حق حاصل ہے۔اسی طرح اس انتخاب کے دلائل بیان کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔
دوسری صورت (آپ صرف ان حقائق کو بیان کر سکتے ہیں جو مقابل کیلئیے قابل قبول ہوں)کا سادہ لفظوں میں مطلب یہ ہےکہ تشیع اپنی مکتبی شناخت کو پس پشت ڈال دے یقینا یہ مطالبہ نہ ہی منطقی ہے اور نہ ہی کوئی معقول انسان اسے قبول کر سکتا ہے اور ہر مکتب کو اپنے نظریات کی تبیینexplaination)اور دوسروں کے مقابل میں اپنے مکتب کے دفاع کرنے(defend)کرنے کا حق حاصل ہے اس وظیفے کی انجام دہی کا دارومدار تاریخی حقائق(historical facts)کے بیان پر ہے۰ لہذا ان حقائق کا بیان مکمل طور پر منطقی اور معقول مطالبہ ہے۔
اس معقول اور منطقی مطالبے کا دفاع ایک ناگزیر امر ہے لیکن اس کے اثبات کےلئیے سنجیدہ اور علمی ماحول اور افراد کی ضرورت ہے۰
حقیر کی نظر میں اسی انداز میں اتحاد بین المسلمین کے اصول کی پاسداری بھی کی جا سکتی ہے اور مکتبی شناخت(identity)کو بهی برقرار رکها جا سکتا هے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here