اسرائیل کی خوشامد لاحاصل ہے، عرب ممالک ذلت و رسوائی کا انتظار کریں: سربراہ انصار اللہ

المشہد الیمنی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یمنی ذرائع نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی یمن کے جزیرہ سقطری میں منصور ہادی سے وابستہ سعودی عرب کے فوجیوں اور جنوبی یمن میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ عبوری کونسل کے مسلح گروہوں کے درمیان  ہونے والی جھڑپوں میں مختلف قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہو گئیں جب جنوبی یمن کی عبوری کونسل کے مسلح گروہوں نے صوبے سقطری کے صدر مقام حدیبو میں قائم چیک پوسٹوں کو آر پی جی سے اڑا دیا۔

متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں نے جمعرات کے روز حدیبو سے سعودی عرب کے فوجیوں کی پسپائی کے بعد اس شہر کا محاصرہ بھی کر لیا۔ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوب کی عبوری کونسل نے اپریل کے آخری ایام میں عدن اور جنوبی یمن کے مختلف صوبوں میں ہنگامی حالت اور ان صوبوں کی خودمختاری کا اعلان کر دیا تھا۔

اقوام متحدہ نے جنوبی یمن میں ان دونوں فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے  کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جنگ پسندانہ اقدامات سے امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کا مقصد ہر سطح پر امت مسلمہ کو کمزور کرنا ہے۔ المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبد الملک بدر الدین الحوثی نے استکبار کے خلاف آواز اٹھائے جانے کے قومی دن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران غاصب صیہونی حکومت نے فلسطینی عوام کے خلاف اپنے جارحانہ اور ظالمانہ اقدامات مزید سخت کر دیئے ہیں اور مسلمانان عالم کو غاصب صیہونی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھنا چاہئے۔

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبد الملک بدر الدین الحوثی نے غاصب صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے بعض عرب ملکوں خاص طور سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک اس بات کو نہیں سمجھتے کہ غاصب صیہونی حکومت کی خوشامد کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور انہیں مستقبل میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here