حضرت ابوذرغفاری کا شمار عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
امیر المومینؑ و سیدہ فاطمہؑ نے زندگی گزارنے کے رہنما اصول فراہم کئے روز عقد کے حوالے سے پیغام

 حضرت ابوذرغفاری کا شمار عظیم المرتبت صحابہ میں ہوتا ہے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

 جناب ابوذرغفاری کے نظریات اور افکار انتہائی پختہ تھے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اطاعت پیغمبر اور محت آل پیغمبر میں گزاری، قائد ملت جعفریہ

ابو زر غفاری کی عظمت کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ حضرت حسنینؑ چچا کہہ کر پکارتے تھے،آپ نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا۔

راولپنڈی /اسلام آباد۔ 26 جولائی 2020 ئ(  جعفریہ پریس پاکستان  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5ذالحجہ صحابی رسول اکرم حضرت جندب ابن جنادہ ابوذرغفاری کے یوم وفات پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جناب ابوذرغفاری کے نظریات اور افکار اتنے پختہ تھے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اطاعت پیغمبر اور آل پیغمبر میں گزاری وہ اپنی مثال آپ تھے اور حضرت ابو زر غفاری کی عظمت کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ سردار ان جنت حضرت حسنین ؑ کریمین آپ کو چچا کہہ کر پکارتے تھے،آپ نے حق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا۔ علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا حضرت ابو زر غفاری دین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوکر خود خدمت پیغمبر اکرم کے پاس آکرا سلام قبول کیا اور انکی قدم بوسی کرکے انہوں نے رسول خدا کی قدر و منزلت اور فضلیت و مقام کو سب پر واضح اور آشکار کیا اور اسی پاداش میں مختلف قبائل کی جانب سے ظلم و تشدد کی طویل اور صبر آزما صعوبتیں تو برداشت کیں لیکن پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ اعلان رسالت کے بعد اولین ایام میں جن مصائب و مشکلات سے مسلمان دوچار رہے ان کا جرات و بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرنے والوں اور ختمی مرتبت کی حیات طیبہ میں ان کا دفاع و تحفظ اور ان کے رحلت کے بعد حق و صداقت کا علم بلند کرنے والوں میں حضرت ابو ذر غفاری پیش پیش رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت ابوذر غفاری کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ علم و کمال کے سبب بے شمار احادیث نبوی کے راوی قرار پائے‘ ان کی عقیدت و وابستگی اور وفاشعاری کی بدولت رسالت کی جانب سے انہیں یہ سند امتیاز عطا ہوئی کہ ”زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر اٹھایا نہیں اور آسمان نے اس پہ سایہ نہیں کیا جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو“۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ پیغبر اکرم کی قربت کی وجہ سے پختہ نظریات کے حامل تھے ، سرمایہ داری کے حوالے سے وہ ایک خاص نقطہ نگاہ کے قائل تھے ،کسی محل کے گرد چکر لگا یا کرتے تھے اور ایک پڑھتے رہتے جس کا ترجمہ یہ کہ ”اور جو لوگ سونا چاندی ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے انہیں در دناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ جس روزوہ مال آتش جہنم میں تپایا جائےگااس اسی سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پشتیں داغی جائیں گی (اور ان سے کہا جائےگا) یہ ہے وہ مال جو تم نے اپنے لئے ذخیرہ کر رکھ رکھا تھا لہذا اب اسے چکھ جسے تم جمع کیا کرتے تھے۔ سورة توبہ آیت 34/35“جن سے ان کے نظریات پر اسلامی سکالرو ں نے متعدد کتابیں لکھیں ان میں سے ایک کتاب الاشتراکی الزاہد” سوشلسٹ پر ہیزگار“کے نام سے بھی شائع ہوئی ان کے نظریات کیلئے ان کتب سے بھی استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت ابوذرغفاری کوحق و صداقت کی راہ میں لاتعداد مشکلات جن میں سماجی بائیکاٹ ‘ ظلم و ستم حتی کہ کئی بار جلاوطنی جیسے مصائب جھیلنے پڑے اور اسی جلاوطنی کے دوران کمسن دختر کے ہمراہ ربذہ کے مقام پر عالم مسافرت میں جان آفرین کے سپرد کردی اور آج بھی اس عظیم المرتبت صحابی رسول کو جلاوطن کرکے جس خطہ میں بھیجا گیا وہاں کے لوگ سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کاروں کے مظالم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here