تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ پنجاب اعلامیہ دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان

اعلامیہ
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی رہنمائی سے
استفادہ کرتے ہوئے تحریر ہے:۔
”پنجاب تحفظ بنیاد اسلام ایکٹ 2020“ کا نام نا مناسب ہے جبکہ اس میں درج اکثر امورتہذیبی اقدار اور فقہی آداب میں سے ہیں ۔
پنجاب اسمبلی کے ممبران کو بریفنگ اور بحث کا موقع دیئے بغیر جس عجلت سے یہ بل پاس کرایا گیا یہ پارلیمانی روایات کے خلاف اور مشکوک ہے۔ایسی بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھاکرتی۔
یہ بل آئین پاکستان کے آرٹیکلز19،20اور 227سے متصادم ہے نیز بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔لہٰذا پہلے سے قوانین کی موجودگی میں ایک صوبائی اسمبلی کا ایکٹ منظورکرنا درست عمل نہیں۔
تہذیبی اقدار اور فقہی آداب کے بارے قانون بنانا درست نہیں ۔اقدار و آداب کو مسالک پر چھوڑ دیا جائے وہ اس کو مد نظر رکھ رہے ہیں اور رکھیں گے۔قرآن کی روسے ازواج پیغمبر،امہات المومنین ہیں ان کا احترام کیا جائے توہین نہ کی جائے۔اُم المومنین یا رضی ا۔۔۔عنہا کہنا کسی فقہ کے مطابق لازمی نہیں البتہ آداب میں سے ہے اس کا لحاظ سب رکھتے آ رہے ہیں اور رکھنا چاہیے۔اسے قانون کے دائرے میں محدود نہ کیا جائے۔
متنازعہ تاریخی باتوں کو قانون کا حصہ بنانا انتہائی غیر معقول اور قطعی نامناسب ہے یہ امر نفرتوں کو ابھارنے کے مترادف ہے اس سے نفرتیں بڑھیں گی۔انہیں نفرتوں کو دور کرنے کے لئے دینی جماعتوں نے مشترکات کی بنیاد پرملی یکجہتی کونسل بنائی جو اپنا کردار ادا کررہی ہے۔
متوجہ کر چکے ہیں کہ انتشار کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا موجود قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے ہی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔
آخر میں اپیل ہے کہ بل کے مسئلہ کو فرقہ وارانہ تناظر میں نہ دیکھا جائے اور فرقہ وارانہ رنگ نہ دیاجائے۔ محاذ آرائی اور کشیدگی بڑھانے سے گریزکیا جائے اورملی یکجہتی کو ملحوظ رکھا جائے۔
منجانب: دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here