حضرت ا مام باقرؑ نے مشکلات و مصائب کی پرواہ کیے بغیر پیغام حق کا علم بلند کیا

حضرت ا مام باقرؑ نے مشکلات و مصائب کی پرواہ کیے بغیر پیغام حق کا علم بلند کیا، علامہ ساجد نقوی

امام محمد باقرؑ اُمت کے تمام مکاتب کی نظر میں ممتاز حیثیت رکھتے، بے مثل اور منفرد شخصیت کے مالکتھے، قائد ملت جعفریہ

امام ؑ نے اپنے اوقات کا ایک حصہ قرآنی موضوعات و مباحث کے لئے مختص کر رکھا تھا ،علماءاور عام لوگوں کے سوالات و اعتراضات کا جواب دیتے تھے۔

راولپنڈی /اسلام آباد29 جولائی 2020 ئ( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے7ذی الحج پانچویں امام حضرت امام محمد باقر ؑ کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ محمد بن علیؑ بن حسینؑ بن علی ؑ بن ابی طالب ؑ آپ کا مشہور لقب باقرالعلوم اور آپ کی مدت امامت 19 برس تھی۔ امام محمد باقرؑ اُمت کے تمام مکاتب فکر کی نظر میں ممتاز حیثیت رکھتے، بے مثل اور منفرد شخصیت کے مالک تھے ۔ امام محمد باقرؑ نے طفولت کی زندگی (چار سال تک) اپنے والدین کے اور دادا (امام حسینؑ )کے ساتھ گذاری۔ آپؑ واقعہ عاشورا کے چشم دید گواہ بھی ہیں ، آپ خود ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں”میں چار سالہ تھا جب میرے جدّ امام حسینؑ کو قتل کیا گیا اور مجھے آپؑ کی شہادت بھی اور وہ سارے مصائب بھی یاد ہیں جو ہم پر گذرے“۔اما م محمد باقرؑ نے اپنے زمانے میں اسلام کے فروغ کے لئے مناسب تاریخی حالات کو دیکھتے ہوئے آپ نے عظیم علمی تحریک کا آغاز کیا جو آپ کے فرزند ارجمند امام جعفر ؑ صادق کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچ گئی۔امام ؑ نے اپنے اوقات کا ایک حصہ قرآنی موضوعات و مباحث کے لئے مختص کر رکھا تھا اور تفسیری حلقہ تشکیل دے کر علماءاور عام لوگوں کے سوالات و اعتراضات کا جواب دیتے تھے۔ اُمت کے اکابرین آپؑ کی علمی اور دینی عظمت و شہرت کے معترف ہیں۔، توحید ، قرآن، سنت نبوی، فقہ، اخلاق اور دیگر موضوعات پر آپ سے بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپ نے دور امامت میں،تفسیر ، کلام، فقہ ، اخلاق اور معارف اسلامی موضوعات پرحقیقی نقطہ نظر کو اجاگر کرنے میں انتہائی اہم اقدامات اٹھائے اور اُمت کو درپیش مسائل کے حل میں اہم کر دار ادا کیا ۔ آئمہ اہل بیتؑ کے اعلیٰ و ارفع اور پاکیزہ اہداف و مقاصد میں کوئی فرق نہ تھا بلکہ کاملاً یکسوئی پائی جاتی تھی البتہ ان مقاصد کے حصول کے راستے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف تھے۔ کسی نے راہ صلح، کسی سے راہ قیام، کسی نے ثورة الدموع ا و ر دعا کو کسی نے مسند علم پر بیٹھ کر علوم و فنون کو شگافتہ کر کے باقر العلوم کے لقب کو اپنے ساتھ مخفص کیا ہے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ پیغمبر اکرم نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کو فرمایا کہ ” تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کانام میرے نام پر ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا۔ اس کو میرا سلام کہنا“ اس طرح ا مام حضرت محمد باقر ؑ نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے اپنے پاکیزہ جدِ امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔ انہوں نے مزید کہا انحرافی گروہوں کے خلاف جہد مسلسل اور اپنے اصولوں پر ٹھوس اور دو ٹوک موقف امام محمد باقر ؑ کا خاصہ تھاچناچہ اس راستے میں مشکلات و مصائب کی پرواہ کیے بغیر پیغام حق کے ذریعہ جدوجہد علم بلند کرتے رہے۔ قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ تخصصی انداز سے شاگردوں کی تربیت کی سوچ کے بانی کا نام امام محمد باقر ؑ ہے جس کے ذریعے آپ نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑہ اٹھایا اور سینکڑوں کی تعداد شاگردان تیار کیے۔ آپ کی جدوجہد آپ کی شہاد ت تک جاری رہی۔ امام محمد باقرؑ جنت البقیع میں اپنے والد کے چچا امام حسن مجتبی ؑ اور والد امام زین العابدین ؑ کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here