امام رضا ؑ کا مقدس خانوادہ کسی بھ تعارف کا محتاج نہیں ولادت امام رضا پر قائد ملت کا پیغام

راولپنڈی/اسلام آباد 3جولائی 2020ء(     جعفریہ پریس پاکستان         )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے آٹھویں امام حضرت علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پرکہا کہ آپ کا مبارک اور مقدس خانوادہ عالم کیلئے کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔آپ رضاؑ کے لقب سے مشہورتھے ۔ آپ علم میں شہرت کی وجہ سے رضا کے ساتھ ساتھ آ پ کو عالم آل محمد کے نام سے بھی شہرت حاصل ہوئی۔ امام رضا ؑ اپنے آباﺅ اجداد کی طرح بے شمار اوصاف حمیدہ کے مالک تھے، معاشرے کا ہر عام و خاص معترف تھا۔آپ کا علم ،سخاوت ،فصاحت و بلاغت زہد و تقویٰ اور مہربان ہونا زیادہ مقبول عام تھا۔ اس لیے آپ کا ایک لقب اما م روﺅف تھا جو دوسرے القابات میں سے نسبتا ً زیادہ معروف ہوگیا تھا۔ امام نے اپنے اباﺅ اجداد کی طرح اپنی ساری زندگی انسانیت کی ہدایت کیلئے وقف کی ہوئی تھی۔ بشریت کی ہدایت کیلئے کوئی بھی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے تھے۔ امت مسلمہ کے اتحاد و وحدت کے حوالے سے امام کی رہنمائی بھی اس زمانے میں زبان زدہ عام و خاص تھی۔اُمت مسلمہ کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھنے اور ملت کا شیرازہ بکھرنے سے بچانے کیلئے بے پناہ خدمات انجام دیں۔ امام نے بشریت کی ہدایت کیلئے کئی سفر انجام دیئے تاکہ پیغام الہی ان تک پہنچایا جاسکے۔ امام کو امت مسلمہ کے مصلحت کی خاطر خلیفہ وقت کی ولی عہدی بھی قبول کرنا پڑی جس کاایک تاریخی پس منظر ہے جو اپنے مقام پر قابل مطالعہ ہے۔اس طرح امام ؑ نے امت مسلمہ میں انتشارپیدا نہ ہونے دیا۔امام نے جو متعدد سفر اختیار کیے ان سے ایک مشہور سفر مدینہ منورہ سے خراسان تک تھا۔ اس راستے میں نیشا پور کے مقام پر عوام کے ایک جم غفیر سے خطاب فرماتے ہوئے ایک حدیث رسول کو بیان فرمایاجس کے تمام راوی آئمہ اطہار ہیںیہ سلسلہ رسول اللہ تک پہنچتا ہے اور بذریعہ جبرائیل خداوند تعالی تک پہنچتا ہے۔ اسی لئے اس حدیث کو سلسہ الذہب یعنی (سونے کی زنجیر)کہا جاتا ہے ۔اس حدیث میں امام نے فرمایا کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا الہ الا اللہ میرا قلعہ ہے۔ جو اس قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہوگیا امام نے اپنے زمانے میں مختلف مذاہب کے علماءکے ساتھ علمی مناظرے کیے۔ جس سے امام کی اعلمیت اور اسلام کی حقانیت مخالفین تک واضح ہوگئی۔ امام کے مناظروں میں سے سلمان مروضی ،ابوقرہ ،جاثلیق ،راس الجالوت ، عالم زر دشتی اور عمران صابی کے مناظرے مشہور ہیں۔ ان مناظروں میں امام نے ہمیشہ اسلام کو مزید سربلندی عطا فرمائی۔ آج کے اس دور میں بھی ہمیں امام کی نورانی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات پرغور کرنا ہوگا کہ آج کل امت مسلمہ کو درپیش مسائل میں باہمی ہم آہنگی ، اخوت اور بھائی چارے ، اتحاد و وحدت کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے مزید کوشاں رہنا چاہیئے نیز اسلام اور مسلمین کی سربلندی کیلئے علمی میدانوں کے علاوہ دیگر میدانوں میں بھی بھرپور علمی کوشش کرنی چاہیئے ۔ تاکہ اپنے درخشاں ماضی کی طرح اپنے حال اور مستقبل کو بہتر بنا کر اقوام عالم کے سامنے ایک رول ماڈل پیش کرسکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here