متحدہ علماء بورڈ نے تمام مکاتبِ فکر کے علما، خطباء، ذاکرین اور واعظین کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔

متحدہ علماء بورڈ نے تمام مکاتبِ فکر کے علما، خطباء، ذاکرین اور واعظین کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کیخلاف ہر قسم کی فتویٰ بازی کو روکا جائے گا، انتشار اور فساد پھیلانے والے فتویٰ بازوں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے گی۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف قرآن اینڈ سیرت سٹڈیز لاہور میں چیئرمین متحدہ علماء بورڈ پنجاب حافظ طاہر اشرفی نے متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی۔
 
علماء میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، علامہ محمد حسین اکبر،مولانا حافظ کاظم رضا نقوی مولانا باقر ڈھلوں حافظ زبیر احمد ظہیر، پیر محفوظ مشہدی، مولانا محمد خان لغاری، علامہ ضیاء الحق نقشبندی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، مولانا عبدالوہاب روپڑی، علامہ ذاکر الرحمٰن، علامہ عبدالحق مجاہد، ، مولانا محمد عثمان قادری، ڈاکٹر سرفراز اعوان، مولانا سعداللہ شفیق، مولانا اسد اللہ فاروقی، علامہ زبیر عابد، مولانا عثمان بیگ فاروقی، مولانا محمد رفیق جامی، مولانا شفیع قاسمی، قاسم علی قاسمی اور دیگر علماء و مشائخ شامل تھے۔
 
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ، ذاکرین اور واعظین سے مشترکہ ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی فرد، جماعت یا گروہ کو وطن عزیز میں انتشار پیدا کرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد پیدا کرنا چاہتی ہیں، باہمی اتحاد سے ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ چیئرمین طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب کے تمام شہروں میں امن کمیٹیوں اور تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام الناس سے اپیل کرتے ہیں کہ اشتعال پھیلانے والے عناصر کی اطلاع مقامی پولیس اور انتظامیہ کو دیں۔

اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا

۔مذہب کے نام پر،دہشتگردی،فرقہ وارنہ تشددقتل و غارت گری کے خلاف اسلام ہے تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے اظہار برائت کرتی ہے
کوئی مقرر ،واعظ ،ذاکر اپنی تقریر میں،انبیاء کرام،اہلبیت اطہارؑ،اصحاب رسول،خلفاء راشدین ،ازدواج مطہرات ،آئمہااطہار اور امام مہدیؑ کی توہین نہ کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتب اس سے اظہار برائت کرتے ہیں
۔کسی بھی اسلای فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم و غیر مسلم کو مورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مسالک و مذاہب کے لوگ اپنی ذاتی زندگی گزاریں
۔شر انگیز اور دل آزار کتابوں ،پمفلٹوں،تحریروں کی اشاعت ،تقسیم و ترمیل نہ ہو ،اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔دل آزار اور نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اجتناب کیا جائے گا اور آئمہ ،فقہ،مجہتدین کا احترام کیا جائے اور ان کی توہین نہ کی جائے
۔عوامی سطح پر مشرکہ اجلاس منعقد کرکے ای دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا
۔پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں،لہذا شریعت اسلامیہ کی رو سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں،ان کے مقدسات اور ان کی جان و مال کا تحفظ بھی مسلمانوں اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ،لہذا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں،ان کے مقدسات اور ان کے جان و مال کی توہین کرنے والوں سے بھی سختی کے ساتھ حکومت کو نمٹنا چاہئے
۔حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفریق عمل کرائے
۔شریعت اسلامیہ میںفتوی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے ،قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتوی ہی معتبر ہوگا،قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف دیئے جانے والے فتووں پر فوری ایکشن لیا جائے گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here