امریکی پولیس کے مطابق ریاست کنٹیکی کے شہر لوئس ویل میں نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر نا معلوم شخص نے فائرنگ کردی ہے جس میں کم سے کم ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حامی تھا اور اس نے بلا اشتعال فائرنگ کی ہے۔

امریکی پولیس فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ادھر ریاست کلراڈو میں بھی سیکڑوں افراد نے مظاہرہ کر کے پولیس کی حراست میں ایک سیاہ فام لڑکی کی مشکوک ہلاکت کے خلاف مظاہرہ اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سی این این کے مطابق سیاہ فام لڑکی کو ایک شاپنگ مال سے واپسی پر اسحلہ رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا اور حراست کے دوران اس کی حالت بگڑنے پر اسپتال لے جایا جا رہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔

دوسری جانب نسل پرستی اور نا انصافیوں اور پولیس تشدد کے خلاف ملک گیر مظاہروں میں شدت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جلے پر تیل کا کام کرتے ہوئے کچھ تصویروں کے ساتھ متعدد ٹوئٹ کیے ہیں جن میں مخاطبین سے کہا گیا ہے کہ وہ سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والوں کی شناخت میں تعاون کریں۔

ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی اپنے ٹوئٹ میں دعوی کیا تھا کہ بلوائیوں، آگ لگانے، لاقانونیت پھیلانے اور لوٹ مار کرنے والوں پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

درایں اثنا ریاست میسی سی پی کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں نے ریاستی پرچم تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایوان کے ارکان نے ریاستی پرچم کو نسل پرستی کی علامت قرار دیتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا بل پیش کیا تھا، جسے چونتس کے مقابلے میں پچاسی ووٹوں سے منظوری دی گئی۔

ریاستی سینیٹ کے ارکان نے بھی نسل پرستی کی نشانی سمجھے جانے والے پرچم کی تبدیلی کے لیے ایوان کے پاس کردہ بل کو چھتیس ووٹوں سے منظور کر دیا جبکہ مخالفت میں صرف چودہ ووٹ پڑے۔

ایک اور اطلاع کے مطابق پرنسٹن یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پبلک ایڈمن کالج کی مرکزی عمارت کے دروازے پر تحریر” امریکہ کے آٹھویں نسل پرست صدر ووڈ رو ولسن کا نام ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نسل پرستانہ رحجانات کی وجہ سے ولسن کا نام اس یونیورسٹی کے لیے مناسب نہیں ہے۔

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئڈ کے قتل کے بعد سے ریاست منے سوٹا کے شہر منیاپولس سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں پچھلے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے نسل پرستی اور پولیس کے تشدد کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here