پنجاب کے تحفظِ بنیادِ اسلام متنازعہ ایکٹ کو یکسر مستر د کرتے ہیں ، علامہ عارف واحدی
پنجاب کے تحفظِ بنیادِ اسلام متنازعہ ایکٹ کو یکسر مستر د کرتے ہیں ، علامہ عارف واحدی

پنجاب کے تحفظِ بنیادِ اسلام متنازعہ ایکٹ کو یکسر مستر د کرتے ہیں ، علامہ عارف واحدی
ملک میں پہلے سے موجود قوانین پر عملد رآمد کی ضرورت، نئے قوانین کی ضرورت نہیں ، مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
یہ کوئی تاریخی اقدام نہیں بلکہ تاریکی اقدام ہے ، گورنر پنجاب اس بل پر دستخط سے گریز کریں تاکہ ملک میں انتشار نہ پھیلے ۔
حساس معاملہ پر تمام مسالک کے علماءکرام سے مشاورت نہیں کی گئی ، تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ پر تحفظات ہیں ، جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
عوام میں پیدا ہونے والے اس تاثر کو ختم کیا جائے کہ منصوبہ بندی کےساتھ مخصوص طرز فکر کے حامل تکفیری گروہ کے ایجنڈے کی تکمیل اور انکی تقویت کےلئے ایسا ہورہاہے
راولپنڈ ی /اسلام آباد24جولائی 2020ء( جعفریہ پریس پاکستان   ) شیعہ علما ءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کہتے ہیں کہ ہم پنجاب کے تحفظِ بنیادِ اسلام متنازعہ ایکٹ کو یکسر مستر د کرتے ہیں،محرم الحرام سے ایک ماہ قبل ایسا متنازعہ بل ملک میں بے چینی پھیلانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے ، انہوں نے کہاکہ ملک میں پہلے سے موجود قوانین جن میں خدا وند کریم سمیت تما م مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس ،خاتم النبین حضرت محمد ، تمام انبیائے کرام ؑ، آسمانی کتب ، فرشتوں ،اہلبیت اطہار ؑ ، امہات المومنینؓ ، اصحاب ؓرسول شامل ہیں کی توہین پر عملد رآمدکی ضرورت ہے نئے قوانین کی ضرورت نہیں ،اس حساس معاملہ پر تمام مسالک کے علماءکرام سے مشاورت نہیں کی گئی ۔ انہوںنے کہا کہ تحفظ ِبنیادِ اسلام ایکٹ پر ہمارے تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے ، اگرحکومت نے اس متنازعہ بل کو ختم نہ کیا تو جلد اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت عوام میں پیدا ہونے والے اس تاثر کو فوراً ختم کرے کہ منصوبہ بندی کےساتھ مخصوص طرز فکر رکھنے والے تکفیری گروہ کے ایجنڈے کی تکمیل اور ان کی تقویت کےلئے یہ سب کچھ کیا گیا ہے ۔ علامہ عارف واحدی نے مزید کہا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ، ق لیگ کی سپیکر شپ اور بعض مشخص مذہبی گروپوں کے گٹھ جوڑ سے پنجاب تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ 2020ءمیں بہت سی ناروا باتیں کی گئی جو تاریخی متنازعہ مسائل میں غیر ضروری مداخلت اور سزاﺅں میں بے جا اضافہ انتشار پیدا کر نے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کے مترادف ہے اس ایکٹ میں بعض انتہائی قابل اعتراض امور موجود ہیں علاوہ ازیں تجربے سے ثابت ہے کہ ایسے قوانین کا غلط استعمال ہو تا ہے ۔ایکٹ کو تحفظ ِ بنیادِ اسلام کا نام دے کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی گئی یہ کوئی تاریخی اقدام نہیں بلکہ تاریکی اقدام ہے ، گورنر پنجاب اس بل پر دستخط سے گریز کریں تاکہ ملک میں انتشار نہ پھیلے ۔آخر میں علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری شیعہ علما ءکونسل پاکستان نے کہا کہ یہ ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ہے جسے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنی مثبت پالیسیوں کے باعث ناکام بنایا اور قائد ملت جعفریہ نے ہمیشہ ملک میں اتحاد و حدت کا درس دیا اور فرقہ واریت کی روک تھا م کیلئے عملی اقدامات کئے۔ علامہ عارف واحدی نے گورنر پنجاب کو خصوصی طور پر متوجہ کیا کہ وہ بل پر دستخط کرنے سے گریز کریں تاکہ ملک انتشار سے محفوظ رہ سکےاگر ایسا نہ ہو ا تو پُر امن ماحول کے خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پنجاب پر عائد ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here